سیرت احمد

by Other Authors

Page 46 of 131

سیرت احمد — Page 46

79 78 دیتے ہیں۔چونکہ قرآن میں آیا ہے کہ مومن مصیبت میں بھی خوش ہوتا ہے۔نظام الدین کا لڑکا دل محمد نامی مر گیا۔بڑی جزع فزع ہوئی۔مگر کچھ دن کے بعد میاں مبارک احمد صاحب کی وفات ہو گئی۔اس دن میں نے دیکھنا چاہا کہ مصیبت میں خوشی کس طرح ہوتی ہے۔چنانچہ میاں مبارک احمد کا جنازہ لے کر بہشتی مقبرہ میں گئے۔وہاں قبر میں دیر تھی۔حضرت صاحب بلا تکلف ایک دن حضرت صاحب کے پاس کسی نے عرض کیا کہ بٹالہ میں مخالف لوگ شور کرتے ہیں کہ احمدی لوگ قادیان میں رہ کر شراب پیتے ہیں۔حضور نے فرمایا اس کی تحقیقات کرو۔رائی کا پہاڑ بنتا ہے۔مگر جب تک کچھ وجود نہ ہو۔انسان سے کچھ نہیں بنتا۔چنانچہ اس کی تحقیقات کی گئی تو معلوم ہوا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب کا ایک رشتہ دار جو رشتہ میں ان کا بھتیجا تھا وہ شراب پیتا ہے۔اور ہندو بازار میں جا کر چوری چھپے یہ کام کرتا زمین پر بیٹھ گئے۔خدام ارد گرد بیٹھ گئے۔جب سب لوگ بیٹھ گئے تو ہے۔حضرت صاحب کو اطلاع دی گئی آپ نے ناراض ہو کر فرمایا۔مولوی حضرت صاحب نے فرمایا۔خوشی اور غمی کے دن کبھی کبھی آیا کرتے ہیں۔صاحب سے کہدو کہ اس کو فورا نکال دیں۔اس پر حضرت مولوی ہمارے گھر میں اٹھارہ برس کے بعد آج یہ دن آیا ہے۔اس دن بڑا فضل ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کی اصلاح کے لئے دو طریقے رکھے ہیں۔ایک قانون شریعت ایک قانون قضاء و قدر۔شریعت میں خود اپنی اصلاح اپنی ضروریات اور حالت کے ماتحت کر لیتا ہے۔مثلاً وضو کی جگہ تیم کر لیا۔نماز کھڑے ہو کر نہ پڑھی گئی بیٹھ کر پڑھ لی۔روزہ کی بجائے فدیہ دے دیا۔رمضان کے مہینہ میں بیمار ہوا تو دوسرے وقت روزہ رکھ لیا۔مگر قانون قضاء و قدر خدا کے ہاتھ ہے، وہ انسان کے اوپر اتنی چھری چلاتا ہے جتنی ضرورت ہوتی ہے۔مگر انسان اس وقت صبر کرے ، چالیس سال کی نماز کے برابر ثواب ملتا ہے۔فرمایا ایسے وقت دل بڑا خوش ہوتا ہے۔جس وقت حضور نے یہ تقریر فرمائی حضور کا چہرہ مبارک بالکل بشاش تھا۔اور ہمارا وہ مسئلہ حل ہو گیا کہ مومن مصیبت کے وقت بھی خوش ہوتا ہے۔صاحب کی خدمت میں عرض کی گئی۔آپ نے اسی وقت اس کو کہا کہ اگر تمہارے پاس خرچ اور کرایہ وغیرہ نہیں ہے تو لے لو۔اور فور آچلے جاؤ۔چنانچہ اس نے کچھ روپے لے لئے اور چلا گیا۔حضرت صاحب کو اطلاع دی گئی کہ اس کو رخصت کر دیا گیا۔فرمایا آپ نے خوب کیا۔انبیاء کی خاص وقتوں میں خاص حالت ہوتی ہے۔ایک اخبار شبھ چنتک نامی آریہ قوم کا قادیان سے نکلتا تھا اس میں ہمارے سلسلہ کی نسبت بہت ساگند شائع ہو تا تھا اور طرح طرح کے بہتان شائع ہوتے تھے۔مگر جب حضرت سے ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا۔ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔اور ان سے کچھ جھگڑا نہ کرو۔ان کی طرف خیال ہی نہ کرو۔جو کچھ لکھیں لکھنے دو۔عرصہ گذر گیا ایک دفعہ کے پرچہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشانات پر اعتراض کئے گئے۔وہ پرچہ حضرت مولوی نور الدین 1