سیرت احمد — Page 80
147 146 لیتے۔کتاب پر دستخط فرما دیئے۔یہ میں نے بارہا دیکھا کہ جب کبھی حضرت میاں محمود احمد صاحب سامنے آتے اور اس وقت جب آپ بالکل بچے تھے اور کسی کی گود میں سوتے روایات ۶۴۔میری خلیفہ نورالدین صاحب ساکن جموں آنکھیں دکھتی تھیں قریباً سات سال کا عرصہ اسی طرح گزر گیا۔تھے۔۔۔۔۔۔میں نے حضرت صاحب کا یہ دستور دیکھا کہ جب ان کو کوئی لا تا۔یا خود آتے۔حضرت صاحب ان کو السلام علیکم فرمایا کرتے۔یہ طرز میں نے کسی دوسرے بچے کے ساتھ نہیں دیکھا۔اور یہ حالت یہاں تک آنکھیں راضی ہونے میں نہ آتی تھیں۔حکیموں ڈاکٹروں کے بہت علاج تھی کہ اگر میاں صاحب کہیں باہر ہی نظر آجا ئیں۔غرض کہیں بھی حضرت کئے گئے۔میں قادیان آیا۔خلیفہ رشید الدین صاحب نے دیکھ کر کہا۔اب صاحب کی نظر پڑ جائیں۔السلام علیکم فرماتے خواہ آپ تھوڑی ہی دیر میں یہ لاعلاج ہو گئی ہیں۔اس کے بعد حضرت مولانا مولوی حکیم نورالدین کئی کئی بار آدیں۔اگر گول کمرہ میں ہوتے اور میاں محمود احمد صاحب کو چہ صاحب نے فرمایا کہ واقعی اب آنکھیں راضی ہونے کے قابل نہیں۔اس میں ہوتے اور حضرت صاحب کی نظر پڑ جاتی۔حضور وہاں ہی السلام علیکم کے لئے مجھ کو بڑی تشویش ہوئی۔آپ سے میں اجازت روانگی لے چکا تھا۔میں نے پھر عریضہ لکھا کہ میری آنکھوں کی نسبت حکیم صاحب اور ڈاکٹر فرماتے۔جب عبد اللہ آتھم کی پیشگوئی کی مدت پوری ہو گئی اور وہ نہ مرا۔حضور صاحب نے یہ کہا ہے۔آپ فورا باہر تشریف لائے اور آکر آنکھوں کو خود کو اطلاع آگئی۔صبح کے وقت حضور نے اول وقت نماز فجر ادا کی۔اور اس دیکھا اور سارا حال پوچھا۔پھر فرمایا۔اگر تم کچھ تبدیلی کرو تو میں دعا کروں کے بعد چارپائی پر لیٹ گئے۔میں پاؤں دباتا تھا۔حضور کو کئی بار یہ الہام گا۔آپ تین دن ٹھہریں۔میں نے کہا کیون نہ ٹھہروں گا۔فرمایا تہجد میں ہوا۔اِنَّكَ اَنْتَ الأعلى - اور جب یہ الہام ہو تا حضور فرماتے اب پھر خوب دعا کیا کرو۔میں بھی دعا کروں گا۔تین دن کے بعد آپ نے مجھے وہی الہام ہوا ہے۔غرض کئی بار تھوڑے عرصہ میں یہ الہام ہوا۔اجازت دے دی۔شمس الدین صاحب سیکرٹری انجمن حمایت اسلام لاہور ایک دن حضرت صاحب نے فرمایا۔جس دن میں نے فتح اسلام کا مسودہ بھی یہاں آئے ہوئے تھے۔وہ اور میں اکٹھے روانہ ہوئے۔انہوں نے مجھے لکھنا شروع کیا۔چند سطور ہی لکھی تھیں کہ باہر سے میاں محمود آگئے۔میرا امرتسر ٹھہرالیا اور کہا مجھے ایک ڈاکٹر صاحب سے ملنا ہے۔مل کر چلیں گے۔خیال دوسری طرف تھا۔میاں محمود نے جھٹ جھٹ قلم اٹھا کر اس کاغذ پر میں ٹھر گیا۔جب وہ ڈاکٹر صاحب سے ملے۔بعد فراغت گفتگو ، میں نے بھی لکیریں کھینچ دیں۔میں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ خدائے عزو جل نے اس آنکھیں دکھا ئیں۔انہوں نے کہا۔ماہ ڈیرھ ماہ رہو۔پھر بتاؤں گا۔آنکھیں h