سیرت احمد — Page 14
15 14 ہوں۔خدا جب کسی شخص سے کوئی کام لینا چاہتا ہے۔خود فہم عطا فرما دیتے ہے۔میں حیران رہ گیا۔پیچھے واقعہ میں ذکر کر چکا ہوں کہ حضور نے مجھے پنشن کے لئے فرمایا۔جب دو تین ماہ گزر گئے۔ستائیس تاریخ انگریزی مہینہ کی تھی۔میں دفتر میں کام کرنے گیا۔دفعتہ خیال آیا کہ حضرت صاحب نے پنشن کے لئے فرمایا تھا اور وہ وقت جو مقرر فرمایا تھا پورا ہو گیا۔میں نے پینشن کی درخواست لکھ کر اسی وقت صاحب کے پیش کی۔اس نے بہت اصرار کیا کہ ابھی تم دس سال نوکری کے قابل ہو۔میں نہ مانا۔اس نے حکم دیا اچھا تین دن ٹھہر جاؤ مہینہ ختم ہو جائے۔تنخواہ پورے مہینہ کی لینا۔مگر میرے دل میں کچھ ایسا اثر حضور کے فرمان کا ہوا ہوا تھا کہ میں نے انکار کر دیا کہ میں تو ایک دن بھی نہیں ٹھہر سکتا۔فرمایا اچھا جاؤ چارج فلاں کلرک کو دے دو۔حکم ہو گیا۔چونکہ میں کانفیڈ نشنل کلرک تھا۔اس لئے چارج نہایت احتیاط سے دیا۔اور وہ کاغذات جو ضروری اور سر بمہر رکھے ہوئے تھے۔سب کچھ سمجھا کر چارج دے کر میں اسی روز گھر آیا۔اگلے روز پتہ لگا کہ دفتر میں چوری ہو گئی اور وہ کانفیڈ نشنل کا غذات چوری ہو گئے۔اس شخص کو جو میری جگہ مقرر ہوا تھا۔ڈی گریڈ کیا گیا۔کچھ دنوں اسے تکلیف ہوئی۔اگر میں وہاں ہو تا چونکہ میں پرانا ملازم تھا۔میری غلطی تو سخت مواخذہ لاتی۔یہ حضور کے فرمان کا اعجاز تھا کہ مجھے اس چوری سے پہلے پنشن پر آمادہ کر لیا۔ورنہ میری ساری ملازمت رائیگاں جاتی اور خدا معلوم کیا کیا تکلیفیں اٹھانی پڑتیں۔ایک شخص لاہور میں تھا جو کہ مہدی بنا پھرتا تھا۔لوگوں نے جو شریر الطبع تھے اسے اکسایا۔حضرت صاحب لاہور تشریف لے گئے تھے اس نے پیچھے سے آکر حضرت صاحب کو بھی ڈال کر گرانا چاہا۔ہم مارنا چاہتے تھے۔حضور نے روک دیا۔اور فرمایا۔اس کو مت مارو۔اس کا کیا قصور ہے۔اس کو بصیرت ہی نہیں۔ایک دفعہ حضور لاہور میں تھے۔ایک شخص سراج الدین نامی بازار میں سامنے آیا اور گالیاں دینی شروع کیں اور گالیاں بھی بخش گالیاں حضور کے ہاتھ میں گلاب کا پھول تھا اسے سونگھتے رہے۔وہ گالیاں نکالتا رہا۔حتی کے آپ قیام گاہ پر آگئے۔وہ بھی وہاں آگیا۔اور تقریباً آدھ گھنٹہ وہاں رو برو کھڑا ہو کر سخت نخش بکتا رہا۔آپ خاموش بیٹھے رہے۔جب چپ ہو گیا۔آپ نے فرمایا بس اور کچھ فرمائیے۔وہ شرمندہ ہو کر چلا گیا۔جس سال میلا رام کے منڈوہ میں حضور کا لیکچرلاہور میں ہوا تھا۔اس سال حضرت صاحب میرے مکان پر ٹھہرے ہوئے تھے۔سامنے آکر ہزاروں مخالف لوگ کھڑے ہوتے ، بعض بد معاش برابھلا کہتے۔حضور سنتے مگر کچھ نہ کہتے۔ایک بد معاش مولوی جس کا نام ہم نہیں جانتے تھے ، جب حضرت کو ٹھے پر ہوتے سامنے سڑک پر ایک درخت ٹالی کا تھا، وہ اس پر چڑھ کر سخت گالیاں دیتا تھا۔(لوگ اس کو مولوی ٹالی کہنے لگے مگر حضرت کچھ نہ کہتے۔بلکہ کسی دوست کو بھی کچھ نہ کہنے دیتے۔ورنہ اگر حضور اشارہ فرماتے تو نہ معلوم کیا سے کیا ہوتا۔کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں حضور کے غلام موجود ہوتے تھے۔