سیرت احمد

by Other Authors

Page 59 of 131

سیرت احمد — Page 59

105 104 قوت ہوتی تھی۔اگر شربت پینے سے ہٹ جاتا۔تو کچھ اعضاء میں درد روایت ۴۸ ضعف پیدا ہو جاتا۔اس واسطے شہد کو خصوصیت سے پیا کرتا تھا۔اس میں یہ خاص خوبی ہے کہ کل اعضا کو طاقت بخشتا ہے۔اس ریاضت میں بہت کشف ہوئے۔ابتداء یوں ہوئی کہ ایک دن ایک صالح مرد دیکھا۔اس نے کہا۔غلام حسین ولد ولی داد ساکن چک پنیال میاں مبارک احمد صاحب بیمار تھے ان کے لئے ملائی کی برف کے لئے اکٹر نے بند کیا ہوا تھا۔مگر میاں مبارک احمد اس سخت بیماری میں بار بار روزے رکھے جائیں۔سو میں نے روزے رکھنے شروع کر دیئے۔جب ملائی کی برف مانگتے تھے۔مگر ٹال دیا جاتا تھا تفاقا ایک برف بیچنے والا نیچے آ تین ماہ کے قریب پہنچا۔ایک شخص بڑا قد آور اور سرخ رنگ کے جسم والا گیا۔میاں مبارک احمد نے رونا شروع کر دیا۔کہ برف لا دو۔ام المومنین میرے سامنے آیا۔یہ الفاظ کہتا تھا۔قرت قرت ، قرت۔یعنی تو قدر دایہ نے حضرت صاحب سے کہا۔اس کو کیا علم ہے آپ پانی کی برف لے جائیں کرد تدر دایہ کیا۔تو قدر دایہ کیا۔تیسرا کشف۔میرے ساتھ زمین نے بھی اور اس کو کہدیں ملائی کی برف کھالو۔حضرت صاحب نے برف کی ڈلی لی اور میاں صاحب کے پاس گئے۔اور حضور نے فرمایا کہ لو میاں یہ برف ہے۔اس کو ہی ملائی کی برف سمجھ کر کھا لو۔انہوں نے پھینک دیا۔ام المومنین نے کہا۔آپ نے یوں کیوں کہا ہے وہ اور رونے لگ گیا ہے۔آپ پھر لے جائیں۔چنانچہ آپ پھر دوبارہ برف لے گئے اور اسی طرح کلام کیا۔روایت ۴۷۔(بھائی) عبدالرحیم صاحب میاں مبارک احمد صاحب کو دفن کرنے کے بعد حضرت اقدس پاس کی فرمایا۔میاں نے برف نہ کھائی۔حضور نے بھی خلاف واقعہ بات نہ کی۔روش پر بیٹھ گئے اور جماعت کو نصیحت فرمائی کہ جس طرف میں لے جانا چاہتا ہوں۔ابھی جماعت نے اس طرف رخ بھی نہیں کیا۔ذراسی مصیبت آتی روایات ۴۹۔ہے۔اسی میں گھبرا جاتے ہیں۔جزع فزع شروع کر دیتے ہیں۔خدا کی دی احمد نور صاحب کابلی ہوئی چیز اگر وہ واپس لے لے تو اس میں ہمارا کیا ہے۔اسی قسم کی نصائح دیر میں حضرت مولوی سید عبد الطیف صاحب شہید عنہ کے پاس خوست تک فرماتے رہے۔ہم لوگ تعجب کرتے تھے کہ اللہ اللہ یہ کس قدر عظیم میں مقام سید گاہ میں رہتا تھا۔اور مولوی صاحب سے پڑھتا تھا۔انہوں نے الشان انسان ہے کہ اپنے بیٹے کی وفات پر بھی افسوس نہیں بلکہ جماعت کو مجھے بتایا کہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ جو ان میں سے میری طرف ایک قدم بھی آویگا۔وہ دوزخ سے بچے گا۔اور بہت معارف قرآن کے بیان کیا کرتے نصیحت کرنے کا ایک موقع نکال لیا۔