سیرت احمد

by Other Authors

Page 42 of 131

سیرت احمد — Page 42

71 70 ایک دن مسجد اقصیٰ کے پاس سے گذر رہا تھا حضرت صاحب معہ میاں احسان کرتے تھے۔کتابیں تا شرح ملا کافیہ حضرت صاحب سے پڑھیں۔یہ دل لگا کر پڑھتے تھے حضور نے مرزا سلطان احمد کو فارسی بھی پڑھائی۔فضل احمد جان محمد کے وہاں ٹہل رہے تھے۔میرے جو تہمد باندھا ہوا تھا وہ لنگوٹ کی بھی حضور کے پاس پڑھتا تھا مگر وہ دل نہ لگا تا تھا۔اور اکثر ادھر ادھر دوڑ جایا کرتا تھا۔اس لئے اسے کچھ کم علم نصیب ہو ا تھا۔صرف تھوڑا بہت اردو ہی سیکھا تھا۔طرح کا تھا، اور اس سے پنڈلیاں ننگی ہوتی تھیں گھٹنوں تک بمشکل آتا تھا۔آپ نے دیکھ کر فرمایا۔یہ نابینا حافظ یو نہی آوارہ پھرتا ہے۔قرآن پڑھے تو بہت ہی بہتر ہے۔اگر قرآن نہیں پڑھتا تو کم از کم کوئی قصہ وغیرہ یاد کرلے“ ایک دفعہ میرے روبرو مرزا غلام قادر مرحوم نے آخری ایام میں مرزا سلطان احمد کو بلایا اور سمجھایا کہ میں آج کل بیمار ہوں۔دنیاوی کاموں میں بھی اکیلا ہی رہا اور تم بھی اکیلے ہی ہو۔مگر یاد رکھو۔بھائی صاحب سے (مرزا روٹی کا گزارہ تو چل جائے۔اس بات کا مجھ پر بڑا اثر ہوا۔چنانچہ میں نے قصے (سوہنی وغیرہ کے یاد کرنے شروع کر دیئے۔اور میں اپنے بھائی کے ساتھ گداگری کو جاتا تو قصے پڑھتا۔کیونکہ ہماری ذات بھرائی تھی اور ہم غلام احمد صاحب سے میں بھی قانونی باتوں میں بہت مشورہ لیتا تھا۔تم بھی مشورہ لے لیا کرو۔جب براہین احمدیہ چھپنی شروع ہوئی۔حضرت صاحب کو لوگ بھیک مانگ کر گزارہ کرتے تھے مگر وہاں ان قصوں نے تو کام خوب دیا۔لوگ قصہ سنتے اور کچھ دے دیتے۔مگر مجھے یہ تکلیف ہوئی۔کہ جب میں روپے کی ضرورت ہوئی۔آپ نے ایک دن اپنی بیوی سے کہا کہ تمہارے پاس زیور طلائی و نقری ہے۔تم مجھے بطور قرض کے دے دو۔ہمیں کتاب کی چھپوائی میں ضرورت ہے۔جب اس نے سنا تو انکار کر دیا کہ آپ تو ملاں آدمی ہیں۔دن رات نماز روزوں اور قرآن کتابوں میں لگاتے ہو۔میں وہ زیور بھی جو میرے ساس خسر نے دیا ہے تم کو دیکر کھو دوں۔خیر زور نہ دیا۔آپ خاموش رہے۔نماز پڑھنے لگتا۔تو میرا بھائی مجھے روکتا کہ نماز نہ پڑھو۔اس طرح مانگنے میں ہرج ہوتا ہے۔میں نے دعا کی خدایا اس سے چھڑا۔چنانچہ خدا کی حکمت دیکھو۔ایک دن میں حضرت صاحب کی طرف آیا۔مرزا غلام قادر صاحب مرحوم بیمار تھے۔انہیں قصے سننے کا شوق تھا۔بوجہ بیماری بیکار رہتے تھے قصہ سن کر خوش ہوتے۔دن کو تو لوگ آجاتے تھے مگر رات کی تنہائی میں گھبراتے۔میاں جان محمد صاحب نے ان سے ذکر کر دیا کہ حافظ معین الدین ایک دن حضور نے میاں جان محمد کو کہا کہ کچھ روپیہ قرض دو۔براہین خوب قصہ جانتا ہے۔انہوں نے حضرت صاحب سے سفارش کی کہ آپ احمدیہ کی چھپوائی کے لئے ضرورت ہے۔اس نے کہا پانچ روپے ہیں۔آپ اس حافظ کو کہدیں کہ میرے پاس رہا کرے۔چنانچہ حضرت صاحب نے نے لے لئے۔تھوڑے ہی عرصہ بعد روپے آگئے۔آپ نے وہ واپس کر مجھے فرمایا۔حافظ صاحب تم مرزا غلام قادر صاحب کے پاس رہا کرو۔وہ دیئے۔شاید کچھ زیادہ ہی دیا۔کیونکہ آپ کی عادت تھی کہ ہمیشہ لوگوں پر |