سیرت احمد — Page 5
سجدے کئے ہوئے ہیں۔اور یہ فضل میری محنت کے نتیجہ میں نہیں۔بلکہ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود کا ایک ارشاد میرے سجدوں کی وجہ سے ہو گی۔مرتب کتاب ہذا کے متعلق ” ناصر آباد میں میری زمینوں پر ایک دوست منشی قدرت اللہ صاحب سنوری مینیجر تھے۔ایک دفعہ ہم زمین دیکھنے گئے۔چونکہ سندھ میں صدر انجمن احمدیہ کی زمین تھی۔اس لئے میرے ساتھ چوہدری فتح محمد صاحب میں نے ہر کھیت کے کونہ پر دو دو رکعت نماز پڑھی ہے۔اور چار چار سجدے کئے ہیں۔" اس پر ان دونوں کا رنگ فق ہو گیا۔کیونکہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا انہیں پتہ نہیں لگ سکتا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔صدرانجمن احمدیہ کو اس سال گھاٹا رہا۔لیکن منشی قدرت اللہ صاحب نے کئی ہزار روپیہ مجھے بھجوایا۔میں نے سمجھا کہ یہ صدر انجمن کا سیال ایم اے اور مرزا بشیر احمد صاحب بھی تھے۔وہاں ان دنوں گھوڑے کم روپیہ ہے۔جو غلطی سے میرے نام آگیا ہے۔لیکن دیکھا تو معلوم ہوا یہ ملتے تھے۔انہوں نے میرے لئے گھوڑا کسی سے مانگ لیا تھا۔اور دوسرے ساتھی میرے ساتھ پیدل چل رہے تھے۔منشی قدرت اللہ سنوری صاحب نے باتوں باتوں میں بتایا۔کہ انہیں اس قدر آمد کی امید ہے۔اس پر چوہدری صاحب اور مرزا بشیر احمد صاحب نے اس خیال سے کہ منشی قدرت اللہ صاحب کو ان باتوں کا علم ہو کر تکلیف نہ ہو۔آپس میں انگریزی میں باتیں کرنی شروع کر دیں۔اور یہ کہنا شروع کر دیا۔کہ یہ شخص گپ ہانگ رہا ہے۔اتنی فصل کبھی نہیں ہو سکتی۔ان کا یہ خیال تھا کہ منشی قدرت اللہ صاحب سنوری انگریزی نہیں جانتے۔مگر دراصل وہ اتنی انگریزی جانتے تھے کہ ان کی باتوں کو خوب سمجھ سکیں۔مگر وہ خاموشی سے ان کی باتیں سنتے رہے۔جب انہوں نے باتین ختم کر لیں۔تو منشی صاحب کہنے لگے۔"آپ لوگ خواہ کچھ خیال کریں۔دیکھ لینا میری فصل اس سے بھی زیادہ نکلے گی۔جو میں نے بتائی ہے۔آپ کو کیا معلوم ہے۔میں نے ہر کھیت کے کونوں پر میرا ہی روپیہ ہے۔ساتھ ہی منشی قدرت اللہ صاحب نے مجھے لکھا کہ میرا اندازہ ہے کہ اتنی ہی آمد اور ہو جائے گی۔میں نے چو پیداوار ابھی تک اٹھائی ہے۔وہ میں نے ایک ہندو تاجر کے پاس بھیج دی ہے۔آٹھ ہزار روپیہ میں بطور پیشگی لے کر بھیج رہا ہوں۔اور میں ابھی اور روپیہ ارسال کروں گا۔حالانکہ میری زمین صد را انجمن احمدیہ کی نسبت بھی بہت تھوڑی تھی۔لیکن اس سال صدرانجمن احمدیہ کو گھاٹا رہا۔لیکن مجھے نفع آیا۔یہ محض منشی قدرت اللہ صاحب سنوری کے سجدوں کی برکت تھی۔(رپورٹ مجلس شوری ص ۶۵ و ۶۶ - ۲۹-۳۰-۳۱ مارچ ۱۹۵۶ء) یہ تو حضور کی ذرہ نوازی ہے۔وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ محض حضور کی برکت سے مجھے ۱۹۵۶ء سے آج تک لاکھوں روپے حاصل ہوئے ہیں۔(قدرت اللہ سنوری)