سیرت احمد — Page 95
177 176 کے مقابلہ میں یہ تکالیف کچھ بھی وقعت نہیں رکھتیں۔انہوں نے نے بڑا آگے جاتے تھے۔اور وہ کھیت کی بٹ پر سے کودتے ہوئے چلتے تھے حضرت صبر اور استقامت دکھائی ہے۔ابھی تو وہ آپ کو دھمکیاں ہی دیتے ہیں۔اگر صاحب نے فرمایا۔میاں گر جاؤ گے ایسے نہ چلو۔راستہ پر سے ہو کر چلو۔واقعی یہی ہو جائے تو ایک پیشہ کو ہرگز ہرگز رازق قرار نہ دو۔اللہ پر توکل چنانچہ ساری سیر میں میاں نے ایسا نہ کیا۔اور حضور کے ساتھ ساتھ چلتے رکھو اور کام پر لگے رہو۔اگر ایک راہ بند ہو گئی تو رازق کئی اور راہیں کھول رہے۔دے گا۔اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے روزگار کو چھوڑنا میرے نزدیک ایک ۱۹۰۸ء کے ابتداء میں میں اپنے دوطن ملتان گیا۔میرے والد صاحب کفران نعمت ہے۔جو خدا کے دیئے ہوئے رزق کو لات مار کر آتا ہے۔پھر اس سلسلہ میں داخل نہیں تھے اور چونکہ ملتان میں ۱۹۰۸ء تک طاعون مجھے تو ڈر ہی لگتا ہے کہ وہ کیسے کامیاب ہو۔روایت ۷۸ احمد دین صاحب درزی مهاجر نہیں ہوئی تھی۔میرے والد صاحب کو اعتراض تھا کہ تم قادیان کو دار الامان کہتے ہو۔جہاں تھوڑے بہت طاعون کے کیس (Case) ہو چکے ہیں۔دار الامان تو ہمارا ملتان ہے جہاں اب تک طاعون نہیں ہوئی۔میں میرے والدین مجھے بیعت نہ کرنے دیتے تھے اور مخالفت کرتے تھے۔نے یہ واقعہ حضرت مسیح موعود سے قادیان میں آکر عرض کیا۔آپ نے میں ان سے چوری ہی بیعت کرنے کو آیا۔میرے پاس صرف ایک روپیہ فرمایا کہ ان کو کہد دو جلدی نہ کریں۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ ہر ایک چار آنے تھے۔جب میں نے بیعت کر لی۔میں نے چاہا کہ نذر دوں۔گو تمہیں بستی اور ہر ایک شہر میں طاعون آئے گی۔چنانچہ اس کے بعد ۱۹۰۸ء میں کوس کا سفر کرنا کرایہ اور خرچ بھی ایک روپیہ چار آنے میں پورا نہ ہوتا ملتان میں طاعون بڑی زور سے پڑی۔اور سواموات روزانہ تک نوبت پہنچ تھا۔مگر میں نے ایک روپیہ پیش کر دیا۔حضور نے تمہم بھر کر فرمایا رہنے دو۔میں نے کہا حضور قبول فرمالیں۔پھر میرے عرض کرنے پر حضور نے قبول فرمالیا۔میں نے چار آنے سفر خرچ رکھ لیا تھا۔باقی سفر پیدل کر لیا۔روایات ۷۹ بابو فخر الدین صاحب کلرک ترقی اسلام گئی۔ایک دفعہ ایک معزز دست یہاں تشریف لائے۔ایک چور بھی ان کے ساتھ لگ گیا۔اور ساتھ ہی آیا۔وہ مہمان خانہ میں ٹھہرے اسباب رکھا اور ظہر کی نماز کے لئے مسجد میں آئے۔اس نے اسباب اٹھایا اور چلتا بنا۔جب وہ مہمان خانہ میں آئے۔تو اسباب نہ پایا۔حضرت صاحب کو اطلاع دی۔۱۹۰۷ ء۔میں ایک دن حضور سیر میں تھے۔میاں مبارک احمد آگے آپ نے حامد علی کو فرمایا کہ جاؤ یکہ میں بیٹھ کر بٹالہ کی سڑک پر ادھر ادھر تلاش کرو۔اور ! !