سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 153 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 153

”ہمارے سید و مولیٰ سید الرسل حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں ایک سنگریزوں کی مٹھی کفار پر چلائی اور وہ مٹھی کسی دعا کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خود اپنی روحانی طاقت سے چلائی مگر اس مٹھی نے خدائی طاقت دکھلائی اور مخالف کی فوج پر ایسا خارق عادت اُس کا اثر پڑا کہ کوئی ان میں سے ایسانہ رہا کہ جس کی آنکھ پر اس کا اثر نہ پہنچا ہو اور وہ سب اندھوں کی طرح ہو گئے اور ایسی سراسیمگی اور پریشانی ان میں پیدا ہو گئی کہ مدہوشوں کی طرح بھاگنا شروع کیا۔اسی معجزہ کی طرف اللہ جل شانہ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے وَما رَمَيْتَ إِذْ رَمَيتَ وَلَكِن اللَّهَ رَمَى یعنی جب تو نے اس مٹھی کو پھینکا وہ تو نے نہیں پھینکا بلکہ خدا تعالیٰ نے پھینکا۔یعنی در پر وہ الہی طاقت کام کر گئی۔انسانی طاقت کا یہ کام نہ تھا“ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 65) اس واقعہ کے متعلق سیرت النبی از ابن ہشام میں درج ہے کہ آنحضور صلی علیم نے کنکریوں سے بھری مٹھی کفار کی طرف یہ کہتے ہوئے پھینکی کہ شاہت الوجوہ یعنی تمہارے منہ بگڑ جائیں۔اور یہ کنکریاں آندھی کی شکل اختیار کر گئیں اور دشمنوں کے منہ اور آنکھیں مٹی سے بھر گئیں۔بدر کی پیشگوئی: (4) ”جب یہ آیت نازل ہوئی سَيُهِزَمُ الجَمعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبَرُ تو آنحضرت صلی الم نے فرمایا کہ مجھ کو معلوم نہیں کہ یہ پیشگوئی کس موقعہ کے متعلق ہے۔پھر جب بدر کی لڑائی میں فتح عظیم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ اب معلوم ہوا کہ اسی فتح عظیم کی یہ پیشگوئی خبر دیتی تھی“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 249) مذکورہ بالا ارشاد میں جس قرآنی پیشگوئی سَيُهِزَمُ الجمعُ وَ يُوَلُّونَ الدُّبَرُ (القمر 46) کا ذکر ہے یہ مکی دور میں نازل ہونے والی آیت ہے اس میں ایک بڑے گروہ کے شکست کھانے کی پیشگوئی تھی۔بیان کیا جاتا ہے کہ یہ آیت آنحضور صلی الی یوم بدر کے میدان میں بھی تلاوت فرما رہے تھے۔جبکہ یہ مکہ میں نازل ہو چکی تھی۔(5) 153