سیرت احمد

by Other Authors

Page 52 of 131

سیرت احمد — Page 52

91 90 ا شخص کی تصدیق کرتے ہو۔انہوں نے کہا مولویوں کے برخلاف ہے۔اس وہ سختی میرے روبرو کسی نے گزاری۔اس کے بعد ایک آواز آئی، مرزا سچا نکلے گا۔اور پھر میں اپنی اصلی حالت میں آگیا۔اور اس کھلے نظارے کے جب مولوی نہیں مانتے ہم کیوں مانیں۔میں نے کہا۔ایسے مولویوں پر ہزار نفریں جو قرآن کریم کی بات سے انکار کریں۔اور اپنے مولویوں کی بات کو بعد بیعت کا خط لکھا۔مقدم کریں۔میں نے ایک دفعہ دعا کے واسطے خط لکھا۔میرے خیال میں جب وہ خط پھر میں نے حضرت صاحب کو خط لکھا اور عرض کیا کہ اپنے عقائد کی حضرت صاحب کے پاس پہنچا۔میرا مطلب پورا ہو گیا۔بعد میں حضرت فهرست بھیج دی جائے۔اگر اس میں شرک کی ملونی نہ ہوئی تو مان لوں گا۔صاحب کا جواب پہنچا دعا کی گئی۔گویا جواب پہنچنے سے پہلے خدا داند تعالٰی نے اس کے جواب میں حضرت مولانا نورالدین صاحب کا لکھا ہوا خط پہنچا کہ مجھے قبولیت کے آثار دکھا دئے۔ہمارے عقائد ہماری کتابوں میں لکھے ہیں۔کتابیں جلد بھیجی جائیں گی۔صبر میں نے ملازمت ترک کر دی اور قادیان آگیا اور حضور کی خدمتگاری سے انتظار کرو۔اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ بہت پڑھا کرو۔مجھے اختیار کی۔حضرت صاحب نے ایک دفعہ مجھے کیوڑہ کی گاگر کی بلٹی کے لئے اس ہدایت سے کمال خوشی ہوئی اور نور احمد صاحب جالندھری نے کتابیں بھیجا۔جو جے پور سے آتی تھی۔مجھے بلٹی چھڑاتے وقت بابو نے کہا۔جو کرایہ مہیا کر دیں۔میں نے کتابیں پڑھ کر جو نتیجہ نکالا۔وہ یہی تھا کہ دنیا میں بہت وہاں سے دیا گیا ہے۔وہ ایک روپیہ کم دیا گیا ہے۔وہ روپیہ دو۔میں نے لوگ اعلیٰ اعلیٰ مضامین نویس ہوتے ہیں۔خدا جانے یہ کہاں تک درست کہا۔بلٹی پیڈ (Paid) ہے۔اس نے کہا۔بلٹی میں پچھلے کلرک نے غلطی کی ہے۔اس کے بعد فیصلہ آسمانی میں حضرت صاحب کا ایک استخارہ نکلا کہ اگر ہے۔ایک روپیہ جلدی ادا کرو۔میں نے ایک روپیہ دے کر رسید لے لی۔کوئی شخص میری تین کتابوں کو پڑھ کر مطمئن نہ ہو۔تو وہ اس طرح سے واپس آکر حضور سے عرض کیا کہ ایک رد پید اور دیا گیا ہے۔یہ اس کی رسید استخارہ کرے۔چنانچہ میں نے استخارہ کا مصمم اراداہ کر لیا اور رخصت کا منتظر ہے۔آپ نے فرمایا۔بہت اچھا۔ہم محصول کم دینا کب چاہتے ہیں۔یہ فقرہ رہا اور ۱۳۱۱ھ کا رمضان شریف آگیا۔میں نے سوچا اب خوب موقع ہے۔میرے لئے موثر ہوا۔میں نے حضرت کے بتائے ہوئے استخارہ کے بغیر خود تجویز کردہ استخارہ مجھے حضور برف خرید کر کے لانے کے لئے امر تسر بھیجا کرتے تھے۔ایک کیا۔پہلے ہی دن وتروں میں قُلْ هُوَ اللهُ ۳۱ مرتبہ پڑھی۔دعا کی حالت مرتبہ مجھے بلوا کر آستانہ پر کھڑا کر کے یوں فرمایا میاں مہدی حسین ہم نے میں مجھ پر غنودگی طاری ہوئی۔میں نے دیکھا کہ صبح کا وقت ہے۔اور ایک تمہیں برف کے لئے امر تسر بھیجا تھا۔ہم نے خوب برف پی۔اور تم کو ثواب ہاتھ میں سامنے ایک سختی نظر آئی جس پر لکھا تھا۔حضرت مرزا صاحب جی۔ہوا۔پھر دوسری مرتبہ ہم نے بھیجا اور برف استعمال کی تم کو ثواب ہوا۔پھر۔