سیرت احمد — Page 93
173 172 ٹھیکیدار نے خود ٹھیکہ لے لیا ہے۔اس وقت رات کے دو بج چکے تھے۔میں میں نے عرض کیا کہ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ہے۔اس کو اب دوائی دینے کی گھر آیا اور مریضہ کو اسی حالت میں چھوڑ کر دوسرے کمرے میں چارپائی بھی کیوں تکلیف دیتے ہو۔فرمایا۔ان کو کیا آتا ہے۔جاؤ کیوڑہ اور گاؤ لے کر سو رہا۔صبح کو کسی برتن کی آہٹ سے میری آنکھ کھلی۔جب میں نے زبان اس کو پلاؤ۔میں مسجد میں چل کر دعا کروں گا۔میں ایک بوتل کیوڑا اور دیکھا تو میری پائینتی کی طرف میری بیوی کچھ بر تن درست کر رہی تھی۔میں گاؤ زبان دے کر عید گاہ کو چلا گیا جب میں عید سے فارغ ہو کر گھر آیا۔تو نے پوچھا کیا حال ہے۔کہا آپ تو سور ہے اور مجھے دو گھنٹہ کے بعد اللہ تعالیٰ دیکھا کہ بچہ کھیل رہا تھا۔میں نے جا کر حضرت صاحب سے عرض کی۔فرمایا نے فضل کر دیا۔الحمد للہ رب العالمین۔مجھے تو یقین تھا کہ میری دعاؤں کا نتیجہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے نعم البدل عطا کیا میرا لڑکا فضل کریم جو حضرت صاحب کی دعا پر نعم البدل سمجھا گیا۔ہے۔نعم البدن دیگر فورا اللہ تعالیٰ چھین نہیں لیا کرتا۔چنانچہ وہ بچہ بفضل ۱۹۰۵ء میں تولد ہوا۔اور ۱۹۰۸ ء میں وہ اسی محرقہ تپ میں مبتلا ہو گیا۔جس میں میرا لڑ کا عنایت الرحمن بیمار ہو کر فوت ہوا تھا۔یکم رمضان کو یہ لڑکا بیمار ہوا۔اور رمضان بھر میں حضور کا علاج کرتا رہا۔تین عید کے دن صبح کے وقت اس کی حالت نازک ہو گئی۔لوگ عید پڑھنے جا رہے تھے اور میں حضور کے دروازہ پر اس لئے کھڑا تھا کہ حضور باہر تشریف لائیں تو چل کر بچہ الہی تیسری جماعت میں پڑھتا ہے۔روایات ۷۶ عبد الرحمن صاحب ساکن چہڑ ضلع ہزارہ : ایک دفعہ حضور گورداسپور مقدمہ کی وجہ سے تشریف لے گئے اور کو دیکھیں۔اتنے میں ڈاکٹر محمد حسین اور ڈاکٹر یعقوب بیگ تشریف لائے۔بہت سے خدام ساتھ تھے۔میں بھی ساتھ تھا۔واپسی کے وقت ہر ایک انہوں نے اندر اطلاع بھیجوائی۔حضور نے کہلا بھیجا کہ میں وضو کر کے آتا دوست کو مفتی محمد صادق صاحب کے ذریعہ کرایہ دیا جاتا تا کہ کوئی دوست بلا ہوں تم دونوں صاحب پہلے فضل الرحمن کے لڑکے کو جا کر دیکھ آؤ۔دونوں کرایہ پیدل نہ جائے۔اور باقی سامان خوردنوش تو حضور خود کر دیا کرتے میرے ساتھ آئے۔لڑکا ماں کی گود میں بیہوش پڑا تھا۔اس کو دیکھ کر ڈاکٹر تھے۔میں نے کرایہ لینے سے انکار کر دیا۔اور مفتی صاحب کو کہہ دیا کہ محمد حسین نے وہیں یہ لفظ کہہ دیا۔کہ اس کو اب دوائی دینے کی بھی کیوں میرے پاس کرایہ ہے۔اگر نہ ہو تا تو لے لیتا۔حضرت صاحب پاس ہی تھے۔تکلیف دیتے ہیں۔اس کی حالت اخیر کو پہنچ چکی ہے۔یہ سن کر اس کی ماں سن کر فرمایا کہ میں شفقت سے دیتا ہوں، آپ نہیں لیتے کیا باقیوں کے پاس رونے لگی۔خیر میں دونوں ڈاکٹروں کے ساتھ حضور کے در دولت پر آگیا۔کرایہ نہیں ہے۔جو دیا جائے وہ لینا چاہئے۔میں نے جھٹ ہاتھ بڑھا کر آپ دروازہ میں کھڑے تھے۔مجھے دیکھتے ہی فرمایا۔بچہ کی کیا حالت ہے۔کرایہ لے لیا۔یہ حضور کی کمال شفقت تھی کہ اگر کوئی بلا کرایہ ہو تا تو اس :