سیرت احمد — Page 28
43 42 جاکر عرض کر دو کہ میاں عبد اللہ سنوری کا بھتیجہ مصافحہ کرنا چاہتا ہے۔تھوڑی دیر کے بعد آواز میں پڑنی شروع ہو ئیں۔میاں قدرت اللہ سنوری ہمیں تعمیل حکم کرنی ضروری ہے۔اگر آپ حضرت صاحب کے پاس سفارش کر دیں کہ یہ تو حضور کے فیض صحبت کے لئے آئے ہیں۔آپ ان کو حضرت صاحب بلاتے ہیں۔میں نے جب سنا تو دوڑتا ہوا گیا جس مکان کو نہ بھیجیں۔بلکہ بیوی والے کو لکھ دیں وہ آکر اپنی بیوی کو لے جائے۔ام میں آج کل حضرت میاں بشیر احمد صاحب تشریف رکھتے ہیں اس میں ان المومنین نے حضرت صاحب سے عرض کر دی۔آپ نے فرمایا۔بہت دنوں مہمان رہتے تھے۔اس مکان کے زینہ سے اوپر گیا۔مکرم عبد اللہ مناسب ہے۔میاں قدرت اللہ صاحب کو ہماری طرف سے لکھ دو کہ سنوری صاحب بھی میرے ساتھ اوپر گئے۔تو درواز کے آگے کیا دیکھتا حضرت صاحب نے فرمایا ہے کہ خود آکر اپنی بیوی کو لے جاؤ۔چنانچہ خط لکھا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے محبوب تمہ باندھے اور گلے میں کرتہ سر پر رومی ٹوپی گیا۔میں خط کو دیکھتے ہی جائے ملازمت سے سنور کو روانہ ہوا۔اور گھر سے پنے کھڑے ہیں۔السلام علیکم کے بعد مصافحہ کیا۔اور میں نے جو جو عرض کی خرچ اور پار چات ضروری لیکر دار الامان کا قصد کیا۔مکرم عبد اللہ صاحب حضور نے سنی اور دعا کی درخواست پر خوش ہو کر فرمایا بہت اچھا دعا کریں بوجہ بیماری مکرمی رحمت اللہ صاحب سنور رخصت پر تھے۔انہوں نے مجھے گے۔اور اس کے بعد خود ہی تبسم لب ہو کر فرمایا کہ ہم نے تو تمہارے رشتہ حضرت صاحب کے نام خط لکھ دیا اور مکرم رحمت اللہ کی بیماری کا حال بھی کے لئے بھی سفارش کر دی ہے۔اب اجازت ہے۔جلدی جاؤ۔چنانچہ میں لکھا۔اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ حضور نے جو نسخہ قبل ازیں بھیجا ہے اس میں ایک دوائی برگ بیلا لکھی تھی، وہ نہیں ملتی ، اس کا پتہ دیویں۔میں فورا چلا گیا۔ایک دفعہ میرے خسر اور میری بیوی قادیان آئے ہوئے تھے۔وہ ایک قادیان پہنچا۔ظہر کی نماز ہو رہی تھی ، نماز میں شامل ہو گیا۔حضرت صاحب ماہ کے لئے آئے تھے یہاں وہ زیادہ دن ٹھہر گئے۔میں نے اپنے خسر کو خط لکھا نماز سے فارغ ہو کر اندر چلے گئے۔میں نے سلام پھیر کر ایک خادمہ کے ہاتھ کہ میری بیوی کو واپس پہنچا دیں۔انہوں نے وہ خط حضرت صاحب کو دکھا خط اندر بھیجا اور میں ایک دوست سے باتیں کرنے لگا جب حضرت صاحب کو دیا۔آپ نے فرمایا۔یہ بہت خوب بات ہے۔فورا ان کی بیوی کو ان کے خط ملا آپ خط دیکھتے ہی فورا باہر تشریف لائے۔دروازہ پر آکر جب دیکھا پاس پہنچا دو۔جب انہیں ضرورت ہے تو پھر ان کا یہاں ٹھہرنا اچھا نہیں مجھے موجود نہ پایا۔آپ واپس اندر تشریف لے گئے۔جب میں اس دوست ہے۔میرے خسر سن کر خاموش رہے۔اور گھر سے میری خوشدامنہ کو اندر سے بات کر کے فارغ ہوا تو فورا جا کر پردہ کے پاس دروازہ پر کھڑا ہو گیا۔بھیجا۔انہوں نے ام المومنین کے پاس عرض کیا۔کہ حضرت صاحب نے اندر سے ایک خادمہ آئی اس نے مجھے پوچھا کیوں کھڑے ہو۔میں نے کہا آج ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ اپنی لڑکی کو اپنے داماد کے پاس چھوڑ آؤ۔اب حضرت صاحب سے ملنا ہے۔اس نے کہا تم قدرت اللہ سنوری ہو۔میں نے۔