سیرت احمد

by Other Authors

Page 75 of 131

سیرت احمد — Page 75

137 136 راغب ہوئی۔قرآن پڑھنا شروع کر دیا۔درپردہ قرآن مجید پڑھا۔اور نماز میں دعا کی عادت ہو گئی۔مگر اسلام نہ لایا تھا۔نہ دل مطمئن تھا۔ایک پادری کو خبر ہو گئی وہ آیا اور مجھے عیسائیت کی طرف راغب کرنا چاہا۔چونکہ مجھے ازالہ اوہام کا مضمون یاد تھا۔جنگ مقدس کو بھی میں نے دیکھا۔اس لئے پادری کو جوابوں میں میں نے چلنے نہ دیا۔وہ مجبور ہو گیا۔اور آخر میں نے کہا۔اس عبد اللہ آتھم والی پیشگوئی کا انتظار ہے۔اگر پوری ہوئی۔اسلام لے آؤں گا۔پادری نے کہا۔اگر پوری نہ ہوئی میں نے کہا عیسائی تو ہوتا نہیں پھر ہندو ہی رہوں گا۔آخر جب وہ تاریخ گزر گئی آتھم نہ مرا۔وہ پادری کئی پادریوں کو لیکر میرے پاس آیا۔کہ اب اسلام کے خیال کو چھوڑ کر عیسائی ہو جاؤ۔اور تار آگئی کہ عبد اللہ آتھم زندہ ہے۔میں نے ان سے جواب سوال کئے۔میں نے کہا اگر آتھم کا بچنا صداقت کا معیار ہے۔یہ ممکن ہے آتھم نے توبہ کر لی ہو۔یہ ثابت کرد اس نے تو بہ نہیں کی۔دوسرے تمہاری کتاب تو تمہیں ملزم کرتی ہے۔دیکھو انجیل میں فرعون اور موسی کا ذکر جہاں دریا کو موسیٰ نے کہا ٹھہر وہ نہ ٹھہرا۔مگر فرعون نے جب کہا ٹھہر۔وہ ٹھہر گیا۔بتاؤ موسیٰ سچا تھا یا فرعون۔لیکن سچا تو موسیٰ تھا۔مرزا صاحب کی صداقت غالب ہے مگر میرے دل میں شک تھا آخر میں نے اس کے ساتھ شرط لگائی کہ عبد اللہ آتھم کے پاس چلو۔اگر وہ قسم کھالے کہ اس نے توبہ نہیں کہ تو میں عیسائی ہو جاؤں گا۔ورنہ میں اور تم دونوں مسلمان ہو جائیں گے۔پہلے تو اس پادری نے اقرار کر لیا۔مگر پھر چلنے کے وقت جب میں نے رخصت لے لی۔اس نے انکار کر دیا۔رات کو میں نے گھبرا کر دعا کی اور بہت دعا کی کہ خداوند تبارک تعالیٰ کس مذہب سے خوش ہے تاکہ میں وہ راہ اختیار کروں۔دعا کرتے کرتے نیند کا غلبہ ہو گیا اور میں سو گیا۔خواب میں دیکھا کہ میں قادیان میں ہوں اور ہندو بازار کے چاہ کے پاس کھڑا ہوں۔سامنے مسجد اقصیٰ کا دروازہ نظر پڑتا ہے۔وہاں ایک وجیہ حسین انسان لمبے قد کا کھڑا ہے۔میں نے اس سے پوچھا۔مرزا صاحب کہاں ہیں۔اس نے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔میں چل پڑا۔چھتہ کے نیچے سے ہو کر اس دروازہ سے جو مرزا نظام الدین کے مکان کو جاتا ہے داخل ہو گیا۔آگے جا کر کیا دیکھتا ہوں کچھ آدمی چارپائیوں پر بیٹھے ہیں کچھ نیچے بیٹھے چرس پی رہے ہیں۔میں نے دیکھ کر لا حول و لا قوة الا باللہ کہا۔وہاں سے جلد ہی میں بڑے دروازے کی طرف نکلا۔باہر کھڑا ہو کر کسی سے پوچھا کہ مرزا صاحب کہاں ہیں۔اس نے اوپر کی طرف اشارہ کیا۔(اس وقت وہ ہی حصہ مسجد مبارک کا بنا ہوا تھا جو پہلے تھا) وہاں سے چوبارہ نظر آیا (جس میں آجکل غلام قادر رہتا ہے) میں زینہ پر چڑھنے لگا۔نصف کے قریب گیا تھا کہ ایک آدمی نے پیچھے سے پکڑ لیا۔روایات ۶۳۔حضرت سید فضل شاہ صاحب ایک دفعہ میں نے التجا کی کہ حضور مجھے اپنی حالت پر بڑے تفکرات ہوتے ہیں۔کہ میری دعا بھی قبول ہوتی ہے یا نہیں۔فرمایا نہیں شاہ صاحب خدا تعالیٰ ایسا چڑ چڑا نہیں کہ ایک دفعہ غلطی ہو جائے۔پھر وہ انسان کے پیچھے i }