سیرت احمد — Page 68
123 122 روایات ۵۸ ضرور تشریف لادیں۔آپ نے منظور فرمالیا اور تاریخ مقررہ پر حضور حضرت مولوی قطب الدین صاحب ولد غلام حسین صاحب تشریف لے گئے۔سٹیشن پر عصر کے وقت پہنچے۔معززین شہر لدھیانہ) ساکن چند ہر (Chandhar) ضلع گوجرانواله حال مهاجر قادیان استقبال کے لئے موجود تھے۔جب حضور اترے۔ایک واقف شخص نے میرا حضرت صاحب کے ساتھ اس وقت سے تعلق ہے جب کہ سلسلہ حضور کو پہچان لیا۔کہ تشریف لے آئے ہیں۔جب حضور سٹیشن سے باہر بیعت شروع نہیں ہوا تھا۔میں اسی وقت سے حضرت صاحب کا معتقد تھا۔نکلے تو سب لوگوں نے مصافحہ کیا۔نواب علی محمد خان نے کہا۔میری کو ٹھی پر اور اولین بیعت کنندگان سے ہوں۔اور میں نے حضرت صاحب کو لدھیانہ تشریف لے چلیں۔مگر میر عباس علی نے کہا۔یہ مبارک وجود آج میرے گھر میں دیکھا۔جب پہلی ہی بار وہاں تشریف لے گئے۔وہ اسی طرح پر ہوا کہ میں قدم مبارک رکھے۔حضور نے منظور فرمالیا۔اور میر عباس علی کے ہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو میر عباس علی نے خط لکھا کہ حضور ٹھہرے۔میں نے اس دن حضور کو اول بار دیکھا اور مصافحہ کیا۔میری لدھیانہ تشریف لا ئیں۔چنانچہ اس کا جواب حضرت صاحب کی طرف سے آنکھوں سے پانی جاری ہو گیا۔بدن نرم ہو گیا اور ایسی حالت تھی جیسی گیا کہ میں نے رویا میں دیکھا ہے کہ کوئی شہر ہے۔اس میں میں نے سرور کی ہوتی ہے۔اور مجھے یقین ہو گیا کہ جیسے پہلے راستباز اور صادق مسلمانوں کی جماعت کو نماز پڑھانے کا ارادہ کیا ہے۔تو میرے اندر انہوں بندے خدا کے دنیا میں آئے ہیں۔یہ بھی انہیں میں سے ہیں۔نے کوئی مخالف بات دیکھی ہے۔ان لوگوں نے میرے پیچھے کھڑا ہونا نا پسند جتنے روز حضور لدھیانہ میں رہے۔میں حضور سے ملتا رہا۔اور ایک دن کیا۔(قریباً قریباً یہی بات تھی) اور سب لوگ الگ ہو گئے ہیں۔جب میں عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ حضور سے تعلق رکھوں۔اور الگ نہ ہوں۔نے دیکھا تو میرے پیچھے صرف آپ ہی ہیں (یعنی میر عباس علی ہیں) ممکن ہے مگر کیا کروں طالب علمی کا زمانہ ہے۔اور تحصیل علم بھی ضروری ہے۔آپ کہ میرے آنے سے اس شہر میں مسلمانوں کو کوئی ابتلا آجائے۔قدم نے فرمایا۔تم میرے پاس قادیان میں آنا۔پھر میں وہاں امرتسر مولوی غلام الخروج قبل البروج۔اس واسطے میں نہیں آنا چاہتا۔ہاں اللہ تعالیٰ چاہے تو علی صاحب کے پاس آیا۔میں امرتسر سے کبھی ہفتہ بعد کبھی دو ہفتہ بعد آسکتا ہوں۔کیونکہ بندہ بغیر حکم الہی کے قدم نہیں اٹھا سکتا۔قادیان آیا کرتا تھا۔ان دنوں مہمانوں کی کثرت نہ ہوتی تھی۔ان دنوں میں مولوی عبد القادر صاحب اور میر عباس علی نے دوبارہ خط لکھا کہ خواب حضور مجھے بعض وقت کرایہ بھی اپنے پاس سے دے دیا کرتے تھے۔کا واقعہ ہے اور خواب میں شہر کا نام نہیں۔ممکن ہے کوئی اور شہر ہو۔آپ ایک مرتبہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ جو سادہ لوگ غریب ہوتے ہیں وہ انبیاء کے ساتھ ہوتے ہیں۔وہ مولوی بحث میں پڑنا چاہتا تھا۔مگر حضرت