سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 35

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 35

64 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 65 در د انسان کو بیتاب کر دیتا ہے اور میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کا ذکر گر وہ نصف گھنٹہ کے اندر ہی اس مکان کے سامنے اکٹھا ہو گیا جس میں آپ کا جسم مبارک خدا تعالیٰ کا پیارا رسول اُن کے درمیان چلتا پھرتا تھا۔پڑا تھا اور خوشی کے گیت گا گا کر اپنی کو ر باطنی کا ثبوت دینے لگا۔بعضوں نے تو عجیب عجیب سوانگ بنا کر اپنی خباثت کا ثبوت دیا۔کر کے کہیں سے کہیں چلا گیا۔میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ ساڑھے دس بجے آپ فوت آپ کے ساتھ جو محبت آپ کی جماعت کو تھی اس کا حال اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ ہوئے۔اُسی وقت آپ کے جسم مبارک کو قادیان میں پہنچانے کا انتظام کیا گیا اور شام کی بہت تھے جو آپ کی نعش مبارک کو صریحاً اپنی آنکھوں کے سامنے پڑا دیکھتے تھے مگر وہ اس گاڑی میں ایک نہایت بھاری دل کے ساتھ آپ کی جماعت نعش لے کر روانہ ہوئی اور آپ بات کے قبول کرنے کے لیے تو تیار تھے کہ اپنے حواس کو تو مختل مان لیں لیکن یہ باور کرنا کا الہام پورا ہوا جو قبل از وقت مختلف اخبارات میں شائع ہو چکا تھا کہ اُن کی لاش کفن میں انہیں دشوار و نا گوار تھا کہ اُن کا حبیب ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہو گیا ہے۔پہلے مسیح لپیٹ کر لائے ہیں۔کے حواریوں اور اس مسیح کے حواریوں کی اپنے مرشد کے ساتھ محبت میں یہ فرق ہے کہ وہ تو بٹالہ پہنچ کر آپ کا جنازہ فوراً قادیان پہنچایا گیا اور قبل اس کے کہ آپ کو دفن کیا جاتا مسیح کے صلیب پر سے زندہ اُتر آنے پر حیران تھے اور یہ اپنے مسیح کے وصال پر ششدر قادیان کی موجودہ جماعت نے (جن میں کئی سو قائم مقام باہر کی جماعتوں کا بھی شامل تھا) تھے۔اُن کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ مسیح زندہ کیونکر ہے اور ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ مسیح فوت بالا تفاق آپ کا جانشین اور خلیفہ حضرت مولوی حاجی نورالدین صاحب بھیروی کو تسلیم کر کیونکر ہوا۔آج سے تیرہ سو سال پہلے ایک شخص جو خاتم النبین ہو کر آیا تھا اُس کی وفات پر کے اُن کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور اس طرح الوصیۃ کی وہ شائع شدہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ نہایت سچے دل سے ایک شاعر نے یہ صداقت بھرا ہوا شعر کہا تھا کہ كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِيَ عَلَيَّ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنتُ أَحَاذِرُ ترجمہ: کہ تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔تیری موت سے میری آنکھ اندھی جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر کھڑے کیے گئے تھے ، میری جماعت کے لیے بھی خدا تعالیٰ اسی رنگ میں انتظام فرمائے گا۔اس کے بعد خلیفہ وقت نے آپ کا جنازہ پڑھا اور دو پہر کے بعد آپ دفن کیے گئے اور اس طرح آپ کا وہ الہام کہ ستائیس کو ایک واقعہ ہمارے متعلق جو دسمبر 1902ء میں ہوا اور مختلف اخبارات ہو گئی۔اب تیرے بعد کوئی شخص پڑا مرا کرے ہمیں اُس کی پرواہ نہیں کیونکہ ہم تو میں شائع ہو چکا تھا پورا ہوا کیونکہ 26 رمئی کو آپ فوت ہوئے اور 27 تاریخ کو آپ دفن کیے گئے اور اس الہام کے ساتھ ایک اور الہام بھی تھا جس سے اس الہام کے معنی واضح کر تیری ہی موت سے ڈر رہے تھے۔66 دیے گئے تھے اور وہ الہام یہ تھا وقت رسید یعنی تیری وفات کا وقت آگیا ہے۔آج تیرہ سو سال کے بعد اُس نبی کے ایک غلام کی وفات پر پھر وہی نظارہ چشم فلک آپ کی وفات پر انگریزی و دیسی ہندوستان کے سب اخبارات نے با وجود مخالفت کے اس بات کا اقرار کیا کہ اس زمانہ کے آپ ایک بہت بڑے شخص تھے۔نے دیکھا کہ جنہوں نے اُسے پہچان لیا تھا اُن کا یہ حال تھا کہ یہ دنیا اُن کی نظروں میں حقیر ہوگئی اور اُن کی تمام تر خوشی اگلے جہان میں ہی چلی گئی بلکہ اب تک کہ آٹھ سال گزر چکے ہیں اُن کا یہی حال ہے اور خواہ صدی بھی گزر جائے مگر وہ دن اُن کو کبھی نہیں بھول سکتے جب کہ تمت بالخير