سیرة النبی ﷺ — Page 157
فرمایا: ”جس طرح ہمارے سید و مولی آنحضرت ملا ل ولم احد کی لڑائی میں مجروح ہوئے تھے اور کئی زخم تلواروں کے پیشانی مبارک پر آنحضرت علی ایم کو آئے تھے اور سر تا پا خون سے آلود ہو گئے تھے اسی طرح بلکہ اس سے بہت کم حضرت عیسی کو صلیب پر زخم آئے تھے “ (ضمیمہ براہین احمدیہ ، روحانی خزائن جلد 21 حاشیہ ، صفحہ 262) آنحضور صلی اللہ ہم بہت بہادر اور عظیم حوصلہ کے انسان تھے۔جس کا اظہار حضور کے مندرجہ بالا ارشادات میں ہوا ہے۔غزوہ احد کی تفصیلات میں بھی آنحضور صلی ایم کی بہادری و دلیری کی داستانیں دلوں کو درود و سلام سے بھر دیتی ہیں۔درہ کی طرف سے خالد بن ولید کے اچانک حملہ سے آنحضور صلی علی کی اپنے چند صحابہ کے ساتھ اکیلے رہ گئے تھے۔اور ان میں سے بھی اکثر شہید ہو گئے یا شدید زخمی ہو چکے تھے۔ایسے موقع پر بھی آپ صلی ا ہم نے گھبراہٹ یا خوف کا کوئی اظہار نہیں فرمایا۔بلکہ نہایت دلیری سے مقابلہ کیا۔بلکہ ایک موقعہ پر جب دشمن نے اپنی فتح کے نعرے لگانے شروع کئے اور ان نعروں میں جب ہبل کی سر بلندی کا نعرہ لگایا تو آپ صلی الی یکم نے نڈھال اور زخموں سے چور ہونے کے باوجود صحابہ کو جو خود بھی بہت قلیل تعداد میں تھے اور تھکے ماندے اور زخموں سے چور تھے حکم دیا کہ اس نعرے کا جواب دو فرمایا کہ نعرہ لگاؤ الله اعلی و اجل۔صحابہ نے بڑے جوش اور بلند آواز میں یہ نعرہ لگایا۔یہ نعرہ لگانا آنحضور صلی تعلیم کی کمال بہادری اور توحید کی خاطر جاشاری کو ظاہر کرتا ہے۔اور اسی طرح صحابہ کی بہادری بھی ظاہر ہوتی ہے۔ایسے خطرے کے مقام پر صحابہ نے جس وفا اور بہادری کا ثبوت دیا وہ بھی عدیم المثال ہے۔صحابہ کا قصور نہ تھا: بعض مورخین کم علمی یا بد نیتی سے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ احد کے میدان میں صحابہ نبی صلی اللہ تم کو اکیلا چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔آپ نے اس اعتراض کو بھی دور فرمایا ہے جیسا کہ فرمایا۔اُحد میں دیکھو کہ تلواروں پر تلواریں پڑتی ہیں۔ایسی گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے کہ صحابہ برداشت نہیں کر سکتے۔مگر یہ مرد میدان سینہ سپر ہو کر لڑ رہا ہے۔اس میں صحابہ کا قصور نہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا بلکہ اس میں بھید یہ تھا کہ تارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت کا نمونہ دکھایا جاوے“ ( ملفوظات [ 2003 ایڈیشن جلد 1 صفحہ 84) 157