سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 35

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 9

12 سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 13 سال کی عمر تھی مگر بوڑھے بوڑھے آدمی مسلمانوں میں سے بھی اور ہندوؤں میں سے بھی کرتی کہ کسی مذہب کی ناجائز طور پر دل آزاری کی جائے۔غرض اُس وقت مسیحیوں اور آپ کی عزت کرتے تھے لیکن آپ کی عادت اُس وقت بھی خلوت پسندی کی تھی۔اپنے مسلمانوں کے تعلقات نہایت کشیدہ تھے اور پادریوں کے اخلاق اُن دنوں میں صرف انہی مکان سے باہر کم جاتے اور اکثر وقت وہیں گزارتے۔مسیحی مشن اُن دنوں پنجاب میں نیا نیا لوگوں تک محدود ہوتے تھے جو اُن کی باتوں کی تصدیق کریں اور جو آگے سے جواب دے آیا تھا اور مسلمان اُن کے حملوں سے ناواقف تھے اور اکثر مسیحیوں سے شکست کھاتے تھے بیٹھیں اُن کے خلاف اُن کا جوش بڑھ جاتا تھا لیکن باوجود اس کے کہ حضرت مرزا صاحب لیکن حضرت مرزا صاحب سے جب کبھی بھی مسیحیوں کی گفتگو ہوئی اُن کو نیچا دیکھنا پڑا۔چنانچہ دین میں غیور تھے اور مذہبی مباحثات میں کسی سے نہ دیتے تھے۔ریورنڈ بٹلر آپ کی نیک نیتی پادریوں میں سے جو لوگ حق پسند تھے وہ باوجود اختلاف مذہبی کے آپ کی بہت عزت اور ا خلاص اور تقویٰ کو دیکھ کر متاثر تھے اور باوجود اس بات کو محسوس کرنے کے کہ یہ شخص میرا کرتے چنانچہ آپ کا سوانح نگار لکھتا ہے کہ ریورنڈ بٹلر ایم۔اے جو سیالکوٹ کے مشن میں شکار نہیں ، ہاں ممکن ہے کہ میں اس کا شکار ہو جاؤں اور باوجود اس طبعی نفرت کے جو ایک صید کام کرتے تھے اور جن سے حضرت مرزا صاحب کے بہت سے مباحثات ہوتے رہتے تھے کو صیاد سے ہوتی ہے وہ دوسرے مذہبی مناظرین کی نسبت مرزا صاحب سے مختلف سلوک جب ولایت واپس جانے لگے تو خود کچہری میں آپ کے پاس ملنے کے لیے چلے آئے کرنے پر مجبور ہوئے اور جاتے وقت کچہری میں ہی آپ سے ملنے کے لیے آگئے اور آپ اور جب ڈپٹی کمشنر صاحب نے پوچھا کہ کس طرح تشریف لائے ہیں تو ریورنڈ مذکور نے کہا سے ملے بغیر جانا پسند نہ کیا۔که صرف مرزا صاحب کی ملاقات کے لیے اور جہاں آپ بیٹھے تھے وہیں سیدھے چلے گئے اور کچھ دیر بیٹھ کر واپس چلے گئے۔یہ اُن دنوں کا واقعہ ہے جب کہ گورنمنٹ برطانیہ کی نئی نئی فتح کو پادری لوگ اپنی فتح کی علامت قرار دیتے تھے اور اُن میں تکبر اس قدر سرایت کر گیا علیحد گی ملا زمت اور پیروی مقدمات قریباً چار سال آپ سیالکوٹ میں ملازم رہے لیکن نہایت کراہت کے ساتھ۔آخر تھا کہ ان دنوں میں جو کتب اسلام کے خلاف لکھی گئی ہیں اُن کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے والد صاحب کے لکھنے پر فوراً استعفیٰ دے کر واپس آگئے اور اپنے والد صاحب کے حکم کے کہ پادری صاحبان نے اُس وقت شاید یہ خیال کر رکھا تھا کہ چند ہی روز میں تمام مسلمانوں ماتحت اُن کے زمینداری کے مقدمات کی پیروی میں لگ گئے لیکن آپ کا دل اس کام پر نہ کو پکڑ کر بزور شمشیر گورنمنٹ مسیحی بنالے گی اور وہ اسلام اور بانی اسلام کے خلاف سخت سے لگتا تھا۔چونکہ آپ اپنے والدین کے نہایت فرمانبردار تھے اس لیے والد صاحب کا حکم تو نہ سخت الفاظ استعمال کرنے سے بھی نہ رکتے تھے جہتی کہ بعض دانا یوروپین صاحبان کو ہی اُن ٹالتے تھے لیکن اس کام میں آپ کا دل ہر گز نہ لگتا تھا۔چنانچہ اُن دنوں کے آپ کو دیکھنے تصانیف کو دیکھ کر لکھنا پڑا کہ ان تحریروں کی وجہ سے اگر دوبارہ 1857ء کی طرح غدر ہو والے لوگ بیان کرتے ہیں کہ بعض اوقات کسی مقدمہ میں ہار کر آتے تو آپ کے چہرہ پر جائے تو کوئی تعجب نہیں اور یہ حالت اُس وقت تک قائم رہی جب تک کہ مسیحی پادریوں کو یہ بشاشت کے آثار ہوتے تھے اور لوگ سمجھتے کہ شاید فتح ہوگئی ہے۔پوچھنے پر معلوم ہوتا کہ ہار یقین نہ ہو گیا کہ ہندوستان میں حکومت انگلستان کی ہے نہ کہ پادریوں کی۔اور یہ کہ کوئین گئے ہیں۔جب وجہ دریافت کی جاتی تو فرماتے کہ ہم نے جو کچھ کرنا تھا کر دیا، منشائے الہی وکٹوریہ کی گورنمنٹ بزور شمشیر دین مسیحی پھیلانے کی ہرگز روادار نہیں اور وہ کبھی پسند نہیں یہی تھا اور اس مقدمہ کے ختم ہونے سے فراغت تو ہوگئی ہے۔یاد الہی میں مصروف رہنے کا