سیرت احمد

by Other Authors

Page 22 of 131

سیرت احمد — Page 22

31 30 درمیان حضور نے فرمایا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ کی زندگی کے دو حصے ہیں۔ایک ظاہری لوگوں کے لئے ایک باطنی لوگوں قبْلِهِمُ اس میں جناب الہی نے وعدہ فرمایا ہے کہ جو لوگ تم میں سے نیک کے لئے۔ظاہری لوگوں کے لئے جو حصہ ہے اس پر لوگوں نے قسم قسم کی اعمال کریں گے۔ہم ان کو اسی طرح خلیفہ کریں گے جس طرح ہم نے سوانح لکھی ہیں۔مگر ہم کہتے ہیں کہ آپ خاتم النبین اور آخر الزمان کس پہلوں کو خلیفہ کیا۔اس کما کے لفظ سے ثابت ہوتا ہے کہ اس امت طرح ہو سکتے ہیں۔کیا آپ کے بعد نسل انسانی کا خاتمہ ہے یا زمانے آپ کے کے خلفاء بالکل پہلی امت کے خلفاء کے مشابہ ہونگے۔اور ادھر ہم دیکھتے بعد ختم ہو گئے۔نہیں بات اصل میں یہ ہے کہ آپ کی ۲۳ سالہ عمر میں جو عمر ہیں کہ کسی نے اس امت میں تیرہ سو برس تک دعوی نبوت نہیں کیا۔تو پھر نبوت ہے۔تمام آئندہ آنے والے زمانوں کا نقشہ ہے۔یہ تیرہ سو برس جو یہ شبیہ کامل اور اکمل اور اتم طور پر صادق نہیں آتی۔اور اس کے پورا اب گزر چکے ہیں یہ حضور کے ان تیرہ برسوں کے مشابہ تھے۔جو مکہ کے تیرہ کرنے کے لئے چودھویں صدی پر جناب الہی نے مجھے مبعوث فرمایا۔اور برس تھے۔اس چودھویں صدی سے حضور کی مدنی زندگی کے مشابہ شروع جس قدر اسرائیلی انبیاء علیہ السلام ہیں۔سب کے نام میرے پر استعمال کئے ہوتے ہیں۔اس تیرہ سور برس کے عرصہ میں اگرچہ اسلام کو بڑی بڑی تا کہ اس تشبیہ کی تکمیل ہو جائے۔چنانچہ آدم ، نوح ، داؤد اور سلیمان فتوحات میسر آئی ہیں۔اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ سال مصائب کے یہاں تک کہ آخری خلیفہ مسیح کے نام سے مجھے بار بار پکارا تا کہ اس تشبیہ کی تھے۔کیونکہ جس قدر اعتراضات کا ذخیرہ ہے۔وہ اتنی صدیوں میں تیار ہوا پوری تکمیل ہو جائے۔جس طرح ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔اسی قدر اعتراضات اسلام پر تیرہ سو برس میں ہوئے جس کا ازالہ اب خاتم النبین اور جامع کمالات تھے۔چاہئے تھا کہ اسی رنگ سے اس کا خلیفہ ہم کو مشکل ہو گیا ہے۔یہ دس سو سال جس کا شروع چودھویں صدی سے خاتم الخلفاء اور جامع کمالات انبیاء علیھم السلام ہوتا۔کیونکہ رسول اللہ کو ہے۔مدنی زندگی کے مشابہ ہیں۔یہ ساتواں ہزار ہے۔اور اس کے بعد دنیا کا موسیٰ سے تشبیہ دیگر جناب الہی نے کما کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔جب خاتمہ ہے۔اس لئے آپ خاتم النبین تھے کہ تمام آنے والے زمانوں کا مثیل موسیٰ جامع کمالات ہے۔تو اس کی امت میں خلیفہ کا مثیل کیوں نقشہ آپ کی عمر میں تھا۔اس لئے نبی آخر الزمان اور خاتم النبین تھے۔اور جامع کمالات نہ ہو۔ایک دفعہ حضرت نے انہی ایام میں فرمایا کہ میں نے یہ دس سو سال اسلام کے غلبہ کے لئے پیدا شدہ اعتراضات کے دفعیہ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر غور کیا ہے۔جو آپ کی تیئیس سالہ عمر نبوت ہے۔اس کے اندر ایک نقشہ ہے۔ایک زمانہ کا۔اور آپ لئے ہیں۔