سیرت احمد — Page 41
69 68 روٹیاں آتیں مگر حضور تقریبا سب ہی تقسیم کر دیتے اور جہاں تک مجھے علم عمارت تین چار دفعہ میں آپ کے پسند آئی تھی۔مسجد مبارک بھی میری ہے میں نے اس وقت لوگوں سے سنا کہ حضور ایک روٹی کی چوتھائی تناول موجودگی میں بنی ہے۔کوچہ پر ڈاٹ لگی اور یہ تین کمرے بنے تھے۔ایک فرماتے ہیں۔اس میں سے تین چوتھائی روٹی تقسیم کر دیتے۔شام کے وقت محراب کا کمرہ تھا۔آگے اور دوسرا کمرہ بڑا تیسرا کمرہ تھا یہ جگہ اس وقت لڑکوں سے چنے بھنوا کر منگوالیا کرتے تھے۔اس میں سے بہت سا حصہ پاس ویران پڑی تھی۔دھتورے اور آک اور ڈیلوں کے بوٹے یہاں کھڑے بیٹھنے والوں کو دے دیتے خود تھوڑے ہی چبایا کرتے تھے۔ہوتے تھے۔میں اور اور لڑکے کھیلا کرتے تھے۔حضرت صاحب کی عادت تھی ، دروازہ بند رکھتے تھے ، اگر دنیا دار وجیہہ حضرت صاحب گوشہ نشینی میں ذکر الہی کرتے تھے۔قرآن پڑھتے تھے لوگ ملنے کو آتے تو آپ ان کے ملنے کے لئے بہت کم دروازہ کھولتے تھے۔حدیث دیکھتے تھے اور نوٹ کرتے تھے۔آخر آپ نے براہین احمدیہ لکھنی ہاں جب کوئی مسکین آدے اور آواز دے تو آپ دروازہ کھول دیتے۔شروع کی۔اور وہ اس طرح کہ ایک شخص شمس الدین نامی حضرت صاحب آپ مسکینوں اور غربا کے کنبوں سے بہت محبت کرتے تھے۔بڑی مسجد اقصیٰ کے پاس ہو تا تھا۔آپ ٹہلتے تھے بغیر کتاب کے۔آپ براہین احمدیہ کی نامی میرے سامنے بنی ہے۔حضرت صاحب کے والد صاحب نے یہ جگہ عبارت پڑھتے تھے۔اس کو کہتے تھے لکھتا جا۔وہ لکھتا جاتا تھا۔حضرت سات سو روپیہ کو ہندوؤں سے خرید کی تھی۔ان دنوں میں جوان تھا۔طاقت صاحب شملتے رہتے اور مضمون لکھاتے رہتے تھے۔مگر شمس الدین حقہ پیا اچھی تھی، بھوک زیادہ لگتی تھی۔جو کھانا حضرت صاحب کے ہاں سے ملتا کرتا تھا۔اور اس کی توجہ میں بعض دفعہ غلطی ہو جایا کرتی تھی۔جب حضور وہ تو سب مسکینوں کو حصہ رسدی ملتا تھا۔اس سے میری شکم پوری نہ ہوتی فرماتے مسودہ مناؤ۔وہ سنا تا آپ فرماتے۔تم نے تو مسودے کا بیڑا غرق کر تھی۔سوال کرنے سے مجھے نفرت تھی۔زیادہ سوال میں نہ کرتا تھا اکثر دفعہ دیا۔اور بہت غلطیاں کیں۔اس کو رد کروا کر دوبارہ لکھواتے تھے۔اسی بھوک کے وقت میں مسجد اقصیٰ میں توت کے پتے کھالیا کرتا تھا۔ایک دفعہ طرح براہین احمدیہ کا مسودہ حضور نے لکھوایا۔اور حضور کے پاس کوئی حضرت صاحب نے مجھے ایسا کرتے دیکھ لیا۔میری جھولی سے پتے گر پڑے۔کتاب وغیرہ نہ ہوتی تھی۔زبانی ہی مضمون لکھواتے تھے۔جب مسودہ آپ نے فرمایا حافظ یہ پتے کیسے ہیں؟ میں نے کہا۔حضرت بھوک کے وقت درست لکھا جاتا۔پھر غلام محمد کاپی نویسی کرتا تھا۔اس کو مسودہ ملتا تھا۔وہ کاپی لکھتا تھا اور وہ کاپی پھر چھپ جایا کرتی تھی۔مرز اسلطان احمد صاحب نے قرآن تو مسجد میں پڑھا۔مگر بعد میں حضرت صاحب نے خود مرزا سلطان احمد صاحب کو قرآن پڑھایا اور سبقا " سبقا " کئی کھالیتا ہوں۔گول کمرہ میرے رو برو بنا ہے۔یہ کئی دفعہ گرا کر بنایا۔حضور کے والد روبرو جب دیکھتے کہ ذرہ خم رہ گیا ہے۔پھر گروا کر بنواتے۔اسی طرح اس کی | !