سیرت احمد — Page 79
145 144 ہے۔آپ کہاں جانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا جموں۔آپ نے فرمایا۔ابھی حکم لکھ کر ان کو روک لو۔چنانچہ وہ بحکم صاحب وہاں ہی رہ گئے اور تار جب آپ کے جانے میں پندرہ دن رہیں۔مجھے یاد کرانا۔انہوں نے کہا بہت دے کر مجھے اور بال بچوں کو کشمیر سے جموں بلالیا۔بہتر۔چنانچہ جب پندرہ دن رہے۔یاد کرایا۔آپ نے دعا فرمائی۔چندون ایک دفعہ میاں عبد اللہ صاحب سندری آئے ہوئے تھے۔جب حضرت ہی گزرے یعنی ہفتہ پورا ہونے کو نہ آیا تھا کہ جموں سے خط آیا (ایک کلرک مسیح موعود باہر تشریف لائے تو میں دیکھتا تھا کہ جب حضرت صاحب کسی بات کا تھا) کہ آپ کا تبادلہ جموں کا ہو گیا ہے۔صاحب نے خود بخود دفتر میں آکر میں مشغول ہیں خواہ کیسے ہی معزز آدمی سے بات کرتے ہوں مگر اگر عبد اللہ حکم لکھ دیا ہے۔مگر حکم دفتر سے باہر نہیں نکلا۔میں نے آپ کو اطلاع دے صاحب بول پڑتے تو حضرت صاحب فور اعبد اللہ صاحب کی طرف متوجہ ہو دی ہے۔جب وہ خط ناصر شاہ صاحب کو ملا۔وہ خط انہوں نے فورا حضرت جاتے۔مجھے اس بات سے رشک پیدا ہوا کہ حضرت صاحب کو میاں عبد اللہ صاحب کی خدمت میں بھیج دیا۔خط کو دیکھتے ہی حضرت صاحب فورا مسجد صاحب سنوری سے زیادہ تعلق ہے۔جس کی وجہ سے زیادہ متوجہ ہوتے میں تشریف لائے۔ناصر شاہ صاحب وہاں کھڑے تھے۔حضرت صاحب ہیں۔جب بھی یہ بات کرتے ہیں۔تبھی حضور متوجہ ہو جاتے ہیں۔دل میں بڑے خوش ہوئے کہ خدا تعالیٰ نے دعا قبول کرلی ہے۔چنانچہ حضور نے فوراً یہ خیال اکثر دفعہ آتا تھا۔اتنے میں ہی حضرت صاحب میری طرف متوجہ ہو سجدہ شکر ادا کیا۔اور پھر ناصر شاہ صاحب نے بھی سجدہ شکر ادا کیا۔جب کر فرمانے لگے۔آپ ان کو جانتے ہیں۔میں نے عرض کیا۔ہاں حضور جانتا رخصت پوری ہونے کو آئی۔شاہ صاحب نے عرض کیا۔حضور کشمیر اصلی ہوں۔یہ بھائی عبد اللہ صاحب سنوری ہیں۔آپ نے فرمایا۔کیا آپ نے جگہ جاؤں گا۔پھر وہاں سے گلگت ، وہاں سے جموں ، اس طرح تکلیف ہو یہ مصرعہ سنا ہے کہ ” قدیمان خود را بیفزائی قدر " یہ آپ سے بھی قدیمی گی۔حضور دعا کریں اور مجھے مناسب مشورہ دیں کہ کہاں جاؤں۔آپ نے ہیں۔جب کوئی بھی ہمارے پاس نہیں آتا تھا۔تب بھی یہ ہمارے پاس آیا فرمایا۔سیدھے ملتان چلے جاؤ۔چنانچہ وہ ملتان پہنچے۔کلرکوں سے ملے۔کرتے تھے۔انہوں نے کہا۔تبادلہ تو ہو گیا ہے مگر حکم جاری نہیں ہوا۔آپ صاحب سے جب میں حضور کے پاس ہو تا تھا۔میں نے دیکھا کہ اکثر حضرت میاں کچھری کے وقت سے بغیر مل لیں۔جب وہ صاحب کو ملے۔اس وقت وہاں شریف احمد حضرت صاحب کے پاس آجاتے۔یا تو کچھ مانگنے لگتے۔یا ایک کلرک موجود تھا۔اس نے صاحب سے کہا کہ شاہ صاحب کی رخصت کاغذوں چیزوں کو ادھر ادھر کرنے لگ جاتے۔آخر۔۔۔۔۔۔حضرت صاحب پوری ہو گئی ہے۔اور یہ اتفاقیہ یہاں آئے ہیں۔اگر حضور یہاں ہی ان کو فرماتے ہم تم کو ابھی پکڑ کر استاد کے پاس بھیج دیتے ہیں۔تو فی الفور میاں روک لیں تو بہت سا سفر خرچ بیچ رہے گا۔صاحب نے فرمایا خوب ہے۔بھاگ جاتے۔حضرت صاحب دیکھ کر مسکراتے اور دروازہ بند کر יי !