سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 35

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 10

14 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 15 موقعہ ملے گا۔یہ زمانہ آپ کا عجیب کشمکش کا زمانہ تھا۔والد صاحب چاہتے تھے کہ آپ یا تو اور ریاست کپورتھلہ کے محکمہ تعلیم کا افسر بنانے کی تجویز ہوئی لیکن آپ نے نامنظور کر دیا اور اپنے زمینداری کے کام میں مصروف ہوں یا کوئی ملازمت اختیار کریں اور آپ ان دونوں اپنے والد صاحب کے ہموم و عموم کو دیکھ کر اس بات کو ہی پسند فرمایا کہ جس تنگی سے بھی گذارہ باتوں سے متنفر تھے اور اس لیے اکثر طعن و تشنیع کا شکار رہتے تھے۔جب تک آپ کی والدہ ہو گھر پر ہی رہیں اور ان کے کاموں میں جہاں تک ہو سکے ہاتھ بٹائیں۔گوجیسا کہ پہلے بتایا صاحبہ زندہ رہیں آپ پر ایک سپر کے طور پر رہیں لیکن اُن کی وفات کے بعد آپ اپنے والد جا چکا ہے آپ کا دل اس کام کی طرف بھی راغب نہ تھا لیکن آپ اپنے والد صاحب کے حکم صاحب اور بھائی صاحب کی ملامت کا اکثر نشانہ ہو جاتے اور بعض دفعہ وہ لوگ سمجھتے تھے کہ کے ماتحت اُن کے آخری ایام کو جہاں تک ہو سکے با آرام کرنے کے لیے اس کام میں لگے آپ کا دنیاوی کاموں سے متنفر ہو نائستی کی وجہ سے ہے۔چنانچہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ضرور رہتے تھے گو فتح و شکست سے آپ کو دلچسپی نہ تھی۔ایک مقدمہ میں نشان الہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام گو اس زمانہ میں اپنے والد صاحب کی مدد کے لیے اُن کے بعض دفعہ آپ کے والد نہایت افسردہ ہو جاتے تھے اور کہتے تھے کہ میرے بعد اس لڑکے کا کس طرح گزارہ ہوگا اور اس بات پر ان کو سخت رنج تھا کہ یہ اپنے بھائی کا دست نگر رہے گا اور کبھی کبھی وہ آپ کے مطالعہ پر چڑ کر آپ کو ملاں بھی کہہ دیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ ہمارے گھر میں ملاں کہاں سے پیدا ہو گیا ہے۔لیکن باوجود اس کے خود اُن کے دل میں دنیاوی کاموں میں لگے ہوئے تھے لیکن آپ کا دل کسی اور طرف تھا اور ” دست در کار دل بھی آپ کا رعب تھا اور جب کبھی وہ اپنی دنیا وی نا کامیابی کو یاد کرتے تھے تو دینی باتوں میں بایار کی مثال بنے ہوئے تھے۔مقدمات سے ذرا فارغ ہوتے تو خدا تعالیٰ کی یاد میں آپ کے استغراق کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے اور اس وقت فرماتے تھے کہ اصل کام تو یہی ہے مشغول ہو جاتے اور اِن سفروں میں جو آپ کو اُن دنوں مقدمات میں کرنے پڑتے آپ جس میں میرا بیٹا لگا ہوا ہے۔لیکن چونکہ اُن کی ساری عمر دنیا کے کاموں میں گذری تھی اس ایک وقت کی نماز بھی بے وقت نہ ہونے دیتے بلکہ اپنے اوقات پر نماز ادا کرتے بلکہ ا لیے افسوس کا پہلو غالب رہتا تھا۔مگر حضرت مرزا صاحب اس بات کی بالکل پرواہ نہ کرتے مقدمات کے وقت بھی نماز کو ضائع نہ ہونے دیتے چنانچہ ایک دفعہ تو ایسا ہوا کہ آپ ایک تھے بلکہ کسی کسی وقت قرآن حدیث اپنے والد صاحب کو بھی سنانے کے لیے بیٹھ جاتے تھے ضروری مقدمہ کے لیے جس کا اثر بہت سے مقدمات پر پڑتا تھا اور جس کے آپ کے حق اور یہ ایک عجیب نظارہ تھا کہ باپ اور بیٹا دو مختلف کاموں میں لگے ہوئے تھے اور دونوں میں ہو جانے کی صورت میں آپ کے بہت سے حقوق محفوظ ہو جاتے تھے، عدالت میں میں سے ہر ایک دوسرے کو شکار کرنا چاہتا تھا۔باپ چاہتا تھا کہ کسی طرح بیٹے کو اپنے تشریف لے گئے۔اُس وقت کوئی ضروری مقدمہ پیش تھا اُس میں دیر ہوئی اور نماز کا وقت آ خیالات کا شکار کرے اور دنیاوی عزت کے حصول میں لگا دے اور بیٹا چاہتا تھا کہ اپنے باپ گیا۔جب آپ نے دیکھا کہ مجسٹریٹ تو اس مقدمہ میں مصروف ہے اور نماز کا وقت تنگ ہو کو دنیا کے خطرناک پھندہ سے آزاد کر کے اللہ تعالیٰ کی محبت کی کو لگا دے۔غرض یہ عجیب رہا ہے تو آپ نے اس مقدمہ کو خدا کے حوالے کیا اور خود ایک طرف جا کر وضو کیا اور دن تھے جن کا نظارہ کھینچنا قلم کا کام نہیں ہر ایک شخص اپنی اپنی طاقت کے مطابق اپنے دل درختوں کے سایہ تلے نماز پڑھنی شروع کر دی۔جب نماز شروع کر دی تو عدالت سے آپ کے اندر ہی اس کا نقشہ کھینچ سکتا ہے۔ان دنوں آپ کے سامنے پھر ملا زمت کا سوال پیش ہوا کے نام پر آواز پڑی۔آپ آرام سے نماز پڑھتے رہے اور بالکل اس طرف توجہ نہ کی۔