سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 35

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 25

44 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام گورنمنٹ سے بدظن کرنے کے لیے اسی قدر کہہ دینا کافی ہے کہ سارا قصور گورنمنٹ کا ہے جس کے ماتحت ہمیں اس قدر دکھ دیا جاتا ہے اور وہ لوگ اس ظالم کا پیچھا چھوڑ کر محسن گورنمنٹ کے سر ہو جاتے ہیں۔ایک دل آزار کتاب 1898ء میں ایک عیسائی مرتد نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جماعت کی شیرازہ بندی اور مخالفین کی ناکامی 45 اسی سال آپ نے اپنی جماعت کے شیرازہ کو مضبوط کرنے اور خصوصیات سلسلہ کے قائم رکھنے کے لیے جماعت کے تعلقات ازدواج اور نظام معاشرت کی تحریک کی اور جماعت کو ہدایت فرمائی کہ احمدی اپنی لڑکیاں غیر احمدی لوگوں کو نہ دیا کریں۔اسی سال گورنمنٹ کو بھی آپ نے نشان بینی کی دعوت دی۔دراصل اسی ذریعہ سے مطہرات کے خلاف ایک نہایت دل آزار کتاب (۱) شائع کی جس سے مسلمانوں میں ایک آپ کو عمال حکومت پر اپنی تبلیغ کا کامل طور پر پہنچادینا مقصود تھا جوعلی وجہ الا تم پورا ہو گیا۔جوش پیدا ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا کہ یہ ملک کے امن پر اثر انداز ہوگا۔1898ء میں آپ نے اپنی جماعت کے بچوں کے لیے ایک ہائی سکول کی بنیاد رکھی لاہور کی ایک انجمن (۲) نے گورنمنٹ کے حضور اس کتاب کی ضبطی کے لیے میموریل بھیجنے کی جس میں اپنی جماعت کے طلباء چاروں طرف سے آ کر پڑھیں جس کی غرض یہ تھی کہ تیاری کی لیکن آپ نے منع فرمایا کہ اس کا نتیجہ مفید نہ ہوگا اور مشورہ دیا کہ اس کا ایک دوسرے سکولوں کے اثرات سے محفوظ رہیں۔پہلے سال یہ سکول صرف پرائمری تک تھا لیکن زبردست جواب لکھا جائے مگر انجمن والوں نے اس مشورہ کی قدر نہ کی جس پر آخر انہیں اُسی ہر سال ترقی کرتا چلا گیا اور 1903ء میں میٹریکولیشن کے امتحان میں اس کے لڑکے شامل طرح ناکام رہنا پڑا جیسے آپ نے اُن کو قبل از وقت بتلا دیا تھا۔خودحضرت نے اس ہوئے۔میموریل (۳) کی اعلانیہ مخالفت کی کیونکہ اصولی طور پر اس میموریل کا انجام بصورت منظوری 1899ء میں آپ پر ایک اور مقدمہ حفظ امن کے متعلق آپ کے دشمنوں نے قائم کیا یہ ہونا چاہیے تھا کہ اسلام کا ضعف ثابت ہو آپ نے جواب دینے کے طریق کو مقدم کیا اور لیکن اس میں بھی آپ کے دشمن سخت ذلیل اور ناکام ہوئے اور آپ کو کامیابی حاصل گورنمنٹ نے آپ کے میموریل کو قدر کی نظر سے دیکھا اس طرح پر آپ نے مسلمانوں کے ہوئی۔ایک جائز حق کی حفاظت کی جو انہیں تبلیغ اسلام اور اپنے مذہب کے خلاف لکھنے والوں کے جواب دینے کا تھا۔1900ء میں آپ نے عیسائی مذہب پر ایک اتمام حجت کیا۔یعنی آپ نے لاہور کے بشپ صاحب کو خدائی فیصلہ کی دعوت دی مگر با وجود یکہ ملک کے نامی اخبارات نے تحریک کی مگر بشپ صاحب اِس مقابلہ میں نہ آسکے۔ا۔یہ کتاب امہات المومنین کے نام سے ایک عیسائی ڈاکٹر احمد شاہ مرتد نے شائع کی تھی۔۲۔لاہور کی انجمن سے " انجمن حمایت اسلام لاہور مراد ہے۔۳۔حضرت اقدس علیہ السلام نے 4 مئی 1898ء کو لیفٹینٹ گورنر پنجاب کے پاس یہ میموریل بھیجا تھا کہ جب ہزار کاپی اس جماعت کا نام احمدی رکھنا کتاب کی مسلمانوں میں مفت تقسیم کر کے اُن کی دل آزاری کی گئی ہے تو اس کا ضبط کرنا لا حاصل ہے۔پادریوں نے ایسی ہزاروں 1901ء میں مردم شماری ہونے والی تھی اس لیے 1901ء کے اواخر میں آپ نے اپنی جماعت کے نام کتا نہیں لکھ کر مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے۔اس طریق مباحثہ کی اصلاح ہونی چاہیے اور اس قسم کے دلآ زار اور نا پاک کلمات ایک اعلان شائع کیا کہ ہماری جماعت کے لوگ کاغذات مردم شماری میں اپنے آپ کو کے استعمال سے حکما روک دینا چاہیے۔