سیرة النبی ﷺ — Page 92
اللہ صلی علی کم کو نقصان پہنچانے کی کوئی کوشش کی گئی تو یہ بنو ہاشم کے ساتھ جنگ کے مترادف ہو گا۔اس لئے انہوں نے ابو طالب کو آنحضور صلی للی کم کی حمایت سے دستبردار ہونے کو کہا۔(14) ابو طالب کے پاس قریش کا وفد : مذکورہ بالا جس وفد کا ذکر کیا گیا ہے یہ در اصل دو سر اوفد ہے۔اس سے پہلے بھی قریش کے سردار اس قسم کا مطالبہ لے کر ابو طالب کے پاس آئے تھے اور ابو طالب نے انہیں تسلی وغیرہ دے کر واپس بھیج دیا تھا۔(15) قریش نے چند دن بعد جب دیکھا کہ اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوا تو ابو طالب کے پاس ایک اور وفد کی صورت میں آئے جس میں ابو جہل، عاص بن وائل، اسود بن مطلب، اسود بن عبد یغوث شامل تھے۔یہ لوگ ابو طالب کے پاس آئے اور کہا کہ اب حد ہو گئی ہے۔محمد صلی الی نیم کو ہمارے بتوں کی مذمت سے روکیں یا اسکی حمایت سے دستبر دار ہو جائیں اور ہمیں خود نمٹنے کی اجازت دیں۔اس دفعہ سرداران قریش کے لہجہ میں سختی زیادہ تھی جسکی وجہ سے ابو طالب کو پریشانی لاحق ہوئی۔آنحضور صلی ا یکم جب گھر تشریف لائے تو سارا قصہ بیان کیا اور اپنی پریشانی سے آگاہ کیا۔(16) ابوطالب کی پریشانی دیکھ کر آنحضور صلی یکم نے ان سے وہ الفاظ فرمائے جن کا ذکر حضور نے الہامی الفاظ میں فرمایا ایک اور وفد : سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اسی دور کے ایک اور وفد کا بھی ذکر فرمایا ہے جو قریش کی کم ظرفی اور آنحضور علی ایم کی اعلی ظرفی اور اولو العزمی پر روشنی ڈالتا ہے۔فرمایا: دو یہ بھی یادر کھیں کہ یہ مشکلات اور روکیں صرف میری ہی راہ میں نہیں ڈالی گئیں بلکہ شروع سے سنت اللہ اسی طرح پر ہے کہ جب کوئی راستباز اور خدا تعالیٰ کا مامور ومرسل دنیا میں آتا ہے تو اس کی مخالفت کی جاتی ہے اس کی جنسی کی جاتی ہے اسے قسم قسم کے دکھ دئے جاتے ہیں مگر آخر وہ غالب آتا ہے اور اللہ تعالی تمام روکوں کو خود اٹھا دیتا ہے۔آنحضور صلی کمی کو بھی اس قسم کے مشکلات پیش آئے ابن جریر نے ایک نہایت ہی دردناک واقعہ لکھا ہے کہ جب آنحضرت صلیم نے نبوت کا دعوی کیا تو ابو جہل اور چند اور لوگ بھڑ کے اور مخالفت کے واسطے اٹھے انہوں نے یہ تجویز کی کہ ابو طالب کے پاس جا کر شکایت کریں۔چنانچہ ابو طالب کے پاس یہ لوگ گئے کہ تیرا بھتیجا ہمارے بتوں اور معبودوں 92