سیرت احمد

by Other Authors

Page 97 of 131

سیرت احمد — Page 97

181 180 کا وقت ہو گیا۔حضور اسٹیشن پر تشریف لے گئے۔گاڑی آگئی۔حضور ام فرمایا مولوی نور الدین صاحب کو بلاؤ۔آدمی گیا۔وہ سو رہے تھے ، اٹھ کر المومنین کو اتارنے کے لئے زنانہ گاڑی کی طرف بڑھے۔حضرت ام آئے۔مولوی صاحب کو حضرت صاحب نے حال سنایا کہ بیمار عورت کو المومنین شاید سیکنڈ کلاس میں سوار تھیں۔حضرت صاحب ورلی طرف دکھانا چاہتے ہیں۔آپ نے فرمایا چلو دیکھ لیں۔مولوی صاحب نے کہا۔تھے۔ام المومنین دوسری طرف کھڑکی سے نیچے اتر آئیں اور فرمایا محمود حضور تشریف نہ لے جائیں۔میں خود دیکھ آتا ہوں۔آپ اندر چلے گئے کے ابا السلام علیکم آپ نے فرمایا۔وعلیکم السلام اور مصافحہ کیا۔اور ساتھ اور مولوی صاحب نے مریضہ کو دیکھا۔میرا خیال ہے۔اگر مولوی صاحب لے کر بے تکلف باہر تشریف لائے۔اور مکان میں لے گئے۔تھوڑی دیر کو کوئی پانچ سو رو پہ دیتا۔تو سوتے اٹھ کر نہ جاتے۔مگر مرزا صاحب کے حکم ٹھرے۔ظہر و عصر جمع کر کے پڑھی گئیں اور پھر قادیان کو چلنے کی تیاری ہوئی۔گو اسباب کے پاس ہم سب لوگ موجود تھے۔مگر میں نے دیکھا حضور خود بھی اسباب کے پاس اس طرح ملتے رہے جیسے کوئی پہرہ دار ہوتا ہے۔حضور نے گرمی کی وجہ سے کوٹ نہیں پہنا تھا۔صرف یا جامہ۔ململ کا کرتہ اور واسکٹ پہنی تھی۔سر پر دوپٹہ تھا اور کمر بند حضور کے کرتہ سے نیچے تک لٹک رہا تھا۔جو حضور کی سادگی ثابت کر رہا تھا۔جب سب اسباب یکوں پر لاو لیا گیا اور سب دوست سوار ہو گئے۔اس وقت حضور سوار ہوئے۔اور تقریباً آٹھ بجے شام کے معہ ام المومنین کے دارالامان تشریف لائے۔روایت ۸۰ کشن سنگھ آریہ کیساں والا ایک دن گرمی کے موسم میں شام کے وقت اندھیرا ہو رہا تھا۔اور سخت گرمی تھی۔میں نے ایک بیمار عورت کو دیکھنے کے لئے اندر کہلا بھیجا کہ میرا نام لے کر کہہ دیں۔آپ لالٹین لے کر فوراً آئے۔اور حال سنا۔سن کر سے فورا چلے گئے۔۔| !