سیرت احمد — Page 118
223 222 تھا کہ آپ دعا میں میرا مقابلہ کریں اور اس خط میں یہ بھی لکھدیا کہ قدرت اللہ کے لئے بیشک دعا کریں اس کے اولاد نہیں ہو گی۔اب مجھے فکر پیدا ہوا کہ ڈاکٹر عبدالحکیم نے میری نسبت بھی ایسا لکھ دیا ہے اور دوسرے ڈاکٹروں نے بھی یہی کہا ہے کہ اس کے ہاں اولاد نہ ہو گی۔اس پر میرے خسر صاحب ہر سال مہینہ دو مہینہ قادیان آکر ٹھہرا کرتے تھے۔میری شادی کے بعد جب انہوں نے قادیان آنا تھا۔تو انہوں نے مجھے لکھا کہ اجازت دو تو میں اپنی لڑکی کو بھی اپنے ساتھ قادیان لیتا جاؤں۔جب میں نے اجازت دیدی تو وہ ساتھ قادیان لے گئے۔میں نے ایک خط حضور کی خدمت میں عرض کر دیا اور اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ یہ خط حضور کی خدمت میں پیش کر دینا اور اس میں یہ عرض کیا کہ ڈاکٹر حکیم کہتے ہیں کہ اس کے ہاں اولاد نہ ہوگی۔اور یہ دوائی استعمال نہیں کرتیں۔حضور دعا بھی فرمائیں اور ان کو نصیحت بھی فرمائیں۔ورنہ میں اور شادی کر لوں۔چنانچہ میری اہلیہ نے وہ خط حضور کی خدمت میں پیش کر دیا۔حضور نے فرمایا۔تمہارے میاں ڈاکٹر یا حکیم ہیں ؟ اس نے عرض کیا کہ وہ تو ڈاکٹر حکیم نہیں ہے دوسرے ڈاکٹر حکیم یہی کہتے ہیں۔حضور نے دست مبارک سے اس کے پیٹ کو ٹولا اور فرمایا کوئی بیماری نہیں۔دعا کریں گے۔اس کے بعد فرمایا کہ ان کو خط لکھتا ہوں کہ حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ تمہارے اس قدر اولاد ہو گی کہ تم سنبھال بھی نہ سکو گے۔گھبرائیں نہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضور کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے مجھے سات لڑکیاں اور چھ لڑ کے عطا فرمائے ہیں۔اور تین حمل ضائع ہو گئے۔جن میں سے چار لڑکے اور پانچ لڑکیاں اس وقت زندہ موجود ہیں۔پینتیس نواسے نواسیاں ہیں اور اکیس پوتے پوتیاں ہیں اب بوجہ اس کے کہ ان کی رہائش مختلف شہروں کو ئٹہ کراچی لاہو ر سندھ اور پشاور وغیرہ میں ہیں۔میں ان کی نگرانی نہیں کر سکتا۔میرے خسر صاحب اس وعدے پر میری بیوی کو اپنے ساتھ قادیان لائے تھے کہ ایک ماہ کے بعد واپس پہنچا دیں گے۔جب ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا تو میں نے خط لکھا کہ ان کو واپس پہنچا دیں۔انہوں نے لکھا کہ چونکہ ہمارے گاؤں میں طاعون ہوئی ہوئی ہے۔اس واسطے مسیح موعود نے فرما دیا ہے کہ کچھ عرصہ اور ٹھہرے رہو۔میں نے ان کو لکھا کہ ان کو یہاں پہنچا دیں۔میرے خسر نے وہ خط حضور کی خدمت میں پیش کر دیا حضور نے فرمایا کہ ہاں وہ ٹھیک کہتے ہیں۔آپ ان کی بیوی کو وہاں پہنچادیں۔اس پر انہوں نے عرض کیا کہ کریم بخش باورچی پائل کے رہنے والے اور وہ میرے دوست ہیں۔وہ وہاں جانے والے ہیں۔ان کے ساتھ لڑکی کو روانہ کر دوں حضور نے فرمایا کہ جس سفر میں ایک رات آئے وہاں نا محرم کے ساتھ سفر ناجائز ہے اس پر میرے خسر نے اپنی بیوی سے کہا۔آپ حضرت ام المومنین سے سفارش کرائیں کہ بجائے اس کے میں لڑکی کو وہاں چھوڑنے جاؤں حضور اگر ارشاد فرما ئیں تو وہ خود آکر لڑکی کو لے جائے۔میری خوشدامن نے حضرت ام المومنین سے عرض کیا اور حضرت ام المومنین نے کہا کہ میاں کریم بخش بوڑھے آدمی ہیں۔یہ لڑکی کو پہنچا کر پھر واپس آئیں۔حضور اگر فرمائیں کہ وہ خود لڑکی کو آکر لے جائے تو اچھا ہو گا۔حضور نے !