سیرت احمد — Page 69
125 124 تھا۔کسی احمدی نے حضور سے عرض کیا اگر حکم ہو۔اس پر دعویٰ کیا جائے۔صاحب نے پسند نہ فرمایا۔ایک دن حضرت صاحب اندر سے مسجد میں تشریف لائے۔فرمایا میری اس خبیث نے خواہ مخواہ خلاف واقعہ حضور کی ہتک کی ہے۔آپ نے قوم نے خدا جانے کیوں اس قدر سختیاں مجھ پر روا ر کھی ہیں طرح طرح پر فرمایا۔نہیں یہ انبیاء کی سنت ہے کہ ان کے ساتھ دنیا اسی طرح کا سلوک ایذا دیتے ہیں۔ادھر یہ حال ہے کہ غیر قوموں کے اسلام اور بانی اسلام پر کرتی رہی ہے۔مگر دعوی وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے۔زور شور سے حملے ہو رہے ہیں۔اس طرف ان کا قطعا خیال نہیں۔اور مجھے جب حضور لدھیانہ میں تھے۔اس زمانہ میں حضور کادعویٰ مجددیت کا ایذا رسانی کے درپے ہوتے ہیں۔آج ایک پادری کا خط آیا ہے جس میں تھا۔ایک سائل نے سوال کیا مگر اس کے چہرے اور الفاظ سے شرارت ٹپکتی میں نے پڑھا تو میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔میں نے اچھی طرح پڑھا بھی تھی۔اس نے کہا کہ چار امام ہوئے اور چار مذہب چاروں اماموں کے نہیں کیونکہ مجھے بہت رونا آیا کہ مسلمانوں کی کیا حالت ہو گئی۔وہ کیوں مختلف بنتے ہیں۔اب اس اختلاف کو اگر آپ مجدد ہیں آپ کے سوا کون رسول کریم کی عزت کی پرواہ نہیں کرتے۔یہ پادری لوگ کیسے بیباکانہ حملے دور کرے گا۔آپ بتلائیں چاروں حق پر نہیں ہو سکتے۔ان میں کافرکون آپ پر کرتے ہیں۔اور عجیب مسلمان ہیں کہ وہ میرے در پے آزار ہیں۔ہے اور حق پر کون ہے؟ آپ نے فرمایا اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی اور انہیں رسالتماب کی عزت کا فکر نہیں ہے۔گورنمنٹ کوئی حکم نافذ کرے آگے جو اہلکار ہیں یا کوئی اور ذی وجاہت ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لاہور میں تھے چند لوگ اس گورنمنٹ کے حکم کو الگ الگ طور پر لوگوں کو سنا ئیں۔اگر اس اوباشوں نے ایک قوی ہیکل بد معاش کو اکسا ر کھا تھا اس نے مجمع عام میں کے سمجھانے میں ان کے بیانات کچھ مختلف ہوں۔اور ضروری ہے کہ حضرت صاحب کے قریب ہو کر گلے میں باہیں ڈالیں اور اس زور سے حضور ہوں۔کیونکہ ہر انسان کی طبیعت مختلف ہوتی ہے تو وہ گورنمنٹ کے مخالف کا گلہ گھونٹا کہ حضور کا چہرہ سرخ ہو گیا۔کسی احمدی کو جوش آیا۔اس نے نہیں کہلا سکتے۔دراصل ان کا منشاء گورنمنٹ کے احکام کو پہنچانا ہے۔وہ اس خبیث کے مکہ مارا۔اور الگ کیا۔حضرت اقدس نے فورا روک دیا کہ اختلاف جو ہے وہ اپنی اپنی طبائع کا اختلاف ہے۔چونکہ ان کی نیت اس کو مت مارو۔یہ اس کی کم عقلی ہے۔جانے دو۔اس سے سختی نہ کرو۔تابعداری گورنمنٹ ہے اس لئے وہ لوگ باغی نہیں کہلا ئیں گے نہ مفسد۔کلانور سے ایک مضمون خلاف واقعہ شائع کیا گیا اور اس میں حضرت مسیح اسی طرح چاروں امام راستی پر تھے۔موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمہ خواہ مخواہ بہت سے گنہ منسوب کئے گئے مولوی شاہ دین نے وہاں سوال کیا تھا کہ انبیاء کے تابع غریب لوگ اور وہ تحریر ایک نہایت گندی تحریر تھی جس کو مومن پڑھ بھی نہیں سکتا ہوتے ہیں یا امیر؟ آپ نے فرمایا۔غریب تابع ہوتے ہیں۔اس نے کہا جو