سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 35

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 34

62 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 63 یعنی نہ رہنے والی عمر پر بھروسہ نہ کرنا۔آپ نے اُسی وقت یہ الہام گھر میں سنا دیا اور۔تک آپ کی تقریر ہوتی رہی۔اس تقریر کی نسبت لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ آپ نے اپنا دعوی نبوت واپس لے لیا۔لاہور کے اُردو روزانہ اخبار عام نے یہ خبر شائع کر دی۔اس پر فرمایا کہ ہمارے متعلق ہے۔دن کو لیکچر ختم ہوا اور چھپنے کے لیے دے دیا گیا۔رات کے آپ نے اُسی وقت اس کی تردید فرمائی اور لکھا کہ ہمیں دعوی نبوت ہے اور ہم نے اسے کبھی وقت آپ کو دست آیا اور سخت ضعف ہو گیا۔والدہ صاحبہ کو جگایا۔وہ اُٹھیں تو آپ کی حالت واپس نہیں لیا۔ہمیں صرف اس بات سے انکار ہے کہ ہم کوئی نئی شریعت لائے ہیں۔شریعت بہت کمزور تھی۔انہوں نے گھبرا کر پوچھا کہ آپ کو کیا ہوا ہے؟ فرمایا وہی جو میں کہا کرتا تھا وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے۔(یعنی بیماری موت ) اس کے بعد پھر ایک اور دست آیا۔اس سے بہت ہی ضعف ہو گیا فرمایا حضور علیہ السلام کا وصال مولوی نور الدین صاحب کو بلواؤ (مولوی صاحب جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے بہت بڑے طبیب تھے ) پھر فرمایا کہ محمود (مصنف رسالہ ہذا ) اور میر صاحب ( آپ کے خسر ) کو جگاؤ۔آپ کو ہمیشہ دستوں کی شکایت رہتی تھی۔لاہور تشریف لانے پر یہ شکایت زیادہ ہوگئی میری چار پائی آپ کی چار پائی سے تھوڑی ہی دور تھی۔مجھے جگایا گیا اُٹھ کر دیکھا تو آپ کو اور چونکہ ملنے والوں کا ایک تانتا رہتا تھا اس لیے طبیعت کو آرام بھی نہ ملا۔آپ اسی حالت کرب بہت تھا۔ڈاکٹر بھی آگئے تھے انہوں نے علاج شروع کیا لیکن آرام نہ ہوا۔آخر میں تھے کہ الہام ہوا الرَّحِيلُ ثُمَّ الرَّحِیلُ یعنی کوچ کرنے کا وقت آ گیا پھر کوچ کرنے کا انجکشن کے ذریعہ بعض ادویات دی گئیں۔اس کے بعد آپ سو گئے۔جب صبح کا وقت ہوا وقت آ گیا۔اس الہام پر لوگوں کو تشویش ہوئی لیکن فوراً قادیان سے ایک مخلص دوست کی اُٹھے اور اُٹھ کر نماز پڑھی۔گلا بالکل بیٹھ گیا تھا کچھ فرمانا چاہا لیکن بول نہ سکے۔اس پر قلم وفات کی خبر پہنچی اور لوگوں نے یہ الہام اُس کے متعلق سمجھا اور تسلی ہوگئی لیکن آپ سے جب دوات طلب فرمائی لیکن لکھ بھی نہ سکے۔قلم ہاتھ سے چھٹ گئی۔اس کے بعد لیٹ گئے اور پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ نہیں یہ سلسلہ کے ایک بہت بڑے شخص کی نسبت ہے ، وہ شخص تھوڑی دیر تک غنودگی سی طاری ہو گئی اور قریباً ساڑھے دس بجے دن کے آپ کی روح پاک اس سے مُراد نہیں۔اس الہام سے والدہ صاحبہ نے گھبرا کر ایک دن فرمایا کہ چلو واپس اُس شہنشاہ حقیقی کے حضور حاضر ہو گئی جس کے دین کی خدمت میں آپ نے اپنی ساری عمر قادیان چلیں۔آپ نے جواب دیا کہ اب واپس جانا ہمارے اختیار میں نہیں۔اب اگر خدا صرف کر دی تھی اِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - بیماری کے وقت صرف ایک ہی لفظ آپ کی ہی لے جائے گا تو جاسکیں گے۔مگر باوجود ان الہامات اور بیماری کے آپ اپنے کام میں زبان مبارک پر تھا اور وہ لفظ اللہ تھا۔لگے رہے اور اس بیماری ہی میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں صلح و آشتی پیدا کرنے کے لیے آپ کی وفات کی خبر بجلی کی طرح تمام لاہور میں پھیل گئی۔مختلف مقامات کی جماعتوں آپ نے ایک لیکچر دینے کی تجویز فرمائی اور لیکچر لکھنا شروع کر دیا اور اس کا نام ”پیغام صلح کو تاریں دے دی گئیں اور اُسی روز شام یا دوسرے دن صبح کے اخبارات کے ذریعہ گل رکھا۔اس سے آپ کی طبیعت اور بھی کمزور ہوگئی اور دستوں کی بیماری بڑھ گئی۔جس دن یہ ہندوستان کو اس عظیم الشان انسان کی وفات کی خبر مل گئی۔جہاں وہ شرافت جس کے ساتھ لیکچر ختم ہونا تھا اُس رات الہام ہوا: - آپ اپنے مخالفوں کے ساتھ برتاؤ کرتے تھے ہمیشہ یادر ہے گی ، وہاں وہ خوشی بھی کبھی نہیں دد مکن تکیه بر عمر نا پائیدار بھلائی جاسکتی جس کا اظہار آپ کی وفات پر آپ کے مخالفوں نے کیا۔لاہور کی پبلک کا ایک