سیرت احمد — Page 70
127 126 دین میں غریب ہوتے ہیں وہ غریب یا جو دنیا کے غریب ہوتے ہیں وہ غریب۔کرامتوں کے منکر ہو۔تو قادیان ایک سال کے لئے آجاؤ۔میں تمہیں اس کے اوپر حضور نے چند منٹ گفتگو کی۔اور بار بار حضور نے دہرایا کہ بفضل الہی نشان دکھلاؤں گا۔اور تمہارا سال بھر کا خرچ خوراک میں دوں انبیاء کے ساتھ غریب لوگ ہوتے ہیں۔گا۔سوائے مے نوشی کے جو ہمارے مذہب میں ناجائز ہے۔اگر تم نے نشان ایک دن حضرت صاحب نے فرمایا کہ تبلیغ کرو۔اور باہر جاؤ۔جو شدید دیکھ لیا تو ایمان لے آنا۔اگر نشان نہ سرزد ہوا تو میں تم کو دو صد روپیہ مخالف انسان ہو اس سے اعراض کرو۔جو لوگ مقدمہ میں ہار گئے ہوں یا ان ماہوار کے حساب سے سال کا ہرجانہ چوبیس سو علاوہ خرچ خوراک دوں گا۔کا رشتہ دار مر گیا ہو۔یا بیمار ہو۔یا کوئی کسی قسم کا صدمہ رسیدہ ہو۔ان کے پاس پہنچو اور ان کو تبلیغ کرو۔ان کے دلوں میں صدمہ کے سبب سے تکبر کم ہوتا ہے۔اور جس کا تکبر ٹوٹا ہو تا ہے وہ حق کو قبول کر لیتا ہے۔چنانچہ میں خط لے کر امر تسر گیا۔وہاں محمد حسین کو خط دکھایا۔وہ خط لے کر مولوی غلام علی صاحب کو ملے۔اس کے بعد وہ خط مولوی غلام علی صاحب کو دکھایا۔انہوں نے کہا۔ہم تو پسند نہیں کرتے کہ یہ خط دیں۔کیونکہ اگر ایک دفعہ مجھے حضور نے تبلیغ کے لئے لاہور کی طرف روانہ کیا۔فرمایا آتھم نشان دیکھ کر بھی انکار کر دے تو کیا علاج ہے۔چوہیں سو روپیہ اور اللہ تعالیٰ تم کو جرات بخشے اور استقلال و ہمت کو بڑھائے۔پیچھے سے یہ لفظ خرچ ہو جائے گا۔اور اگر اس نے ویسے نہ مانا۔ظاہری طور پر اسلام لے بھی کہے کہ اس وقت تمہارا تبلیغ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ آئندہ اس سلسلہ بھی آئے تو کیا فائدہ۔اس میں فائدہ کی امید صرف دل پر ہوگی۔اور نقصان کے لئے واعظین کی ضرورت ہوگی تو پھر تم کو بھی مقرر کیا جائے گا اور مال ہے۔ہم پسند نہیں کرتے۔خیر میں وہ خط عبد اللہ آتھم کے پاس معہ دس ہماری جماعت کے مخلص لوگ بھی تم سے محبت رکھیں گے۔مجھے اس کے پندرہ معززین شہر کے لے گیا۔عبد اللہ آتھم نے منظور نہ کیا۔میں نے آکر بعد لاہور شہر میں جو کامیابی ہوئی وہ حضور کی دعاؤں کا ہی نتیجہ تھا۔ایک دفعہ مجھے حضور نے ویرہ کی طرف تبلیغ کے لئے بھیجا اور فرمایا اللہ تعالی تم کو ہمت بخشے اور ترقی عطا کرے۔جاؤ تبلیغ کرو۔عبد اللہ آتھم کے ساتھ مباحثہ شروع ہو نا تھا تو حضرت صاحب نے مجھے چار ورق کا خط لکھ کر دیا تھا۔میں وہ خط لے کر عبد اللہ آتھم کی طرف گیا تھا۔جاتے ہوئے حضرت صاحب نے فرمایا تھا۔امرتسر محمد حسین بٹالوی اور مولوی غلام حسین صاحب ہیں ان کو خط دکھا لینا۔مضمون خط یہ تھا کہ تم مفصل حال حضرت صاحب سے عرض کر دیا۔ایک دفعہ میں حضرت صاحب کے پاؤں دبا رہا تھا۔میں نے عرض کیا۔عالم ارواح کیا ہے۔آپ نے فرمایا۔عالم ارواح ایک عالم ہے اور ضرور ہے۔دیکھو ہماری یہ دہلی والی شادی ابھی نہ ہوئی تھی کہ ہم نے خواب میں چھوٹے چھوٹے بچے دیکھے جو کھیلتے تھے اور میری ٹانگوں کو چمٹتے تھے۔مگراب دیکھو۔وہ خواب پورا ہو گیا۔اور میاں محمود ، میاں بشیر میاں شریف اسی طرح کھیلتے ہیں۔تو ثابت ہوا کہ ان کا وجود عالم ارواح میں تھا۔تو جبھی مجھے