سیرت احمد — Page 126
239 238 دروازے کے پاس آکر کہنے لگے کہ یہاں خادما ئیں، دیگر عورتیں اور بچے ہوتے ہیں۔شور کی وجہ سے تمہاری آواز کون سنتا ہے۔آپ جب بھی آئیں السلام علیکم کہہ کر نیچی نظر ر کھتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے جایا کریں۔ایک دفعہ زینے میں کھڑے ہوئے کر میں نے خادمہ کو آواز دی کہ میں نے اماں جان سے ملنا ہے۔خادمہ کے اطلاع دینے پر آپ تشریف لے آئیں۔اور السلام علیکم فرمایا۔میں نے دعا کے لئے عرض کیا۔آپ نہایت محبت سے فرمانے لگیں، میں آپ کے لئے دعائیں کرتی رہتی ہوں۔آپ کی بیوی جو کہتی ہیں میں اس کے لئے بھی دعائیں کرتی رہتی ہوں۔مجھے معلوم تھا۔کہ حضور مجھ سے بہت خوش ہیں اور اس وقت بھی دعا ئیں دیتے تھے۔میں نے جرات کر کے یہ عرض کر دیا کہ حضور! مجھے تو کامل خوشی جب ہوگی کہ جب یہ روحانی بادشاہت دوبارہ اسی گھر میں آجائے۔یہ سن کر آپ کا لہجہ بدل گیا اور مجھے بار بار فرمایا۔قدرت اللہ استغفار کرو۔استغفار کرو۔ایک خلیفہ کی موجودگی میں ایسی بات ہرگز نہیں کہنی چاہئے۔پھر زور سے فرمایا۔استغفار کریں۔استغفار کریں۔تب میں نے زور سے استغفار کیا۔تب آپ خاموش ہو ئیں۔ایک دفعہ برسات کے ایام میں میں اپنی اہلیہ کے علاوہ اپنی والدہ صاحبہ اپنی پھوپھی صاحبہ اور اپنی ہمشیرہ صاحبہ اور اپنے پھوپھا صاحب کو بھی ساتھ قادیان لایا۔بٹالہ سے جب ٹانگہ پر سوار ہو کر نہر سے آگے قادیان والے موڑ پر ہم پہنچے۔تو وہاں یکہ والوں نے بتایا کہ ہم سامان اوپر رکھ لیں گے۔آپ پیدل پکڈنڈی سے جائیں۔کیونکہ راستہ پانی کی وجہ سے خراب ہے۔تو پگڈنڈی پر بھی بعض جگہ ایک ایک دو دو فٹ پانی تھا۔کچھ بارش بھی ہوئی۔اس وجہ سے ہم بھیگے ہوئے کپڑوں میں قادیان پہنچے۔جب عورتیں اندر ام المومنین کے پاس پہنچیں تو چائے کے بعد آپ نے اپنے ایک مکان میں ہمیں بھجوا دیا۔تاکہ مہمان خانہ میں ہمیں تکلیف نہ ہو۔بارش کثرت سے ہوتی تھی۔چند دن کے بعد (ہفتہ عشرہ کے بعد) کوئی دس بجے خادمہ آئی اور اس نے کہا۔کہ حضرت ام المومنین فرماتی ہیں کہ جن کا مکان ہے یا جن کے لئے یہ بنوایا ہے وہ آگئے ہیں۔اس لئے آپ آج ہی یہ مکان خالی کر دیں۔گو ان دنوں روپے کی بڑی قیمت تھی۔لیکن نئے مهمان میرے ساتھ تھے۔اس لئے میں نے چاہا کہ خواہ دس روپیہ کرائے پر کوئی جگہ میں لے سکوں تو لے لوں۔مگر کوئی جگہ نہ ملتی تھی۔اماں جان کی طرف سے بار بار پیغام آتا تھا کہ اگر کوئی اور جگہ نہیں ملتی تو عورتیں اندر میرے پاس آجا ئیں۔اور آپ مہمان خانہ میں ٹھہر جائیں۔میں نے جہاں اور مکانوں کی تلاش کی وہاں میں سید محمد علی شاہ صاحب کے پاس پہنچا کہ ان کے کسی ایک مکان کی دوسری تیسری منزل خالی تھی۔تاکہ میں وہ ایک ماہ کے لئے کرایہ پر لے سکوں۔انہوں نے فرمایا کہ مجھے دس روپے کی ضرورت نہیں میں نے تو ایک شخص کو یہ جگہ چار روپیہ کرائے پر دی ہوئی ہے۔اور اس نے مجھے ایک ماہ کا کرایہ بھی دے دیا ہوا ہے۔اس اثنا میں عصر کا وقت ہو گیا۔عصر کی نماز کے لئے میں مسجد مبارک میں آیا۔تو شیخ غلام احمد صاحب واعظ نو مسلم مسجد میں موجود تھے۔انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کو میں نے آج ادھر ادھر بہت گھومتے دیکھا ہے کیا بات ہے ؟ میں نے کہا کہ