سیرت احمد — Page 127
241 240 بار بار اصرار کرنے پر میں نے عصر کے بعد حضور سے مکان کے بارے میں عرض کر دیا۔حضور نے فرمایا ہاں! آج کل مکانوں کی بڑی تکلیف ہے۔تو جب حضور تشریف لے گئے تو میں نے شیخ صاحب سے کہا۔دیکھا آپ نے یونہی مجھ سے کہلوایا۔اس طرح مجھے مکان کی ضرورت ہے آپ ہی کوئی مکان بتلائیں۔انہوں پاس ایک ہندو کا مکان کرایہ پر لیا ہوا تھا جو کہ مسجد مبارک سے فرلانگ ڈیڑھ نے کہا کہ برسات کی وجہ سے کافی مکان خراب ہو گئے ہیں۔مکانوں کی قلت فرلانگ کے فاصلہ پر ہو گا میرے گھر سے حاملہ تھیں اور ایام وضع قریب ہی ہے۔آپ حضرت خلیفہ ثانی سے کہیں وہ آپ کے لئے انتظام کرا دیں تھے۔گرمی کا موسم تھا۔میں ظہر کی نماز کے لئے جانے لگا۔تو میری بیوی نے گے۔میں اصرار کرتا تھا کہ میں حضور کو یہ تکلیف دینی نہیں چاہتا۔لیکن وہ مجھے کہا کہ مجھے درد کی تکلیف ہے دعا کرنا۔میں مسجد مبارک میں چھوٹے کہتے نہیں آپ کہدیں حضور باسانی اس کا انتظام کروا دیں گے۔ان کا زینے سے اوپر چڑھا اور کھڑکی کے پاس کھڑے ہو کر کہا کہ حضرت ام المومنین کو میری اطلاع دیتا۔اطلاع پر حضور ام المومنین تشریف لائیں تو میں نے عرض کیا کہ حضور خادمہ نے درد کی وجہ سے مجھے دعا کے لئے کہا ہے۔آپ دعا فرمائیں۔ہم وطن سے اکیلے آئے ہوئے ہیں۔آپ نے فرمایا۔بہت اچھا۔میں دعا کروں گی۔میں مسجد میں داخل ہو گیا۔اور نماز جب لوگ چلے گئے تو میں نے مسجد مبارک کی پرانی جگہ پر جہاں کہ سے فارغ ہونے کے بعد جب میں گھر پہنچا۔تو میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ حضرت مسیح موعود نماز پڑھا کرتے تھے جاکر دعا کی۔دعا کے بعد میرے دل آپ نے حضرت ام المومنین سے کیوں یہ عرض کی تھی۔میں نے کہا کہ آپ میں خیال آیا کہ میں پھر شاہ صاحب کے پاس جاؤں۔اس کو میں الہی تحریک کو کیسے علم ہو گیا۔میں نے تو انہیں دعا کے لئے کہا تھا۔انہوں نے کہا۔کہ سمجھ کر محمد علی شاہ صاحب کے پاس گیا۔جب میں شاہ صاحب کے صحن میں آپ نماز کے لئے چلے گئے۔معمولی درد تھا۔میری آنکھ لگ گئی۔میں سو داخل ہوا تو وہ مجھے دیکھ کر ہنسے اور کہنے لگے کہ دوپہر کو آپ ضد کرتے تھے گئی۔تو دروازہ زور سے کھٹکنے کی وجہ سے میری آنکھ کھلی اور میں نے کہ میں نے کسی کو مکان کرایہ پر دے دیا ہوا تھا۔اس لئے آپ کو کس طرح دروازہ کھول دیا۔وہاں حضرت ام المومنین تشریف لائی ہوئی تھیں اور آپ نے فرمایا کہ کڑیے تو تے پئی سو رہی ایس اور قدرت اللہ نے مینوں بتایا کہ اوہنوں تکلیف اے دعا کرو"۔میں نے کہا کہ خود ہو آؤں اور یہ فرما دے سکتا تھا۔آپ کے جانے کے بعد دو پہر کی ڈاک سے کرایہ داروں کا خط آیا ہے کہ ہم نہیں آسکتے۔اس لئے آپ جنہیں چاہیں مکان دے دیں۔اور پھر شاہ صاحب نے مجھے چابی پکڑا دی۔ہم نے پھر برسات کے وہ ایام کر میرے ساتھ اندر تشریف لے آئیں اور مجھے کہا کہ لیٹ جا۔تیل کی وہاں نہایت آرام سے گزارے۔میں اپنی اہلیہ کے ساتھ قادیان آیا ہوا تھا ہم نے عبد اللہ جلد ساز کے شیشی لی کر آپ نے اپنے دست مبارک سے میرے پیٹ پر مالش کی۔کافی دیر مالش فرمانے کے بعد کہنے لگے کہ ابھی بچے کی پیدائش میں کافی دن باقی | 1