سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 35

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 8

10 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 11 طرف بہت ہی کم توجہ تھی اور سکھوں کے زمانہ کی بات تو یہاں تک مشہور ہے کہ اگر کسی کے تھا۔پس جن حالات کے ماتحت اور جن اُستادوں کی معرفت آپ کی تعلیم ہوئی وہ ایسے تھے نام کسی دوست کا کوئی خط آ جاتا تو اس کے پڑھوانے کے لیے اُسے بہت مشقت اور محنت کہ اُن کی وجہ سے آپ کو کوئی ایسی تعلیم نہیں مل سکتی تھی جو اس کام کے لیے آپ کو تیار کر دیتی برداشت کرنی پڑتی تھی اور بعض دفعہ مدت تک خط پڑا رہتا تھا اور بہت سے رؤساء بالکل آن جس کے کرنے پر آپ نے مبعوث ہونا تھا۔ہاں اس قدر اس تعلیم کا نتیجہ ضرور ہوا کہ آپ کو پڑھ تھے۔لیکن خدا تعالیٰ نے چونکہ آپ سے بہت بڑا کام لینا تھا اس لیے آپ کی تعلیم کا اس فارسی اور عربی پڑھنی آگئی اور فارسی میں اچھی طرح سے اور عربی میں قدرے قلیل آپ نے آپ کے والد کے دل میں شوق پیدا کر دیا اور باوجود ان دنیا وی تفکرات کے جن میں بولنے بھی لگ گئے تھے۔اس سے زیادہ آپ نے کوئی تعلیم نہیں حاصل کی اور دینی تعلیم تو وہ مبتلا تھے انہوں نے اس جہالت کے زمانہ میں بھی اپنی اولا دکو اس زمانہ کے مناسب حال با قاعدہ طور پر کسی استاد سے حاصل نہیں کی۔ہاں آپ کو مطالعہ کا بہت شوق تھا اور آپ اپنے تعلیم دلانے میں کوتا ہی نہ کی۔چنانچہ جب آپ بچہ ہی تھے تو آپ کے والد نے ایک استاد والد صاحب کے کتب خانہ کے مطالعہ میں اس قدر مشغول رہتے تھے کہ بارہا آپ کے والد آپ کی تعلیم کے لیے ملازم رکھا جن کا نام فضل الہی تھا۔اُن سے حضرت مرزا صاحب نے صاحب کو ایک تو اس وجہ سے کہ آپ کی صحت کو نقصان نہ پہنچے اور ایک اس وجہ سے کہ آپ قرآن مجید اور فارسی کی چند کتب پڑھیں۔اس کے بعد دس سال کی عمر میں فضل احمد نام ایک اس طرف سے ہٹ کر اُن کے کام میں مددگار ہوں ، آپ کو روکنا پڑتا تھا۔استاد ملازم رکھے گئے۔یہ اُستاد نہایت نیک اور دیندار آدمی تھا اور جیسا کہ حضرت مرزا صاحب خود تحریر فرماتے ہیں ، آپ کو نہایت محنت اور محبت سے تعلیم دیتا تھا۔اس اُستاد سے حضرت صاحب نے صرف و نحو کی بعض کتب پڑھیں۔اس کے بعد سترہ اٹھارہ سال کی عمر ملازمت کے حالات اور مسیحیوں سے مباحثات جب آپ تعلیم سے فارغ ہوئے اُس وقت گورنمنٹ برطانیہ کی حکومت پنجاب میں میں مولوی گل علی شاہ آپ کی تعلیم کے لیے ملازم رکھے گئے ان سے نحو منطق اور حکمت کی چند مستحکم ہو چکی تھی۔غدر کا پُر آشوب زمانہ بھی گذر چکا تھا اور اہلِ ہند اس بات کو اچھی طرح کتب آپ نے پڑھیں اور فن طبابت کی چند کتب اپنے والد صاحب سے جو ایک نہایت سمجھ چکے تھے کہ اب اس گورنمنٹ کی ملازمت ہی میں تمام عزت ہے اس لیے مختلف شریف تجربه کار طبیب تھے ، پڑھیں اور یہ تعلیم اُن دنوں کے لحاظ سے جن میں آپ تعلیم پا رہے خاندانوں کے نوجوان اس کی ملازمت میں داخل ہو رہے تھے۔ایسے حالات کے ماتحت اور تھے ، بہت بڑی تعلیم تھی۔لیکن در حقیقت اس کام کے مقابلہ میں جو آپ نے کرنا تھا کچھ بھی اس بات کو معلوم کر کے کہ حضرت مرزا صاحب کی طبیعت زمینداری کے کاموں میں بالکل نہ تھی۔چنانچہ ہم نے بعض وہ آدمی دیکھے ہیں جو آپ کے ساتھ اُن اُستادوں سے پڑھتے نہیں لگتی ، اپنے والد صاحب کے مشورہ سے آپ سیالکوٹ بحصول ملازمت تشریف لے تھے جن کو آپ کے والد صاحب نے آپ کی تعلیم کے لیے ملازم رکھا تھا اور وہ نہایت معمولی گئے اور وہاں ڈپٹی کمشنر صاحب کے دفتر میں ملازم ہو گئے مگر اکثر وقت علمی مشاغل میں ہی لیاقت کے آدمی تھے اور ان کو ایک معمولی خواندہ آدمی سے زیادہ وقعت نہیں دی جاسکتی اور گذرتا اور ملازمت سے فراغت کے اوقات میں یا تو آپ خود مطالعہ کرتے یا دوسرے جو استاد آپ کی تعلیم کے لیے ملازم رکھے گئے تھے وہ بھی کوئی بڑے عالم نہ تھے کیونکہ اس لوگوں کو پڑھاتے تھے یا مذہبی مباحث میں حصہ لیتے تھے اور اُس وقت بھی آپ کی پر ہیز وقت علم بالکل مفقود تھا اور فارسی اور عربی کی چند کتب کا پڑھ لینے والا بڑا عالم خیال کیا جاتا گاری اور تقویٰ کا اتنا اثر تھا کہ باوجود اس کے کہ آپ بالکل نو جوان تھے اور صرف اٹھائیں