سیرت احمد

by Other Authors

Page 128 of 131

سیرت احمد — Page 128

243 242 کنارے باقی رہ گئے۔تو اس وقت مجھے خیال آیا کہ یہ روٹیاں میں نے اپنی ہیں۔اور مجھ سے فرمایا کہ تم نے دایہ کا جو کچھ دن خدمت کرے انتظام کر لیا ہے۔میں نے کہا ہاں کر لیا ہے۔پھر آپ تشریف لے گئیں۔ہفتے عشرے سب اولاد کو تقسیم کرنی تھیں۔میں نے خود ہی کھانی شروع کر دیں۔پھر یہ کے بعد اللہ تعالٰی نے لڑکی (حمیدہ) عطا فرمائی۔اس دوران میں آپ نے ایک خادمہ حیمی دو تین بار بار بھیجی اور وہ آکر پوچھتی تھی کہ رحیمن اماں جان پوچھتے ہیں کہ تم نے کیا جنا ہے۔متفرق خوابیں خیال آیا کہ میری اولاد تو بہت ہے اور ٹکڑے تھوڑے سے ہیں۔اس پر میں نے وہ ٹکڑے دونوں ہاتھوں میں رکھ لئے اور دعا کر کے پھونکیں مارنی شروع کیں تو وہ ٹکڑے بڑھنے شروع ہو گئے چنانچہ میں نے کئی دفعہ دعا کر کے پھونکیں ماریں اور ٹکڑے بہت سے ہو گئے۔(ماہ اگست ۵۷ء میں جب میں محلہ میں گیا تو حضور کی خدمت میں یہ خواب لکھ کر بھیجوا دی۔چنانچہ حضور نے اندر سے روٹیاں پکوا کر بھجوادیں اور میں نے وہ اپنی اولاد میں تقسیم کر دیں)۔خواب میں میں ایک مکان کے صحن میں تھا جہاں چند احباب موجود تھے۔وہاں نماز کا ذکر ہوا۔میں نے کہا کہ حضور کی خدمت میں اطلاع کر دینی چاہیے تاکہ حضور (خلیفہ ثانی) تشریف لے آئیں یا اجازت آجائے۔انہوں نے کہا کہ اجازت آگئی ہے آپ نماز پڑھا ئیں۔انہوں نے کہا کہ حضور نے آپ کے واسطے حکم دیا ہے۔چنانچہ میں نے نماز پڑھانی شروع کر دی۔پہلی رکعت کے رکوع میں جب گئے تو حضور تشریف لا کر صف اول میں میرا بالکل پیچھے رکوع میں شامل ہو گئے۔جب میں نے سَمِعَ الله لِمَنْ حَمِدَہ کہا تو حضور میرے برابر آگئے۔میں ذرا سا پیچھے ہوا کہ حضور سے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تشریف لے آئے اور مجھے تین چار اب نماز پڑھا ئیں مگر حضور نے میری کمر پر سے مونڈھے تک ہاتھ بڑھایا اور ۱۹۵۷ء کی خوابیں : خواب میں کچھ کاغذات دکھائے گئے۔وہ کاغذات میں نے مکرم مولوی عبد اللہ صاحب سنوری مرحوم کو دکھائے اور ان کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ ان میں آپ کے بڑے صاحبزادے مرحوم رحمت اللہ کا خط ہے انہوں نے فرمایا ہاں! میں نے دیکھ لیا ہے۔اس پر میں نے عرض کیا کہ دنیا میں لوگوں میں سے کسی کو دولت کی خوشی ہے کسی کو صحت کی خوشی ہے کسی کو اولاد کی خوشی ہے۔مجھے یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملی ہیں مگر مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میرا خدا مجھ سے خوش ہے۔یہ الفاظ الہامی تھے۔میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک چوبارے میں ہوں دوسرے چوبارے روٹیاں دیں۔میں نے انہیں کپڑے میں لپیٹ لیا اور گھر کو چل دیا۔راستے میں جاتے ہوئے کھول کر انہیں درمیان میں تو ڑ کر کھانا شروع کر دیا اور اور ذرا آگے کر دیا۔گویا اشارہ تھا۔کہ تو ہی نماز پڑھا۔میں نے نماز پڑھائی اور حضور ہر رکعت میں اسی طرح ہاتھ رکھتے تھے۔چنانچہ یکم نومبر ۵۸ء