سیرت احمد

by Other Authors

Page 67 of 131

سیرت احمد — Page 67

121 120 رات میں صرف دو تین گھنٹے سوتے تھے۔دن رات آپ علاج اور دعاؤں حضرت مسیح موعود" پر خدا کا یہ خاص فضل تھا کہ گرمیوں کے موسم میں میں لگے رہتے تھے۔اس قدر محنت اور محبت سے آپ تیمار داری کرتے تھے جب سخت گرمی دو تین دن پڑتی۔تو تھوڑی بہت بارش ضرور برس جایا کرتی کہ دوسرا انسان آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اسی طرح حضور مولوی تھی۔ایک دن مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے عرض کیا کہ حضرت کئی عبد الکریم صاحب کی بیماری میں تیمار داری کرتے تھے۔اگر کوئی کمزور ایمان دن سے بارش نہیں ہوئی۔اگر حضور فرما ئیں تو کل نماز استسقاء پڑھی کا انسان مبارک احمد کی بیماری میں حضور کی مصروفیت دیکھتا تو ٹھو کر کھا جاتا۔جائے۔آپ نے فرمایا بہتر۔مگر اللہ تعالیٰ کا احسان کہ رات کو ہی بارش ہو کہ شائد یہ لڑکا ان کا خدا ہے جو اس قدر کوششیں اس کی صحت کے لئے ہو گئی۔حضرت منشی اروڑے خان صاحب رہی ہیں۔مگر جب وقت وفات میاں مبارک احمد قریب آیا۔حضرت خلیفہ اول مولوی نور الدین صاحب کے ہاتھ میں نبض تھی۔انہوں نے فرمایا۔روایت ۵۷ حضور نبض کمزور ہو گئی۔مشک لائیے۔حضور علیہ السلام جلدی سے مشک لا کر واپس آرہے تھے کہ مولوی صاحب نے دیکھا اور نبض سے معلوم کیا کہ ایک دن میں قادیان آیا گرمی کے دن تھے۔سخت تپش ہو رہی تھی۔میاں مبارک احمد کی جان نکل گئی۔بے ساختہ مولوی صاحب موصوف کے میں نے عرض کیا کہ حضور واپس جاتا ہے۔مگر دل چاہتا ہے کہ راستہ میں منہ سے نکلا۔حضور جان نکل گئی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بارش پڑے اور بھیگتا جاؤں۔حضور نے فرمایا۔نے فرمایا۔قلم دوات کاغذ لاؤ۔جب کاغذات اور قلم و دوات پیش کی گئی۔اس کی رحمت سے کیا بعید ہے" حضور نے فور آمریدوں کو خط لکھنے شروع کر دئیے۔اور لکھتے تھے۔کہ گھبراؤ جب بٹالہ پہنچے تو فور ابادل نمودار ہو کر بارش ہونی شروع ہو گئی اور اسٹیشن مت یہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہے۔تک پہنچنے سے پہلے تمام کپڑے تر ہو گئے اور پانی ہی پانی ہو گیا۔میرے رفیق اللہ اللہ یا تو یہ کوشش یا جان نکلتے ہی یہ حالت کہ خود بالکل مطمئن ہیں سفر نے کہا درخت کے نیچے ہو جاویں۔میں نے کہا۔نہیں ہم نے دعا کراکر اور جماعت کے لوگوں کی تسلی کے لئے خط لکھ رہے ہیں۔پھر آپ نے اس بارش منگائی۔اب تو بھیگتے ہی جائیں گے۔چنانچہ ہم بارش میں ہی سٹیشن پر ندر محنت کیوں کی۔اس کا جواب یہ ہے کہ حضور کو کامل ہمدردی تھی۔اور چلے گئے۔) اس ہمدردی کو حضور نے حد تک نبھایا۔جب خدا کا فعل سرزد ہو گیا۔پھر کچھ رنج نہیں کیا۔I