سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 28
50 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 51 اس مقدمہ کا فیصلہ جنوری 1905ء میں ہوا اور اس فیصلہ کے ساتھ خدا تعالیٰ نے جو کی ہی رہائش اختیار کرنی پڑی۔کیا اس پر سیشن جج صاحب امرتسر مسٹر ہیری صاحب کی عدالت میں جو ایک یورپین تھے، اس مقدمہ کو اس قدر طول دیا گیا تھا کہ صرف تین چار الفاظ پر گفتگو تھی۔کرم دین نے اس فیصلہ کی نگرانی کی گئی اور جب انہوں نے مقدمہ کی مسل دیکھی تو سخت افسوس ظاہر کیا کہ آپ کے خلاف ایک صریح جھوٹ بولا تھا۔آپ نے اُس کی نسبت اپنی کتاب میں کذاب کا ایسے لغو مقدمہ کو مجسٹریٹ نے اس قدر لمبا کیوں کیا اور کہا کہ اگر یہ مقدمہ میرے پاس آتا تو لفظ لکھا تھا جس کے معنی عربی زبان میں جھوٹا بھی ہیں اور بہت جھوٹا بھی۔اسی طرح ایک لفظ میں ایک دن میں اسے خارج کر دیتا۔کرم دین جیسے انسان کو جو لفظ مرزا صاحب نے لیم ہے جس کے معنے کمینہ ہیں۔لیکن کبھی ولد الزنا کے معنوں میں بھی استعمال ہو جاتا ہے اور استعمال کیے اگر اُن سے بڑھ کر بھی کہے جاتے تو بالکل درست تھا۔جو کچھ ہوا نہایت اُس کا زور اس بات پر تھا کہ مجھے بہت جھوٹا اور ولد الزنا کہا گیا ہے۔حالانکہ اگر ثابت ہے تو نا واجب ہوا اور انہوں نے دو گھنٹے کے اندر آپ کو بری کر دیا اور جرمانہ معاف کر دیا اور اس یہ کہ میں نے ایک جھوٹ بولا ہے۔اس پر عدالت میں ان الفاظ کی تحقیقات شروع ہوئی اور طرح دوسری دفعہ ایک یورپین حاکم نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ خدا تعالیٰ حکومت انہی بعض اس قسم کے اور باریک سوال پیدا ہو گئے جن پر ایسی لمبی بحث چھڑی کہ دو سال ان لوگوں کے ہاتھ میں دیتا ہے جن کو وہ اس کے قابل سمجھتا ہے۔مقدمات میں لگ گئے۔دورانِ مقدمہ میں ایک مجسٹریٹ کی نسبت مشہور ہوا کہ اس کے ہم مذہبوں نے کہا ہے کہ مرزا صاحب اس وقت خوب پھنسے ہوئے ہیں ، ان کو سزا ضرور دو خواہ وحی آپ پر کئی سال پیشتر مقدمہ کے انجام کی نسبت کی تھی وہ پوری ہوئی۔ایک دن کی قید کیوں نہ ہو۔جن دوستوں نے یہ بات سنی سخت گھبرائے ہوئے آپ کے پاس اس مقدمہ کی کارروائی کو ایک جگہ بیان کرنے کے لیے میں آپ کے دوضروری سفر حاضر ہوئے اور نہایت ڈر کر عرض کیا کہ حضور ہم نے ایسا سنا ہے۔آپ اس وقت لیٹے چھوڑ گیا ہوں جن میں سے آپ کا پہلا سفر تو لاہور کی طرف تھا جو دورانِ مقدمہ میں ماہ اگست ہوئے تھے یہ بات سنتے ہی آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور ایک ہاتھ کے سہارے سے ذرا اُٹھ 1904ء میں ہوا۔اس دفعہ آپ لاہور میں پندرہ دن رہے۔اس سفر میں بھی چاروں طرف بیٹھے اور اُٹھ کر بڑے زور سے فرمایا کہ کیا وہ خدا تعالیٰ کے شیر پر ہاتھ ڈالنا چاہتا ہے؟ اگر سے لوگ آپ کی زیارت کے لیے جوق در جوق آئے اور اسٹیشن پر تل دھر نے کو جگہ نہ تھی اُس نے ایسا کیا تو وہ دیکھ لے گا کہ اس کا کیا انجام ہوتا ہے۔نہ معلوم یہ خبر سچی ہے یا جھوٹی اور اس تمام عرصہ میں ایک شور پڑا رہا۔آپ کی قیام گاہ کے نیچے صبح سے شام تک برابر ایک لیکن اس مجسٹریٹ کو انہی دنوں وہاں سے بدل دیا گیا اور باوجود کوشش کے فوجداری مجمع رہتا۔مخالف آن آن کر گالیاں دیتے اور شور مچاتے حتی کہ بعض شریروں نے زنانہ اختیارات اُس سے لے لیے گئے اور کچھ مدت کے بعد اُس کا عہدہ بھی کم کر دیا گیا۔اس مکان میں گھنے کی بھی کوشش کی جنہیں زبر دستی باہر نکالا گیا۔لاہور کے دوستوں کی درخواست کے بعد مقدمہ ایک اور مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا اُس نے بھی نہ معلوم کیوں اس کو بہت پر آپ کا لیکچر مقرر ہوا جو چھاپا گیا اور ایک وسیع ہال میں وہ لیکچر مولوی عبد الکریم صاحب لمبا کیا اور گوڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں تو آپ کو کرسی ملتی تھی لیکن اس مجسٹریٹ نے مرحوم نے پڑھ کر سنایا آپ بھی پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے۔قریباً سات آٹھ ہزار آدمی تھے۔با وجود آپ کے سخت بیمار ہونے کے آپ کو کرسی نہ دی اور بعض دفعہ سخت پیاس کی حالت اس لیکچر کے ختم ہونے پر لوگوں نے درخواست کی کہ آپ کچھ زبانی بھی بیان فرما ئیں۔اس میں پانی پینے تک کی اجازت نہ دی۔آخر ایک لمبے مقدمہ کے بعد آپ پر دوسو روپے جرمانہ پر آپ اُسی وقت کھڑے ہو گئے اور آدھ گھنٹہ تک ایک مختصر سی تقریر فرمائی۔چونکہ یہ ایک