سیرت احمد

by Other Authors

Page 76 of 131

سیرت احمد — Page 76

139 138 پڑ جائے۔اور معاف ہی نہ کرے۔بلکہ انسان ایک ہفتہ میں اپنے خدا کو تک بمشکل پہنا۔اور دوپٹہ تو حضرت صاحب کے پاس آکر جلدی جلدی راضی کر سکتا ہے۔باندھا۔حضرت صاحب نے مولوی صاحب کو بڑے زور سے سمجھانا شروع ایک دفعہ میں نے دوپہر کو کشفی حالت میں یا خواب میں دیکھا۔کہ نہایت کیا کہ دیکھو شاہ صاحب نے ایسا خواب یا کشف دیکھا ہے اور یہ محمد اکبر کے فربہ اور کھپت رنگ کا گھوڑا ہے اور اس کا پیشاب بند ہے۔اور پیٹ پھولا متعلق معلوم ہوتا ہے۔آپ نے اس کے علاج کی طرف سے توجہ چھوڑ دی ہوا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گر کر مر جائے گا۔حضرت مولوی حکیم ہے۔حکیم کو چاہئے۔جب تک مریض زندہ ہو۔مایوس اور نا امید ہو کر توجہ نورالدین صاحب کو دیکھتا ہوں کہ وہ بھی میرے پاس کھڑے ہیں۔مگر اس نہ چھوڑے۔اور اسی طرح سمجھاتے ہوئے بہمراہی مولوی صاحب و دیگر کے علاج کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اور مجھے ان کی طرف دیکھ کر نہایت حاضرین کے حضور محمد اکبر کے مکان کی طرف تشریف لے گئے۔وہاں جا کر پریشانی ہوتی ہے کہ یہ حکیم ہیں کیوں متوجہ ہو کر علاج نہیں کرتے۔ان کو دیکھا کہ واقعی اس کا پیٹ بہت پھولا ہوا ہے اور پیشاب بند ہے۔حضور نے چاہئے کہ خوب متوجہ ہو کر علاج کریں۔اور جس وقت وہ گھوڑاگر تا معلوم فرمایا اگر ایسا مریض بائیس دن بھی بیمار رہے تو وہ مرتا نہیں اچھا ہو جاتا ہے۔ہوا۔مجھے سخت گھبراہٹ ہوئی۔اور اس گھبراہٹ میں میں بیدار ہو کر پھر حضور نے فی الفور یاور دیگیں منگا کر پانی گرم کرایا اور اس میں اس کو حضرت مسیح موعود کے پاس دالان میں پہنچا۔کیونکہ ان دنوں میں بیت الفکر بٹھایا اور علاج شروع کر دیا۔حضرت حکیم صاحب خاموش کھڑے رہے۔میں بحکم حضرت صاحب رہا کرتا تھا۔میں نے دستک دی۔حضور نے بلایا۔حضرت مسیح موعود کبھی اس کے سرہانے کبھی پائینتی جاتے تھے۔تقریباً ہمیں میں حضور کی خدمت میں بیٹھ گیا اور اپنا سارا کشف یا خواب بیان کیا اور پوچھا دفعہ حضور نے چکر لگائے ہوں گے۔اور جو جو علاج حضور فرماتے تھے۔کہ حضرت یہ کیا معاملہ ہے۔سمجھ میں نہیں آتا۔جس وقت میں نے سارا بعض لوگ چپکے سے حکیم صاحب کو بتاتے تھے کہ یہ نقصان کا باعث ہو گا۔کشف یا خواب بیان کیا آپ نے فورا حکم دیا میرا چوغہ لاؤ۔سوٹی لاؤ۔میں مگر حکیم صاحب یہی جواب دیتے کہ آپ خود عرض کر لیں میں اس وقت نے الٹا کر چونہ پہنایا اور سوٹی پیش کر دی۔فرمایا یہ کشف محمد اکبر ٹھیکیدار کی حضور کے سامنے بول نہیں سکتا۔تقریباً حضور آدھا گھٹہ علاج کرتے نسبت ہے اور آؤ چلو۔میں اور حضرت صاحب زنانہ ڈیوڑھی کے راستہ رہے۔اور اس عرصہ میں محمد اکبر کو پیشاب بھی آگیا۔میں نے محمد اکبر کو یہ سے باہر آئے۔اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کے شفاخانہ کے کہتے سنا کہ حضرت صاحب نے جو بائیس دن کا ذکر کیا ہے مجھے امید ہے کہ یہ دروازہ پر آکر ٹھہرے اور مولوی صاحب کو آواز دی۔مولوی صاحب ننگے مرض بائیس دن میں جائے گا۔سر بیٹھے تھے۔آواز دینے پر ننگے سر ہی دوڑے جو تا بھی حضرت تک پہنچنے چنانچہ حضرت صاحب واپس گھر کو تشریف لے آئے۔اور محمد اکبر کو