سیرت احمد — Page 123
233 232 سے یہ میں شائع ہو سکتا ہے۔حضور نے فرمایا بطور ضمیمہ اس کے ساتھ شائع کر دیا جائے۔چنانچہ میں نے احمدی جماعت کے لئے ایک نادر تحفہ" کے عنوان مضمون شائع کرایا اور اس کے ساتھ اپنے کئی خواب اور براہین احمدیہ کی نظم میں سے چند اشعار بھی لکھے۔جو میرے ذوق کے لحاظ اس موقع پر چسپاں ہوتے تھے۔دو خواب ان میں سے اب بھی مجھے یاد ہیں۔ایک میرا خواب ہے۔ایک میری اہلیہ کا۔گی۔اور حضرت صاحبزادہ صاحب خلیفہ ہونگے۔میں نے خواب میں دیکھا کہ میں قادیان آیا ہوں اور مہمان خانے کا جو دہ صحن ہے خواب میں اس کو بہت بڑا صحن دیکھتا ہوں وہاں لوگ جمع ہیں۔چند کرسیاں بچھی ہوئی ہیں۔جن میں سے ایک کرسی پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔ایک پر حضرت مرزا بشیر احمد ایک پر حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور ایک پر حضرت ام المومنین تشریف فرما ہیں۔ان سب کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے ہوئے ہیں۔لیکن حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی کرسی کے نیچے اوپر بہت ہار پڑے ہیں۔سامنے کی طرف جو میں نے دیکھا تو مجھے دہشت سی محسوس ہوئی۔وہ یہ تھا کہ جس طرح چمار کسی مرے ہوئے جانور کے چمڑے کو الٹا لٹکاتے ہیں۔اسی طرح تین آدمی الٹے لٹک رہے ہیں۔جن کے سر نیچے کی بلند ہیں۔ایک بانس خالی ہے اور دو سرے بانس کے اوپر صاحبزادہ محمود احمد طرف اور پاؤں اوپر کی طرف۔اور جسم ایسا جیسے متورم۔میں نے کسی سے دریافت کیا کہ یہ کیا؟ انہوں نے مجھے جواب میں بتایا کہ یہ تین مدعیان مارچ ۱۹۱۴ء میں میں تحصیل سرہند میں اپنی ملازمت پر حاضر تھا تو خلیفہ اول کی وفات سے دو تین روز پہلے میری اہلیہ نے مجھے سے بیان کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ریتی چھلے سے لے کر نواب صاحب کی کوٹھی کی جگہ تک سارا میدان ہے۔اور وہاں مکانات نہیں ہیں۔اور جہاں مسجد نور اور بورڈنگ ہے وہاں دو بہت لمبے لمبے بانس گڑھے ہوئے ہیں جو بہت ہی صاحب موجودہ امام تشریف فرما ہیں۔ریتی چھلے کی طرف سے جہاں لوگوں کا ہجوم ہے۔دس دس پندرہ پندرہ آدمیوں کی پارٹیاں بن کر دوڑتی ہیں۔اور دوڑنے والے بانس کے پاس جا کر پکارتے ہیں۔میں اول میں دوئم۔اس خلافت پھر انہی ایام میں جبکہ میں قادیان میں بیعت کے لئے حاضر ہوا تھا۔میں طرح پر تمام اپنے نمبر بولتے ہیں۔ان پارٹیوں کے بعد گھوڑ سواروں کی نے الفضل والوں کو بشیر الدین خلیفتہ / ۱۳۳۲ھ یہ لکھ کر بھیجا۔جو انہوں نے شائع کیا۔پارٹیاں تیار ہو ئیں۔اور وہ بھی اسی طرح گھوڑے دوڑانے لگے۔جس پارٹی میں آپ نے اپنا گھوڑا دوڑایا۔آپ کہتے ہیں میں اول نمبر پر آیا۔بیعت کے بعد جب لاہوری جماعت کی طرف سے یہ بحث شروع ہوئی میرے گھوڑے کا کان آگے ہے۔اس کے بعد بیدار ہو گئی۔میں نے ان کہ آپ نبی نہیں تھے۔تو گرمیوں کا موسم تھا میں اور میری بیوی قصبہ سنور سے کہا کہ حضرت خلیفہ اول چونکہ بیمار ہیں۔اس لئے ان کی وفات ہو جائے میں اپنے چوبارے میں لیٹے ہوئے تھے کہ میری بیوی نے مجھے جگایا اور کہا کہ