سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 33
60 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 61 کہ اُن کے خیال میں کانگریس کے نقائص دور کرنے میں یہ ایک زبر دست آلہ ثابت ہوگی گاڑی ریز رو نہیں ہوسکی وہاں دو تین دن انتظار کرنا پڑا۔آپ نے اپنے گھر میں فرمایا کہ اور بعض حکام رؤساء کو اشارہ اِس میں شامل ہونے کی تحریک بھی کرتے تھے۔فنانشل کمشنر ادھر الهام متوحش ہوا ہے اُدھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے روکیں پڑ رہی ہیں۔بہتر ہے کہ یہیں صاحب بہادر نے بھی برسبیل تذکرہ آپ سے مسلم لیگ کا ذکر کیا اور اس کی نسبت آپ کی بٹالہ میں کچھ عرصہ کے لیے ٹھہر جائیں آب و ہوا تبدیل ہو جائے گی۔علاج کے لیے کوئی رائے دریافت کی۔آپ نے فرمایا میں اسے پسند نہیں کرتا۔فنانشل کمشنر نے اس کی خوبی کا لیڈی ڈاکٹر یہیں بُلا لی جائے گی۔لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ نہیں لا ہور ہی چلو۔آخر دو اقرار کیا۔آپ نے فرمایا کہ یہ راہ خطرناک ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ اسے کانگرس پر تین دن کے انتظار کے بعد آپ لاہور تشریف لے گئے۔آپ کے پہنچتے ہی تمام لاہور میں قیاس نہ کریں اس کا قیام تو ایسے رنگ میں ہوا تھا کہ اس کا اپنے مطالبات میں حد سے بڑھ ایک شور پڑ گیا اور حسب دستور مولوی لوگ آپ کی مخالفت کے لیے اکٹھے ہو گئے۔جس جانا شروع سے نظر آ رہا تھا لیکن مسلم لیگ کی بنیاد ایسے لوگوں کے ہاتھوں اور ایسے قوانین مکان میں آپ اُترے ہوئے تھے اُس کے پاس ہی ایک میدان میں آپ کے خلاف کے ذریعے پڑی ہے کہ یہ کبھی کانگرس کا رنگ اختیار کر ہی نہیں سکتی۔اس پر آپ کے ایک لیکچروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جو روزانہ بعد نماز عصر سے لے کر رات کے نو دس بجے تک مرید خواجہ کمال الدین نے جو دو کنگ مشن کے بانی اور رسالہ مسلم انڈیا کے مالک ہیں، جاری رہتا۔ان لیکچروں میں گندی سے گندی گالیاں آپ کو دی جاتیں اور چونکہ آپ کے سرولسن کی تائید کی اور کہا کہ میں بھی اس کا ممبر ہوں اس کے ایسے قواعد بنائے گئے ہیں کہ اس مکان تک پہنچنے کا یہی راستہ تھا آپ کی جماعت کو سخت تکلیف ہوتی لیکن آپ نے سب کو سمجھا کے گمراہ ہونے کا خطرہ نہیں۔مگر دونوں کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیا کہ گالیوں سے ہمارا کچھ نہیں بگڑتا تم لوگ خاموش ہو کے پاس سے گزر جایا کرو۔اُدھر فرمایا کہ مجھے تو اس سے بو آتی ہے کہ ایک دن یہ بھی کانگرس کا رنگ اختیار کر لے گی۔میں دیکھا بھی نہ کرو۔چونکہ اس دفعہ لاہور میں کچھ زیادہ رہنے کا ارادہ تھا اس لیے جماعت کے اس طرح سیاست میں دخل دینے کو خطرناک سمجھتا ہوں۔یہ گفتگو تو اس پر ختم ہوئی لیکن ہر احباب چاروں طرف سے اکٹھے ہو گئے تھے اور ہر وقت ہجوم رہتا تھا اور لوگ بھی آپ سے ایک سیاسی واقعات کا مطالعہ کرنے والا جانتا ہے کہ آپ کا خیال کس طرح لفظ بلفظ پورا ہوا۔ملنے کے لیے آتے رہتے تھے۔اسی سال 26 / اپریل کو بوجہ والدہ صاحبہ کی بیماری کے آپ کو لاہور جانا پڑا۔جس دن قادیان سے چلنا تھا اُس رات کو الہام ہوا :- مباش ایمن از بازی روزگار لاہور کے رؤساء کو دعوت اور حضور کی تقریر چونکہ رؤساء ہند بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ساری دنیا کے رؤساء دین سے نسبتاً غافل ہوتے ہیں ، اس لیے آپ نے اُن کو کچھ سنانے کے لیے یہ تجویز فرمائی کہ لاہور کے ایک غیر یعنی حوادث زمانہ سے بے خوف مت ہو۔اس پر آپ نے فرمایا کہ آج یہ الہام ہوا احمدی رئیس کی طرف سے جو آپ کا بہت معتقد تھا رؤساء کو دعوت دی اور دعوتِ طعام میں ہے کہ جو کسی خطرناک حادثہ پر دلالت کرتا ہے۔اتفاق سے اُسی رات میرے چھوٹے بھائی کچھ تقریر فرمائی۔تقریر کسی قدر لمبی ہوگئی جب گھنٹہ کے قریب گزر گیا تو ایک شخص نے ذرا مرزا شریف احمد بیمار ہو گئے لیکن جس طرح سے ہو سکا روانہ ہوئے جب بٹالہ پہنچے، جو گھبراہٹ کا اظہار کیا۔اس پر بہت سے لوگ بول اُٹھے کہ کھانا تو ہم روز کھاتے ہیں لیکن یہ قادیان کا اسٹیشن تھا ، تو وہاں معلوم ہوا کہ بوجہ سرحدی شورش کے گاڑیاں کافی نہیں اسی لیے کھانا (غذائے روح) تو آج ہی میسر ہوا ہے۔آپ تقریر جاری رکھیں۔دواڑھائی گھنٹہ