سیرت احمد — Page 125
237 236 میری دوسری شادی کے بعد ایک سال بھی نہ گذرا ہو گا کہ میں " تحصیل فوت ہو گئی۔موجودہ بیوی کے والد چوہدری کریم بخش صاحب موضع رائے پور ریاست نابھ کے باشندے تھے جو املوہ سے دو میل کے فاصلے پر تھا۔میں سرہند میں اپنے ہیڈ کوارٹر میں تھا۔کسی معاملے کے متعلق میں اپنی بیوی سے ان ایام میں تحصیل سرہند میں ملازم تھا۔میرے ہیڈ کوارٹر اور ان کے گاؤں ناراض ہو گیا اور دو تین دن تک ہماری بحث ہوتی رہی۔تیسرے دن مجھے کا فاصلہ قریباً ۱۵ کوس تھا۔کیونکہ یہ اپنے باپ کی اکلوتی تھیں۔ان کی والدہ خواب میں حضرت مسیح موعود کی زیارت ہوئی۔حضور نے مجھے فرمایا کہ اور ان کی بھی خواہش تھی کہ جلدی جلدی ملتی رہا کریں۔تو کبھی ہفتے کبھی دو دیکھو میاں اپنی بیوی سے سختی سے پیش نہ آیا کرو۔یہ ہماری بیٹی ہے۔چنانچہ ہفتے کے بعد میں انہیں وہاں لے جاتا تھا۔بار بار جانے کی تکلیف کی وجہ سے اس وقت سے آج تک میں ان کا بہت احترام کرتا ہوں۔اور کبھی اگر بھول میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ مکرم عبداللہ صاحب مرحوم نے کہاں کر ان سے ناراض ہو جاتا ہوں تو اس واقعہ کے یاد آتے ہی فورا استغفار گاؤں میں میرا رشتہ کر دیا کہ اس طرح آنے جانے کی تکلیف ہوتی ہے۔کرتا ہوں۔چونکہ میں اس وجہ سے ان کا احترام کرتا ہوں کہ مجھے حضور نے کسی شہر میں رشتہ ہوتا تو بہتر ہوتا اور اس طرح روز روز کی تکلیف سے خواب میں ایسا فرمایا ہے لیکن ہمارے رشتہ داروں میں عام بات یہ مشہور بچتا۔اس خیال کے بار بار آنے سے مجھے تکلیف محسوس ہوئی۔میں نے ہے کہ مولوی صاحب اپنی بیوی سے ڈرتے ہیں۔حتی کہ حضرت خلیفتہ اصبح خواب میں دیکھا کہ میں قادیان شریف گیا۔یکوں کے اڈے پر جب میں اترا الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے بھی کئی دفعہ لوگوں سے ذکر فرمایا ہے کہ یہ اپنی تو وہاں حضرت مسیح موعود تشریف فرما تھے۔میں نے سلام عرض کر کے بیوی سے خوب ڈرتے ہیں۔مصافحے کے لئے ہاتھ آگے بڑھائے۔تو حضور نے معانقے کے لئے ہاتھ بڑھا ایام خلافت اولیٰ میں چونکہ خلیفہ اول رمضان شریف میں تمام قرآن کر چھاتی سے مجھے لگالیا۔حضور نے اپنے دونوں ہاتھ بڑھا کر میری پشت پر کریم کا درس دیتے تھے۔اس لئے میں رمضان شریف کا تمام مہینہ قادیان باندھے ہوئے تھے میں نے بھی اسی طرح باندھ لئے جب دونوں نے ہاتھ میں آکر بسر کرتا تھا۔جب بھی گنجائش ہوتی تو حضرت ام المومنین دارا مسیح چھوڑے تو اس وقت میں نے دیکھا کہ حضور کی بجائے میرے خسر چوہدری میں جگہ دے دیتیں۔ایک سال میں چھتے کے اوپر جو کمرہ ہے اس میں ٹھہرا کریم بخش صاحب تھے۔میں خواب سے بیدار ہو گیا۔وہ جو میرے دل میں ہوا تھا۔اوپر صحن سارا کھلا تھا۔جس میں حضرت ام المومنین اور حضرت کوفت تھی کہ میرا رشتہ کہاں ہو گیا وہ بالکل دور ہو گئی اور میں سمجھ گیا کہ یہ خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی حرم اول کی رہائش تھی۔میں نے حضور کے رنگ میں رنگین ہیں۔چوہدری کریم بخش صاحب کا وصیت نمبر ۱۹ جب نیچے سے اوپر آنا ہو تا تو میں آوزیں دینے لگتا ( تاکہ پردہ ہو جائے) ایک ہے اور وہ قادیان کے قطعہ صحابہ میں مدفون ہیں۔دن حضور نے مجھے آوازیں دیتے سن لیا۔حضور صحن میں آگے بڑھے اور