سیرت احمد — Page 51
89 88 فرمایا۔جاؤ اٹھ کر اندر دروازه پر دستک دے کر اس سائل کو اندر سے کچھ شخص کو الہام کا ہونا ممکن سمجھتے ہو۔میں نے کہا ہاں الہام کی خصوصیت دلواؤ۔اور ایسا کرنا اچھا نہیں کہ سائل کے سوال پر دروازہ بند کر دو۔ایک دفعہ حضور نے فرمایا مجھے الہام ہوا ہے۔نزلت الرحمت علی ثلث العين و على آخرين اسلام میں ہے اور مذاہب میں نہیں ، یہ ممکن ہے۔۹۰ء یا 91ء میں جب حضور کا دعویٰ شائع ہوا۔میں نے عبد الکریم خان ساکن جمارو کو ایک خط لکھا کہ جس شخص کو تم پیشوا سمجھتے ہو۔وہ دعوی کرتے ہیں کہ میں آسمان تین عضووں پر رحمت نازل ہوئی۔ایک آنکھوں پر اور دو عضووں پر۔سے نازل ہوا۔کیا تم اس پر یقین رکھتے ہو مجھے سمجھاؤ۔اس کا کوئی جواب نہ رو اور عضو کی حضور نے تشریح فرمائی۔ایک گھٹنوں کی آنکھوں پر اور ایک ملا۔اس لئے میں رخصت حاصل کر کے اس کے مکان پر گیا۔اور یہی مطالبہ دل کی آنکھوں پر۔یعنی خدا تعالیٰ نے تین آنکھوں پر رحمت نازل کی۔ایک کیا کہ مجھے سمجھاؤ۔عبد الکریم خان نے قرآن مجید ثبوت میں پیش کیا کہ آنکھیں ، دوسری دل کی آنکھیں۔تیسری گھٹنوں کی آنکھیں۔قرآن مجید آسمان پر جانے کا انکار کرتا ہے اور یہ عقیدہ سرے سے غلط ہے۔چنانچہ حضور نے اخیر عمر تک عینک وغیرہ نہ دن کو اور نہ رات کو استعمال اور جس نے آنا ہے وہ اسی دنیا سے ہو گا۔میں نے کہا۔قرآن شریف کی فرمائی۔اور سیر بھی خوب فرماتے رہے۔یعنی گھٹنوں میں بھی طاقت رہی اور کوئی آیت پڑھو مان لوں گا۔اس نے کہا۔تھیں آئیتیں موجود ہیں۔میں نے دل کی آنکھوں کا تو کیا کہنا۔لاکھوں اندھے سو جا کھے کر دیے۔روایات ۴۲۔حضرت میر مهدی حسین صاحب کہا۔صرف تین ہی کافی ہیں۔اگر اکیلی آیت ثابت کرے تو وہ ایک ہی کافی ہے۔اس نے ازالہ اوہام میں سے یہ آیت لے کر پڑی و من نعمره تنكس في الخلق افلا يعقلون۔میں نے اس آیت کو سن کر کہا کہ بے شک آسمان پر جانا غلط ثابت ہوتا ہے۔اور میرا عقیدہ اب کسی کے میں نے ۱۸۸۵ء میں عبد الکریم خان ساکن جمارو کے پاس کتاب سرمہ آسمان پر جانے کا نہیں رہا۔چشم آریہ دیکھی ، اس کے اشعار کو بڑے وجد سے پڑھا۔اور حضور کے میں نے عبد الکریم خان سے کتاب مانگی۔اس نے کہا کتاب نہیں دے حالات معلوم ہوئے۔میں نے نتیجہ نکالا پنجاب میں کوئی مولوی ہے جو اسلام سکتا۔ہاں کتاب لے کر تمہارے گھر آکر لوگوں کو سناؤں گا تیسرے روز کو غلبہ دینا چاہتا ہے۔میں ان دنوں شیعہ تھا۔بیعت وغیرہ سے اپنے تئیں میرے مکان پر کتاب لے کر آگئے۔میں نے ان سے کہا۔کوئی مقام ہمارے مستثنیٰ سمجھتا تھا۔اس کے بعد مقام شیر پور میں منشی احمد بخش ، منشی ابراہیم اور دوستوں اور مخالفوں کو سناؤ۔چنانچہ کچھ حصہ کتاب کا سنایا (ہمارے مخالف منشی اسماعل ساکنان سنور نے حضرت کا ذکر کر کے مجھ سے سوال کیا کہ تم کسی الرائے مولویوں کا حوصلہ) میں نے ایک خواندہ بزرگ سے پوچھا کہ کیا تم