سیرة النبی ﷺ — Page 192
سورة النصر کا نزول، قرب وصال کی پیشگوئی اور اعلان: فتح مکہ کے بعد سورۃ النصر کا نزول ہوا۔اس سورۃ میں بظاہر عظیم فتوحات کا ذکر ہے لیکن اسی سورۃ میں آنحضور کے قرب وصال کی خبر بھی پنہاں تھی جسکا اظہار خود آنحضور نے بھی فرما دیا تھا۔اس کے متعلق آپ فرماتے ہیں ”دیکھو جب تک کفار مکہ کی مخالفت کا زور و شور رہا اس وقت تک بڑے بڑے اعجاز ظاہر ہوئے لیکن جب إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا (النصر: 2)کا وقت آیا اور یہ سورۃ اتری تو گویا آپ کے انتقال کا وقت قریب آگیا۔فتح مکہ کیا تھی آپ کے انتقال کا ایک مقدمہ تھی“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن] جلد 2 صفحہ 557) حضور نے مندرجہ بالا ارشادات میں سورۃ النصر کو مقدمہ قرب وصال قرار دیا ہے۔روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورۃ حجۃ الوداع سے کچھ عرصہ قبل نازل ہوئی تھی (21) اسی طرح روح البیان میں مذکور ایک روایت کا ترجمہ ہے کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی تو آنحضور صلی للی یکم نے صحابہ کو جمع فرمایا اور فرمایا کہ اب وصال کا وقت قریب ہے۔رحلت سے قبل تکمیل دین: پس یہ آیت بصراحت اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن کا یہی دعویٰ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں تشریف لائے تھے جبکہ تمام دنیا اور تمام قو میں بگڑ چکی تھیں اور مخالف قوموں نے اس دعویٰ کو نہ صرف اپنی خاموشی سے بلکہ اپنے اقراروں سے مان لیا ہے پس اس سے ببداہت نتیجہ نکلا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم در حقیقت ایسے وقت میں آئے تھے جس وقت میں ایک سچے اور کامل نبی کو آنا چاہیئے۔پھر جب ہم دوسرا پہلو دیکھتے ہیں کہ آنجناب صلعم کس وقت واپس بلائے گئے تو قرآن صاف اور صریح طور پر ہمیں خبر دیتا ہے کہ ایسے وقت میں بلانے کا حکم ہوا کہ جب اپنا کام پورا کر چکے تھے یعنی اس وقت کے بعد بلائے گئے جبکہ یہ آیت نازل ہو چکی کہ مسلمانوں کے لئے تعلیم کا مجموعہ کامل ہو گیا اور جو کچھ ضروریات دین میں نازل ہونا تھا وہ سب نازل ہو چکا اور نہ صرف یہی بلکہ یہ بھی خبر دی گئی کہ خدا تعالی کی تائیدیں بھی کمال کو پہنچ گئیں اور جوق در جوق لوگ دین اسلام میں داخل ہو گئے۔192