سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 11
16 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 17 جب نماز سے فارغ ہوئے تو یقین تھا کہ مقدمہ میں فریق مخالف کو یکطرفہ ڈگری مل گئی ہوگی سات میل پیدل پھر لیتے تھے اور بڑھاپے سے پہلے کا حال آپ بیان فرمایا کرتے تھے کہ کیونکہ عدالت ہائے کا قاعدہ ہے کہ جب ایک فریق حاضر عدالت نہ ہو تو فریق مخالف کو بعض اوقات صبح کی نماز سے پہلے اُٹھ کر ( نماز کا وقت سورج نکلنے سے سوا گھنٹہ پہلے ہوتا یکطرفہ ڈگری دی جاتی ہے۔اسی خیال میں عدالت میں پہنچے۔چنانچہ جب عدالت میں ہے) سیر کے لیے چل پڑتے تھے اور وڈالہ تک پہنچ کر ( جو بٹالہ سڑک پر قادیان سے قریباً پہنچے تو معلوم ہوا کہ مقدمہ فیصل ہو چکا ہے۔لیکن چونکہ فیصلہ عدالت معلوم کرنا ضروری تھا جا ساڑھے پانچ میل پر ایک گاؤں ہے ) صبح کی نماز کا وقت ہوتا تھا۔کر دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ مجسٹریٹ نے ، جو ایک انگریز تھا کا غذات پر ہی فیصلہ کر دیا اور ڈگری آپ کے حق میں دی اور اس طرح خدا تعالیٰ نے آپ کی طرف سے وکالت کی۔غرض آپ ان دنیاوی کاموں میں اسی طرح مشغول تھے جس طرح ایک شخص سے کوئی ایسا مکالمہ الہیہ کا آغاز آپ کی عمر قریباً چالیس سال کی تھی جب کہ 1876ء میں آپ کے والد صاحب کام کرایا جائے جس کے کرنے پر وہ راضی نہ ہو حالانکہ وہ کام خود آپ کے نفع کا تھا کیونکہ یکدفعہ بیمار ہوئے اور گوان کی بیماری چنداں خوفناک نہ تھی لیکن حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ آپ کے والد صاحب کی جائیداد کا محفوظ ہونا درحقیقت آپ کی جائیداد کا محفوظ ہونا تھا نے بذریعہ الہام بتایا کہ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ یعنی رات کے آنے والے کی قسم۔تو کیا جانتا کیونکہ آپ اُن کے وارث تھے۔پس آپ کا باوجود عاقل و بالغ ہونے کے اس کام سے ہے کہ کیا ہے رات کو آنے والا۔اور ساتھ ہی تفہیم ہوئی کہ اس الہام میں آپ کے والد بیزار رہنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ دنیا سے بگلی متنفر تھے اور خدا تعالیٰ ہی آپ کا صاحب کی وفات کی خبر دی گئی ہے جو کہ بعد مغرب واقعہ ہوگی۔گو حضرت صاحب کو اس سے مقصود تھا۔محنت اور جفاکشی کی عادت پہلے ایک مدت سے رویائے صالحہ ہو رہے تھے جو اپنے وقت پر نہایت صفائی سے پورے ہوتے تھے اور جن کے گواہ ہندو اور سکھ بھی تھے اور اب تک بعض ان میں سے موجود ہیں۔لیکن الہامات میں سے یہ پہلا الہام ہے جو آپ کو ہوا اور اس الہام کے ذریعہ سے گویا باوجود اس کے کہ آپ دنیا سے ایسے متنفر تھے آپ سُست ہرگز نہ تھے بلکہ نہایت محنت خدا تعالیٰ نے اپنی محبت کے ساتھ آپ کو بتایا کہ تیرا دُنیا وی باپ فوت ہوتا ہے لیکن آج سے کش تھے اور خلوت کے دلدادہ ہونے کے باوجود مشقت سے نہ گھبراتے تھے اور بارہا ایسا میں تیرا آسمانی باپ ہوتا ہوں۔غرض پہلا الہام جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہوا وہ یہی ہوتا تھا کہ آپ کو جب کسی سفر پر جانا پڑتا تو سواری کا گھوڑا نوکر کے ہاتھ آگے روانہ کر دیتے تھا جس میں آپ کو آپ کے والد صاحب کی وفات کی خبر دی گئی تھی۔اس خبر پر بالطبع آپ اور آپ پیادہ پاہیں چھپیس کوس کا سفر طے کر کے منزلِ مقصود پر پہنچ جاتے۔بلکہ اکثر اوقات کے دل میں رنج پیدا ہونا تھا چنانچہ آپ کو اس خبر سے صدمہ پیدا ہوا اور دل میں خیال گذرا آپ پیادہ ہی سفر کرتے تھے اور سواری پر کم چڑھتے تھے اور عادت پیادہ چلنے کی آپ کو آخر کہ اب ہمارے گزارے کی کیا صورت ہوگی ؟ جس پر دوسری دفعہ پھر الہام ہوا اور آپ کو عمر تک تھی۔ستر سال سے متجاوز عمر میں جب کہ بعض سخت بیماریاں آپ کو لاحق تھیں، اکثر اللہ تعالیٰ نے ہر طرح سے تسلی دی۔اس واقعہ کو میں اس جگہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام روزانہ ہوا خوری کے لیے جاتے تھے اور چار پانچ میل روزانہ پھر آتے اور بعض اوقات کے الفاظ میں لکھ دینا مناسب سمجھتا ہوں۔آپ تحریر فرماتے ہیں:-