سیرت احمد — Page 53
93 92 [ تیسری مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا۔اب چوتھی مرتبہ ہمارا ارادہ تھا کہ کسی اور بھیجیں۔مگر ہم نے یہی چاہا۔کہ یہ ثواب بھی تم کو ہی دیں۔اس اثناء میں حضور چارپائی پر لیٹ گئے اور میں پاؤں دبانے لگ گیا۔میں نے عرض کیا حضور میں اسی کام کے لئے یہاں حاضر ہوا ہوں۔جتنی مرتبہ حضور حکم دیں مجھے اس میں فخر ہے۔آپ بڑے بشاش ہوئے اور بہت خوشی سے مجھے چوتھی مرتبہ جانے کے لئے حکم دے کر اندر تشریف لے گئے۔چنانچہ تعمیل حکم کی گئی۔ایک دفعہ حضور کے لئے جہلم سے مچھلی آئی تھی۔اس وقت آپ احباب کے ساتھ عام مجمع میں باہر مسجد میں ہی کھانا تناول فرمایا کرتے تھے۔جب شام کو کھانے کے لئے بیٹھے وہ مچھلی بھی کھانے میں آئی۔حضور بار بار لوگوں سے فرماتے تھے۔اس کو کھاؤ۔میں زیادہ قریب تھا۔جب ہم نے کھانے میں کچھ تامل کیا۔تو حضور نے اپنے دست مبارک سے مچھلی رکھنی شروع کر دی۔چنانچہ میں نے دیکھا۔آپ بہت آہستہ آہستہ کھانا تناول فرماتے تھے۔پہلے ایک چپاتی کے بہت سے ٹکڑے کر دیتے اور اس میں سے تھوڑا سا کھاتے تھے۔مجھے اس وقت یہ خیال آیا کہ تھوڑا کھانے سے عبادت میں ترقی ہوتی ہے۔اس لئے ہم کو بھی پیروی کرنی چاہئے۔حضور نے بعض کتابیں راتوں کو جلد چھپوانے کی غرض سے چھپوا ئیں۔اس کا باعث گورداسپور والے مقدمات بھی تھے۔کیونکہ دن میں مقدمات وغیرہ کے لئے جانا ہو تا تھا۔حضور دن میں تصنیف فرماتے۔پھر کاپی پڑھتے۔پھر پروف نکلوا کر پڑھتے اور رات کو چھپواتے۔اور دوبارہ سہ بارہ پروف راتوں کو دیکھ کر صحیح فرماتے۔اور اس کام کو ایسی مصروفیت سے کرتے تھے کہ گویا کوئی بڑا بادشاہ کسی فوج کی تیاری میں مصروف ہے۔بہت سی راتیں آپ تصنیف میں مصروف رہتے۔اور کاتبوں کو بھی رات کو لکھنے کے لئے دیتے۔اور دگنی مزدوری دے کر رات کو لکھواتے نہ اپنے آرام کی پرواہ نہ خرچ کی پرواہ کرتے۔یہ مواقع میں نے بارہا دیکھے ہیں۔ایک دفعہ حضور نے مجھے دو سو روپیہ کا آٹا خریدنے کے لئے روانہ فرمایا۔اور احمد نور کاہلی کو میرے ساتھ روانہ کیا۔میرے والد کسی قدر بیمار تھے۔میں حضرت حکیم الامتہ نورالدین صاحب کی خدمت میں گیا۔کہ میرے بعد دوا سے خبر گیری فرما دیں۔مولوی صاحب نے فرمایا۔آج مت جاؤ۔میں نے کہا۔حضرت صاحب نے روانہ فرمایا ہے۔رک نہیں سکتا۔انہوں نے فرمایا میری طرف سے عرض کرو کہ آج مہلت دی جاوے۔میں نے ان کی طرف سے اپنے لئے عرض کی۔حضور نے فرمایا۔مجھے تو معلوم نہیں کہ تمہارے والد صاحب بیمار ہیں۔اور تم کیا کر سکتے ہو۔خدا تعالیٰ کے قضاء و قدر دنیا میں نازل ہوتے رہتے ہیں ، وہ جو چاہے گا ہو تا رہے گا۔ایک روپیہ اور عطا فرمایا کہ یکہ میں سوار ہو کر چلے جاؤ اور کل واپس آجانا۔میں یہ حال حکیم صاحب سے عرض کر کے روانہ ہو گیا۔اور اپنے والد صاحب سے بھی کہدیا کہ مجھے حضور نے کام بھیجا ہے۔انہوں نے کہا جاؤ۔میری روانگی کے بعد والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔حضرت مسیح موعود (علیہ الصلوۃ والسلام) نے کفن تیار کرا دیا اور قبر کھد وادی۔اور فرمایا۔جب مہدی حسین آئے اپنے والد کو دفن کر دے۔میں اگلے روز شام کو واپس آیا۔