سیرت احمد — Page 71
129 128 دکھایا گیا تھا۔ورنہ کہاں سے نظر آتا۔تشریف لے گئے میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور عرض کیا آپ نے ایک دن میں نے عرض کیا۔حضرت یہ مجذوب لوگ کیسے ہوتے ہیں۔حامد علی صاحب سے فرمایا۔یہ پتاشے وہی نور محمد دے گیا ہے۔پرے رکھ بعض دفعہ یہ عجیب عجیب باتیں کہتے ہیں اور پوری ہو جاتی ہیں۔آپ نے دو۔ہم استعمال نہ کریں گے۔اور مجھے فرمایا۔اگر وہ مل جائے تو اس کو فرمایا۔تزکیہ کے لئے انسان اپنی طبیعت پر خاص اثر ڈال کر اور تکلیف کے میرے پاس لاؤ۔چنانچہ میں نے اس کو تلاش کیا اور حضرت صاحب کے ساتھ جھوٹ سے پر ہیز کرتا ہے۔کانوں کو براسننے سے بچاتا ہے۔حرام نہیں حضور لایا۔آپ نے اس سے سوال کیا۔اس نے کہا میں نے ان کے رعب کھاتا۔اور حرام نہیں پیتا۔غیبت نہیں کرتا۔ان افعال شنیعہ سے جب وہ سے غلط کہہ دیا تھا۔آپ نے اس کو کہا۔اچھا اب لکھ دو کہ واقعہ سچا ہے۔بچتا ہے۔تو تزکیہ نفس ہو جاتا ہے۔باقی لوگوں کو تزکیہ کرنا الگ امر ہے۔اس نے لکھا عبارت درست نہ تھی۔حضور نے سارا واقعہ اپنی قلم مبارک ای طرح مجذوب بلا تکلف افعال شنیعہ سے بچتا ہے۔اس طرح پر مزکی سے لکھا۔اور نیچے لکھا اگر یہ اوپر کی تحریر درست ہے تو تم فی سبیل اللہ انسان میں اور ان میں ایک طرح کی نسبت ہوتی ہے۔اور دونوں سے ایک دستخط کر دو۔چنانچہ اس نے دستخط کر دیے۔حضور نے وہ پرچہ مجھے دے حالت کے کام سرزد ہوتے ہیں۔ہاں ایک سالک بڑے بڑے اجروں کا دیا۔میں نے وہ پرچہ مولوی غلام علی صاحب کو اور دوسرے لوگوں کو مستحق ہوتا ہے۔اور مجذوب کسی اجر کا مستحق نہیں نہ وہ کوئی کمال ہے۔دکھلایا۔نور محمد کا اعتبار جاتا رہا۔میں نے کہا۔خیر اعتبار جاتا رہا تو جاتا رہا۔مگر کیونکہ اس کو وہ حالت خود بخود حاصل ہوئی ہے۔اور اس کی کوشش کا نتیجہ حضرت صاحب سے الزام جاتا رہا۔ہے۔روایات ۵۹ ایک شخص نور احمد نامی کا ذکر براہین احمدیہ میں ایک نشان کے متعلق حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز حضرت صاحب نے کیا ہے۔وہ شخص امرتسر میں مولوی غلام علی صاحب کے پاس رہا کرتا تھا۔جو حضرت صاحب کے بڑے مخالف تھے۔جب براہین ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیر کے لئے جا رہے احمد یہ شائع ہوئی تو وہ نور احمد والا نشان اس میں لکھا ہو ا تھا۔مولوی غلام علی تھے۔راستہ میں کسی نے ذکر کیا کہ مولوی نورالدین صاحب کتاب نے حافظ (نور احمد) کو بلا کر کہا کہ تمہاری نسبت یہ نشان لکھا ہے کیا یہ صحیح ہے نور الدین لکھ رہے ہیں اور اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آگ یا غلط ہے۔اس نے انکار کر دیا کہ واقعہ غلط ہے انہوں نے حافظ نور احمد سے والے واقعہ کا ذکر ہے۔انہوں نے آگ کو جنگ کی آگ ثابت کیا ہے۔و تخط کروالئے اور کئی لوگوں کو دکھائے۔اتفاقاً حضرت صاحب بھی امرتسر آپ نے فرمایا مولوی صاحب سے کہدو۔اور بڑے جوش سے فرمایا کہ