سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 35

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 30

54 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 55 لیکچر گاہ کے دروازہ پر بھی مقرر کر دیے کہ اندر جانے والوں کو روکیں اور بتائیں کہ آپ کے مختلف موقعوں پر آپ کے لیکچر سنایا کرتے تھے ایک لمبی بیماری کے بعد فوت ہوئے اور آپ لیکچر میں جانا گناہ ہے اور بعض تو اس حد تک بڑھے کہ آنے والوں کو پکڑ پکڑ کر دوسری طرف نے قادیان میں ایک عربی مدرسہ کھولنے کا ارشاد فرمایا جس میں دین اسلام سے واقف علماء لے جاتے تھے مگر باوجود اس کے لوگ بڑی کثرت سے آئے اور جس وقت لوگوں نے سُنا پیدا کیے جائیں تا کہ فوت ہونے والے علماء کی جگہ خالی نہ رہے۔مولوی عبدالکریم صاحب کہ آپ لیکچر گاہ میں تشریف لے آئے ہیں تو مخالف علماء کا لیکچر چھوڑ کر وہاں بھاگ آئے کی وفات سے چند روز بعد آپ دہلی تشریف لے گئے اور وہاں قریباً پندرہ دن رہے۔اُس اور اس قدر شوق سے لوگوں نے حصہ لیا کہ سرکاری ملازم بھی با وجود تعطیل کا دن نہ ہونے وقت دہلی گو پندرہ سال پہلے کی دہلی نہ تھی جس نے دیوانہ وار شور مچایا تھا لیکن پھر بھی آپ کے جانے پر خوب شور ہوتا رہا۔اس پندرہ دن کے عرصہ میں آپ نے دہلی میں کوئی پبلک کے لیکچر میں شامل ہوئے۔یہ لیکچر بھی چھپا ہوا ہے اور مولوی عبد الکریم صاحب نے پڑھ کر سُنا یا تھا۔دوران لیکچر لیکچر نہ دیا لیکن گھر پر قریب روزانہ لیکچر ہوتے رہے جن میں جگہ کی تنگی کے سبب دواڑھائی سو میں بعض لوگوں نے شور مچانا چاہا۔پولیس افسر نے جو ایک یوروپین صاحب تھے، نہایت سے زیادہ آدمی ایک وقت میں شامل نہیں ہو سکتے تھے۔ایک دو دن لوگوں نے شور بھی کیا اور ہوشیاری سے اُن کو روکا اور ایک بڑی لطیف بات فرمائی کہ تم مسلمانوں کو ان کے لیکچر پر ایک دن حملہ کر کے گھر پر چڑھ جانے کا بھی ارادہ کیا لیکن پھر بھی پہلے سفر کی نسبت بہت فرق گھبرانے کی کیا وجہ ہے، تمہاری تو یہ تائید کرتے ہیں اور تمہارے رسول کی عظمت قائم کرتے ہیں۔ناراض ہونے کا حق تو ہمارا تھا کہ جن کے خدا ( مسیح ) کی وفات ثابت کرنے پر یہ اس اس سفر سے واپسی پر لدھیانہ کی جماعت نے دو دن کے لیے آپ کو لدھیانہ میں ٹھہرایا قدر زور دیتے ہیں۔غرض افسران پولیس کی ہوشیاری کے باعث کوئی فتنہ وفساد نہ ہوا۔اس اور آپ کا ایک پبلک لیکچر نہایت خیر و خوبی سے ہوا۔وہاں امرتسر کی جماعت کا ایک وفد پہنچا لیکچر میں ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے پہلی مرتبہ اپنے آپ کو اہل ہنود پر اتمام محبت کرنے کہ آپ ایک دو روز امرتسر بھی ضرور قیام فرما ئیں جسے حضرت نے منظور فرمایا اور لدھیانہ کے لیے پبلک میں بحیثیت کرشن پیش کیا۔جب لیکچر ختم ہو کر گھر کو واپس آنے لگے تو پھر بعض سے واپسی پر امرتسر میں اُتر گئے۔وہاں بھی آپ کے ایک عام لیکچر کی تجویز ہوئی۔امرتسر لوگوں نے پتھر مارنے کا ارادہ کیا لیکن پولیس نے اس مفسدہ کو بھی روکا۔لیکچر کے بعد سلسلہ احمدیہ کے مخالفین سے پر ہے اور مولویوں کا وہاں بہت زور ہے۔اُن کے اُکسانے دوسرے دن آپ واپس تشریف لے آئے اور اس موقعہ پر بھی پولیس کے انتظام کی وجہ سے سے عوام الناس بہت شور کرتے رہے۔جس دن آپ کا لیکچر تھا اُس روز مخالفین نے فیصلہ کر کوئی شرارت نہ ہو سکی۔جب لوگوں نے دیکھا کہ ہمیں دُکھ دینے کا کوئی موقعہ نہیں ملا تو بعض لوگ شہر سے کچھ دور باہر جا کر ریل کی سٹرک کے پاس کھڑے ہو گئے اور چلتی ٹرین پر پتھر پھینکے لیکن اس کا نتیجہ سوائے کچھ شیشے ٹوٹ جانے کے اور کیا ہوسکتا تھا۔لیا کہ جس طرح ہو لیکچر نہ ہونے دیں۔چنانچہ آپ لیکچر ہال میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ دروازہ پر مولوی بڑے بڑے تجھے پہنے ہوئے لمبے لمبے ہاتھ مار کر آپ کے خلاف وعظ کر رہے تھے اور بہت سے لوگوں نے اپنے دامنوں میں پتھر بھرے ہوئے تھے۔آپ لیکچر گاہ مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات اور سفر دہلی کے حالات میں اندر تشریف لے گئے اور لیکچر شروع کیا۔لیکن مولوی صاحبان کو اعتراض کا کوئی موقعہ نہ 11 / اکتوبر 1905 ء کو آپ کے ایک نہایت مخلص مرید مولوی عبدالکریم صاحب جو ملا جس پر لوگوں کو بھڑ کا ئیں۔پندرہ منٹ آپ کی تقریر ہو چکی تھی کہ ایک شخص نے آپ کے