سیرة النبی ﷺ

by Other Authors

Page 118 of 304

سیرة النبی ﷺ — Page 118

ہو سکتی۔مثلاً طاعون یا ہیضہ ایسے امراض ہیں کہ ڈاکٹر کو اگر پلیگ ڈیوٹی پر مقرر کیا جاوے۔تو اسے خود ہی دست لگ جاتے ہیں۔انسان جہاں تک ممکن ہو علم پڑھے اور فلسفہ کی تحقیقات میں محو ہو جاوے۔لیکن بالاخر اس کو معلوم ہو گا کہ اس نے کچھ ہی نہیں کیا۔حدیث میں آیا ہے کہ جیسے سمندر کے ہوگا کنارے ایک چڑیا پانی کی چونچ بھرتی ہو، اسی طرح خدا تعالیٰ کے کلام اور فعل کے معارف اور اسرار سے حصہ ملتا ہے۔پھر کیا عاجز انسان ! ہاں، نادان فلسفی اسی حیثیت اور شیخی پر خدا تعالیٰ کے ایک فعل شق القمر پر اعتراض کرتا اور اسے قانون قدرت کے خلاف ٹھہراتا ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ اعتراض نہ کرو۔نہیں، کرو اور ضرور کرو۔شوق سے اور دل کھول کر کرو۔لیکن دو باتیں زیر نظر رکھ لو۔اول خدا کا خوف ( اور اس کی لا محدود طاقت) دوسرے (انسان کی نیستی اور محدود علم) بڑے بڑے فلاسفر بھی آخر یہ اقرار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ ہم جاہل ہیں۔انتہائے عقل ہمیشہ انتہائے جہل پر ہوتی ہے۔مثلاً ڈاکٹروں سے پوچھو کہ عصبہ مجوفہ کو سب وہ جانتے اور سمجھتے ہیں مگر نور کی ماہیت اور اس کا کنہ تو بتلاؤ کہ کیا ہے؟ آواز کی ماہیت پوچھو تو یہ تو کہہ دیں گے کہ کان کے پردہ پر یوں ہوتا ہے اور ووں ہوتا ہے، لیکن ماہیت آواز خاک بھی نہ بتلا سکیں گے۔آگ کی گرمی اور پانی کی ٹھنڈک پر کیوں کا جواب نہ دے سکیں گے۔کہنہ اشیاء تک پہنچنا کسی حکیم یا فلاسفر کا کام نہیں ہے۔دیکھئے ہماری شکل آئینہ میں منعکس ہوتی ہے، لیکن ہمارا سر ٹوٹ کر شیشہ کے اندر نہیں چلا جاتا۔ہم بھی سلامت ہیں اور ہمارا چہرہ بھی آئینہ کے اندر نظر آتا ہے۔پس یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ چاند شق ہو اور شق ہو کر بھی انتظام دنیا میں خلل نہ آوے۔اصل بات یہ ہے کہ یہ اشیاء کے خواص ہیں۔کون دم مار سکتا ہے۔اسلئے خدا تعالیٰ کے خوارق اور معجزات کا انکار کرنا اور انکار کے لئے جلدی کرنا شتاب کاروں اور نادانوں کا کام ہے“ ( ملفوظات [2003 ایڈیشن] جلد 1 صفحہ 56-57) 118