سیرت احمد

by Other Authors

Page 96 of 131

سیرت احمد — Page 96

179 178 تلاش کرو۔اور ایک دو دوستوں کو ادھر ادھر دیکھنے کو فرمایا۔حافظ حامد علی حضور نے الائچیاں تو دو چار چبائیں مصری کو ویسے ہی رکھ چھوڑا۔جب یکہ میں بیٹھ کر چلے۔اور تھوڑی ہی دور گئے تھے۔کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص وہاں پہنچے جہاں حضور کے لئے مکان تجویز تھا۔آپ پالکی سے اترے اور راستہ کے ایک طرف بیٹھا ہے۔انہوں نے اس کو پکڑ لیا۔کیونکہ اس کا حلیہ پیشاب کرنے کے لئے گئے۔پھر حضور نے اگر وضو کیا۔مگرپالکی میں بیٹھ کر۔اور پوشش ان مہمان صاحب نے بتا دی تھی۔اور اس پکڑ کر حضرت چند افغان مہاجر کابلی جو موجود تھے انہوں نے وضو کرایا اور سارے وضو کا صاحب کے پاس لائے۔اور اسباب لاکر حضرت صاحب کے آگے رکھ دیا۔پانی وہ ہاتھوں میں لے کر پیتے رہے۔حتی کے جو پانی پاؤں دھوتے وقت گرا آپ نے حامد علی کو فرمایا۔دیکھو ہرگز غفلت نہ کیا کرو۔اور مہمانوں کی وہ بھی انہوں نے پی لیا۔پھر حضور نے تھوڑی سی چینی منگوائی اور فرمایا تکالیف کا خیال رکھا کرو۔اگر کسی مہمان کا اسباب جاتا ہے تو سبھی جاتا ہے شربت بناؤ۔جب تم پی چکو تو مجھے بھی دینا۔اور پھر فرمایا۔او ہو پالکی میں جب تم لوگ غافل ہوتے ہو اور اس چور کو صرف یہ فرمایا۔جاؤ پھر کبھی تھوڑی سے مصری پڑی تھی وہ بھی ڈال لو۔ہم نے عرض کیا پہلے آپ پی لیں قادیان نہ آنا چلے جاؤ۔دوڑ جاؤ۔اور وہ چلا گیا۔پھر تبرک ہو جائے گا۔چنانچہ آپ نے ایک گلاس لے کر اس میں سے نصف ایک دفعہ حضرت ام المومنین " لاہور تشریف لے گئیں۔اور حضرت پی کر نصف واپس کر دیا۔ہم نے باقی شربت میں ملا کر پیا۔اس کے بعد حضور صاحب قادیان تھے۔لاہور سے اطلاع آئی کہ ہم فلاں دن دو بجے آویں مکان میں تشریف لے گئے جو ٹھرنے کے لئے تجویز تھا۔وہاں کئی دوست گے۔حضرت صاحب نے ایڈیٹر الحکم اور مولوی محمد احسن صاحب کو ایک ٹالے اور لاہور کے پہلے ہی موجود تھے۔آپ نے فرمایا کھانے کا انتظام ہو دن پہلے بھیجا کہ مکان وغیرہ کا انتظام کرلیں۔اور یہ بھی فرمایا کہ محمد حسین چکا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا۔ہاں حضور ہو چکا ہے۔فرمایا جو دوست بٹالوی کو اطلاع کر دیں کہ ہم فلاں مکان پر ٹھریں گے۔اگر وہ ملنا چاہیں تو مل ہمارے ساتھ آئے ہیں پہلے ان کو کھانا کھلاؤ۔ہم پھر کھائیں گے۔چنانچہ لیں۔اگلے دن حضور نے چند افغانوں کو ہمراہ چلنے کا حکم دیا۔اور لوگوں کو حضور نے پہلے ہم لوگوں کو کھانا کھلوایا اور پھر شیخ رحمت اللہ وغیرہ کے ساتھ ساتھ چلنے کی اجازت نہ دی۔میں نے پرچہ لکھ کر اجازت لے لی تھی۔حضور نے خود کھانا کھایا۔اتنے مین ایک ہندو تحصیلدار تحصیل بٹالہ سے چنانچہ صبح کو حضور پالکی میں سوار ہو کر چلے۔ہم لوگ ہمراہ ہو گئے۔آپ نے تشریف لائے۔حضور ان کے ساتھ بڑے اخلاق سے ملے اور شہر کا حال پالکی میں آگے قرآن مجید کھولا ہوا تھا۔اور قادیان سے بٹالہ تک حضور کے پوچھا۔انہوں نے عرض کی حضور طاعون تو یہاں ہے۔آپ نے فورا تبلیغی آگے سورہ فاتحہ ہی کھلی رہی۔اور آپ سورہ فاتحہ ہی پڑھتے رہے۔جب رنگ شروع کیا اور دیر تک ان کو تبلیغ فرماتے رہے۔اور فرمایا ظاہری پل پر پہنچے۔میں نے یہاں کچھ الائچیاں اور مصری لی تھی۔وہ پیش کیں۔چوہے مارنے سے کیا ہوتا ہے۔پہلے دل کے چوہے مار د۔پھر گاڑی کے آنے I۔1