سیرت احمد

by Other Authors

Page 77 of 131

سیرت احمد — Page 77

141 140 E بیس بائیس دن میں آرام آگیا۔بتلا دیئے۔فرمایا شاہ صاحب اب اپنا حال بتاؤ۔کہ تمہاری کیا حالت ہے۔ایک دفعہ میں اور حضرت صاحب لدھیانہ سڑک پر میر کر رہے تھے۔میں نے عرض کیا حضور گھبراہٹ تو مجھے بھی بہت ہے مگر جو کچھ مجھے حضور کی میں نے ایک شعر پڑھا۔کیمیا و زیمیا کس نداند خبر بذات اولیاء سیمیا صبحت سے حاصل ہوا ہے اور جو کچھ میں نے دیکھا ہے اور کسی جگہ سچائی اور لطف ہمیں نظر نہیں آتا جس کے لئے مجھے تشفی بہت ہے۔خواہ پیشگوئی پوری ہو یا نہ ہو۔اور کہا کہ سنا ہے کہ اولیاء کے بغیر کیمیا نہیں آتی۔حضور تو کامل ولی ہیں اور ان دنوں حضرت صاحب عام دوستوں سے خوابوں کے متعلق دریافت آپ جانتے ہیں کہ مجھے تو حضور کی ولایت میں کوئی شک نہیں۔اگر حضور کرتے تھے اور خواب سنتے تھے۔مجھے فرمایا کہ شاہ صاحب آپ بھی تو اس مجھے کیمیا بتلا دیں تو یہی کام کر لیا کروں کیونکہ میں ایک نکما نا کارہ آدمی ہوں۔معاملہ میں دعا کرتے رہے ہیں۔آپ نے بھی کوئی خواب دیکھی ہے۔میں محنت کش نہیں ہوں۔اگر یہی ہو جائے تو اچھا ہے۔آپ نے فرمایا۔دیکھو نے عرض کیا ہاں حضور دیکھی ہے۔فرمایا سناؤ۔چنانچہ میں نے اپنا خواب سنایا شاہ صاحب ہمارا طریق منہاج نبوت پر ہے۔جیسا کہ نبی کریم جو یہ ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ میں اور حضرت صاحب مسجد مبارک کی چھت فرماتے ہیں کہ خداوند سے میں یہ چاہتا ہوں کہ جو دن کو مانگوں وہ رات کو کھا پر کھڑے ہیں۔اور میرے پاس ایک دو نالی بندوق بھری ہوئی ہے۔حضرت لوں اور جو رات کو مانگوں وہ دن کو کھالوں۔صاحب سامنے کی طرف نظر فرماتے ہیں۔اور میں بھی سامنے ان مکانوں کی جب عبد اللہ آتھم کی پیشگوئی کی میعاد پوری ہونے کو تھی۔بہت سے طرف جو ڈھاب کے پاس ہیں دیکھتا ہوں۔وہاں ایک جنگل (بیلا) نظر آتا لوگ باہر سے اور گردو نواح سے آتے تھے۔اور چونکہ میعاد میں صرف دو ہے۔اور اس میں پنڈ کے بیڑے یعنی کانے ہیں۔اور ایک بیڑے میں سٹور تین دن رہتے تھے۔اس لئے ہر ایک آدمی کو گھبراہٹ تھی اور یہی خیال تھا چھپا ہوا ہے۔آپ نے فرمایا۔اس کو گولی مارو۔چنانچہ میں نے گولی ماری۔کہ تاریخ کے ختم تک وہ ضرور مرجائے گا۔میں ان دنوں بیت الفکہ میں رہا لیکن مسئ اسور تڑپ کر باہر نہیں نکلا۔آپ نے فرمایا اور چلاؤ۔چنانچہ دوسری کرتا تھا۔حضرت صاحب اور میں مسجد کی چھت پر بیٹھے تھے۔اور آپ مجھے گولی بھی چلائی۔وہ بھی اسی طرح رہی۔آپ نے فرمایا۔تیسری چلاؤ۔سے ہر ایک مرید کی حالت گھبراہٹ وغیرہ پوچھتے تھے۔چونکہ دوست مجھ سے چنانچہ تیسری یا چوتھی گولی لگنے پر وہ تڑپ کر باہر نکلا۔اور گر کر مر گیا۔جس وقت خواب بیان کر چکا فرمایا غالبا ایسا ہی ہو گا۔باتیں کرتے رہتے تھے۔میں اپنی واقفیت کے مطابق ہر ایک کا حال حضرت صاحب کو بتا دیتا تھا۔جب وہ حالات جو مجھے معلوم تھے۔حضرت صاحب کو ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں بیت الفکر میں رہا کرتا تھا۔عصر کے وقت