سیرت احمد

by Other Authors

Page 84 of 131

سیرت احمد — Page 84

155 154 تشریف لے گئے۔جب او پر ملنے کے لئے حضور کے پاس تشریف لے گئے۔لانا بھول گیا۔شام کے وقت حامد علی صاحب آئے اور کہا۔کہ حضور نے بید تو کئی دوست اور ساتھ تھے۔خواجہ کمال الدین صاحب۔ڈاکٹر یعقوب بیگ مشک کے لئے فرمایا ہے میرا رنگ زرد ہو گیا کہ مجھ سے بڑی غلطی ہوئی۔میں صاحب ساتھ تھے۔اوپر جا کر دیکھا۔حضور کے نیچے روئی دار بچھونا پرانا بھاگا بھاگا گھر گیا۔بوتل لایا اور حضور کے پاس گیا۔قبل اس کے کہ میں کچھ ہے۔اور تکیہ بھی پرانا ہے۔بلکہ کئی جگہ سے روئی باہر نکلی ہوئی ہے۔خواجہ کہوں آپ نے فرمایا۔میر صاحب فکر نہ کریں میں سمجھ گیا کہ میر صاحب صاحب نے کہا۔حضور کا لحاف بہت پرانا ہے۔اگر فرما دیں تو نیا تیار مہمانوں کی خدمت میں لگ کر بھول گئے ہیں۔خیر جب حضور روانہ ہونے کروا ئیں۔فرمایا نہیں یہ پرانا شفیق ہے اور جو ضرورت نئے سے ہو گی۔وہ لگے اسباب نکالا گیا۔لوگ اسباب اٹھا کر لادتے تھے۔میں نے بھی اٹھانا یہ پوری کرتا ہے۔یعنی سردی نہیں لگتی۔باقی نیا پرانا کیا ہے۔اتنے میں چاہا۔آپ نے فرمایا میر صاحب آپ نہ اٹھا ئیں۔میں نے عرض کیا حضور حضور نے ران کو اٹھایا اور فرمایا۔اوہو کیا ہوا کچھ چبھتا ہے۔بچھونا الٹا کر میرا جی چاہتا ہے۔حضور نے فرمایا میں تم سے بڑا خوش ہوں۔بڑا خوش دیکھا ایک اینٹ پڑی ہے۔جب وہ دکھائی۔آپ نے فرمایا۔او ہو میاں ہوں۔آپ نے ہماری اور مہمانوں کی بڑی خدمت کی ہے۔میں نادم ہو تا مبارک احمد نے رکھی ہے۔اس کو پھینکنا نہیں۔اگر وہ آکر ما نگیں تو پھر کہاں تھا اور آپ بار بار شکریہ ادا کرتے تھے میں نے کہا حضور میں غلام ہوں۔میں سے دیں گے۔اتنے میں حضور کے کوٹ سے کچھ نکالنا تھا۔دیکھا تو اس کی مرید ہوں یہ ہمارا فرض ہے۔آپ فرماتے تھے۔نہیں نہیں تم نے بڑی جیب میں بھی ایک اینٹ پائی گئی۔آپ نے فرمایا یہ بھی میاں مبارک نے خدمت کی ہے۔میں بڑا خوش ہوں۔خدا جزا دے خدا جزا دے ہم کیا اجر ڈالی ہے۔خیر اس کو بھی رہنے دو۔انہوں نے ڈالی ہے۔پھر وہ مانگیں گے۔دے سکتے ہیں۔پھر ساتھ لائے اور ساتھ سوار کرایا۔اور گاڑی میں حضور درد کی یہ حالت تھی کہ حضور نے ہاتھ میں انگوٹھا پکڑا ہوا تھا۔جب درد اٹھتا نے کئی بار اظہار خوشنودی کیا۔یہ آپ کی شفقت تھی۔تھا حضور کا رنگ متغیر ہو جاتا تھا۔اور زبان سے فرماتے تھے۔اللہ۔جب پھر درد اٹھتا پھر فرماتے اللہ۔اس کے سوائے اور لفظ نہ تھا۔مولوی نور الدین صاحب نے عرض کی حضور کیوڑہ اور بید مشک استعمال کریں۔کیونکہ حضور روایات ۷۰ حافظ محمد ابراہیم صاحب مهاجر ایک دفعہ نماز جمعہ میں نواب محمد علی خان صاحب نے حضرت صاحب کی کے ہونٹ پیاس کی وجہ سے خشک تھے۔فرمایا کیوڑہ تو مل جائے گا بید مشک خدمت میں عرض کی کہ بھائی احسان علی خان آئے ہوئے ہیں کچھ عرض کرنا ملنی مشکل ہے۔حضرت میرے ہاں ایک بوتل ہے۔آپ نے فرمایا اچھا چاہتے ہیں آپ ٹھر جائیں۔حضور جمعہ سے فارغ ہو کر اندر جانے لگے لاویں۔میں نیچے آکر مہمانوں کے کھانے کے اہتمام میں لگ گیا اور بید مشک تھے۔اس دن حضور نے جمعہ مسجد مبارک میں پڑھایا تھا۔کیونکہ حضور کو