سیرت احمد — Page 44
75 74 پاس ہوتے تھے وہ میرے شعروں میں متوجہ ہوتے۔آپ کام میں لگ حضور کو اطلاع دی آپ نے فرمایا اگر وہ گھبراتا ہے۔تم مت گھبراؤ۔اس کو جاتے اور فرماتے حافظ تم پڑھو۔میں کام بھی کرتا ہوں اور سنتا بھی ہوں۔مگر کھانا کھلاؤ بڑی نرمی سے بات کرو اور خواہ کچھ سخت ست کے برداشت وہ عورتیں بچے حضور کے کام میں حارج نہ ہوتے تھے۔میں ابتداء سے کرو۔مہمان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرو۔اس کی سختی کی ہرگز ہرگز پرواہ نہ حضرت مسیح موعود (علیہ الصلوۃ والسلام) کے اند ر زنانہ مکان میں چلا جایا کرتا کرو۔جو کچھ بھی کہے سب برداشت کرو۔جب میں باہر آؤں گا تو ملوں گا۔تھا، دروازہ پر دستک دیا کرتا تھا، جب اندر سے حضرت صاحب اجازت فرما اس دن حضور باہر تشریف نہ لائے اور ملاقات نہ ہو سکی۔میں نے رات کو دیتے تو میں اندر جاتا۔اگر اجازت نہ ہوتی تو واپس آجاتا۔اس شخص کو پوچھا۔تم کام بتاؤ۔اس نے بڑی لمبی چوڑی باتیں کر کے بتایا۔جب براہین احمدیہ چھپ گئی۔لوگ اس کو دیکھ کر جوق در جوق آنے میری تجارت تھی وہ خراب ہو گئی۔مجھے چار سو روپیہ کی ضرورت ہے۔وہ شروع ہوئے۔پھر بیعت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔لوگ بیعت کرنے لگ عرض کر کے دلوا دو۔چنانچہ میں نے حضرت صاحب سے عرض کر دیا۔آپ گئے۔قادیان میں رونق ہونے لگی۔ہر قسم کے تحائف اور روپے اور جگہ صبح کو نماز کے وقت تشریف لائے۔تو اس وقت اس سائل سے ملاقات جگہ سے انسان آنے شروع ہو گئے۔ہوئی۔اس نے سوال کیا۔آپ نے فرمایا۔میرے پاس اس وقت روپیہ براہین احمدیہ کے شائع ہونے سے پہلے حضور نے بتایا کہ براہین احمدیہ نہیں ہے اور میرا کام تو کل پر ہے۔جو آتا ہے خرچ کر دیا جاتا ہے۔یہ خیال کے شروع کرنے سے پہلے کھانا کھانے والوں کے علاوہ میرے پاس پچپن لوگوں کا غلط ہے کہ جب عیسی ، آدیں گے تو ان کے پاس خزانہ ہو گا۔جو ہزار سائل آئے اور میں نے ان کو کچھ نہ کچھ دیا اور یہ تعداد میں لکھتا رہا۔آوے گا۔اس کو بوریاں بھر بھر کر دولت دیوے گا۔یہ غلط ہے۔دولت کی مگر جب الہامات شروع ہوئے پھر میں نے یہ لکھنا چھوڑ دیا۔بوریاں ہمارے پاس نہیں۔ہاں قرآن مجید کا خزانہ خدا نے مجھے دیا ہے وہ ایک دفعہ ایک سائل آیا اور حضور نے اس کے سوال پر گیارہ روپے حسب استعداد ہر ایک کے لئے تقسیم ہوتا ہے جو چاہے فائدہ حاصل میرے ہاتھ بھیجے آپ حتی الامکان سائل کو خالی نہ جانے دیتے تھے مگر جو کرلے۔آخر سائل کو کچھ دیا گیا۔مگر وہ جاتا ہوا ایک خط لکھ کر حضرت سائل فضول خرچی کے لئے کچھ مانگے اسے سمجھا بجھا کر واپس کر دیتے تھے۔صاحب کو دے گیا جو سارے کا سارا گالیوں سے پر تھا۔آپ نے وہ خط پڑھا ایک دفعہ ایک شخص آیا اور مجھ سے پوچھا حضرت صاحب کہاں ہیں۔اور خط کو حضرت مولوی نورالدین صاحب کے پاس بھیجا کہ مہمان صاحب میں نے کہا گول کمرہ میں ہیں۔بیٹھو جب حضرت صاحب تشریف لاویں گے یہ انعام دے گئے ہیں۔مل لینا۔وہ بہت گھبرا تا تھا۔ابھی ملنا ہے سختی سے کہتا تھا۔آخر میں اندر گیا۔ایک دن ہمیں مرزا نظام الدین نے بلا کر کہا کہ حضرت صاحب سے │