سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 13
20 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 21 والد صاحب کی متروکہ جائیداد پر برابر کا حصہ تھا پھر بھی آپ نے ان کی دنیا کی رغبت دیکھ کر ہی روزہ رکھ لیتے۔غرض یہ زمانہ آپ کے لیے ایک بڑے مجاہدات کا زمانہ تھا جسے آپ نے اُن سے اپنا حصہ طلب نہ کیا اور محض کھانے اور کپڑے پر کفایت کی۔گو آپ کے بھائی بھی نہایت صبر و استقلال سے گزارا۔سخت سے سخت تکالیف کے ایام میں بھی اشارہ اور کنایی اپنی طبیعت کے مطابق آپ کی ضروریات کے پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے اور آپ سے کبھی جائیداد میں سے اپنا حصہ لینے کی تحریک نہیں کی۔ایک حد تک محبت بھی رکھتے تھے اور کسی قدر ادب بھی کرتے تھے لیکن با وجود اس کے چونکہ وہ نہ صرف روزوں کے دنوں میں بلکہ یوں بھی آپ کی ہمیشہ عادت تھی کہ ہمیشہ کھانا دنیا داری میں بالکل منہمک تھے اور حضرت صاحب دنیا سے بالکل متنفر تھے اس لیے وہ آپ غرباء میں بانٹ دیتے تھے اور بعض دفعہ ایک چپاتی کا نصف جو ایک چھٹانک سے زیادہ نہیں کو ضرورتِ زمانہ سے ناواقف اور سُست سمجھتے تھے اور بعض دفعہ اس بات پر اظہار افسوس ہو سکتا آپ کے لیے بچتا تھا اور آپ اُسی پر گزارہ کرتے تھے۔بعض دفعہ صرف چنے بھنوا کر کھا بھی کرتے تھے کہ آپ کسی کام کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔چنانچہ ایک دفعہ کسی اخبار کے لیتے اور اپنا کھانا سب غرباء کو دے دیتے۔چنانچہ کئی غریب آپ کے ساتھ رہتے تھے اور منگوانے کے لیے آپ نے اُن سے ایک نہایت قلیل رقم منگوائی تو انہوں نے باوجود اس دونوں بھائیوں کی مجلسوں میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ایک بھائی کی مجلس میں سب کھاتے کے کہ آپ کی جائیداد پر قابض تھے ، انکار کر دیا اور کہا کہ یہ اسراف ہے۔کام تو کچھ کرتے پیتے آدمی جمع ہوتے تھے اور دوسرے بھائی کی مجلس میں غریبوں اور محتاجوں کا ہجوم رہتا تھا نہیں اور یونہی بیٹھے کتب و اخبار کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔غرض آپ کے بھائی صاحب جن کو وہ اپنی قلیل خوراک میں شریک کرتا تھا اور اپنی جان پر اُن کو مقدم کر لیتا تھا۔بوجہ دنیا داری میں کمال درجہ کے مشغول ہونے کے آپ کی ضروریات کو نہ خود سمجھ سکتے تھے انہی ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدمت اسلام کے لیے کوشش شروع کی اور نہ اُن کو پورا کرنے کی طرف متوجہ تھے جس کی وجہ سے آپ کو بہت کچھ تکلیف پہنچتی۔مگر اور مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ میں اخبارات میں مضامین لکھنے شروع کیے جن کی وجہ سے اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ آپ کے بھائی بھی اکثر قادیان سے باہر رہتے آپ کا نام خود بخود گوشتہ تنہائی سے نکل کر میدانِ شہرت میں آ گیا لیکن آپ خود اسی گوشتہ تنہائی تھے اور اُن کے پیچھے اُن کے منتظمین آپ کے تنگ کرنے میں خاص طور پر کوشاں رہتے۔میں ہی تھے اور باہر کم نکلتے تھے بلکہ مسجد کے ایک حجرہ میں جو صرف 5x6 فٹ کے قریب لمبا اور چوڑا تھا رہتے تھے اور اگر کوئی آدمی ملنے کے لیے آجاتا تو مسجد سے باہر نکل کر بیٹھ جاتے یا گھر آپ کا مجاہدہ اور ایثار اور خدمت اسلام میں آ کر بیٹھے رہتے۔غرض اس زمانہ میں آپ کا نام تو باہر نکلنا شروع ہوا لیکن آپ باہر نہ نکلے انہی ایام میں آپ کو بتایا گیا کہ الہی انعامات کے حاصل کرنے کے لیے کچھ مجاہدہ کی بلکہ اسی گوشتہ تنہائی میں زندگی بسر کرتے۔بھی ضرورت ہے اور یہ کہ آپ کو روزے رکھنے چاہئیں۔اس حکم کے ماتحت آپ نے متواتر ان مجاہدات کے دنوں میں آپ کو کثرت سے الہامات ہونے شروع ہو گئے اور بعض چھ ماہ کے روزے رکھے اور بارہا ایسا ہوتا تھا کہ آپ کا کھانا جب گھر سے آتا تو آپ بعض امور غیبیہ پر بھی اطلاع ملتی رہی جو اپنے وقت پر پورے ہو جاتے اور آپ کے ایمان کی غرباء میں تقسیم کر دیتے اور جب روزہ کھول کر گھر سے کھانا منگواتے تو وہاں سے صاف زیادتی کا موجب ہوتے اور آپ کے دوست جن میں بعض ہندو اور سکھ بھی شامل تھے ان جواب ملتا اور آپ صرف پانی پر یا اور کسی ایسی ہی چیز پر وقت گزار لیتے اور صبح پھر آٹھ پہرہ باتوں کو دیکھ دیکھ کر حیران ہوتے۔