سیرت احمد — Page 117
221 220 واپس چلے گئے۔مکرم عبد اللہ سنوری صاحب کی اہلیہ صاحبہ فرماتی تھیں۔آپ کی ملاقات کے بغیر نہیں جاؤں گا۔چاہے کتنی دیر ٹھر نا پڑے۔تو مکرم که مکرم عبد اللہ سنوری صاحب ان سے رشتہ چاہتے ہیں میں تو نہیں پسند عبد اللہ سنوری صاحب نے بچی صاحبہ کو کہا کہ حضور کو کہو کہ قدرت اللہ نہیں جاتا اور کہتا ہے کہ حضور سے ملے بغیر میں نے نہیں جانا۔تو چی صاحبہ کرتی۔مکرم عبد اللہ سنوری صاحب نے کہا کہ مجھے خواب میں بتایا گیا ہے کہ کریم بخش کے ہاں ان کے رشتہ ہو گا اس پر مکرم عبد اللہ سنوری صاحب دوبارہ حضور کی خدمت میں گئیں اور حضور سے عرض کیا۔حضور نے فرمایا نے فرمایا کہ سنور میں بھی کریم بخش صاحب ہیں ہیں۔ان کے ہاں بھی لڑکی ہے۔تو اس واسطے میں حضرت صاحب کی خدمت میں خط لکھ رہا ہوں کہ حضور ( مسیح موعود) سفارش فرما دیں۔چنانچہ خط لکھا گیا اور چچی صاحبہ نے وہ خط حضور کو پیش کیا۔اس پر حضور نے (سنور والے کریم بخش صاحب کے ہاں) سفارش فرما دی۔اور ساتھ ہی حضور نے بچی صاحبہ سے فرمایا کہ قدرت اللہ کو کہدیں کہ میاں اکبر خانصاحب سنوری سنور گئے ہوئے ہیں یہ خط اکبر خان کو لے جا کر دیدیں۔وہ کریم بخش صاحب کو خط دے دیں گے۔چی صاحبہ خوشی خوشی سے وہ خط لے کر آئیں۔اور آکر فرمایا کہ حضور نے سفارش فرما دی۔مبارک ہو۔خط لے جاؤ مکرم عبد اللہ سنوری صاحب نے فرمایا کہ جلدی واپس جا اور یہ خط جا کر دیدے۔میں نے مکرم عبد اللہ سنوری صاحب سے کہا کہ میں کل سے آیا ہوں اور حضور باہر تشریف نہیں لائے۔اس لئے ملاقات نہیں ہو سکی۔اب میں آپ کی ملاقات کے بغیر واپس جانا نہیں چاہتا۔مکرم عبد اللہ سنوری صاحب نے فرمایا کہ حضور کی طبیعت علیل ہے پتہ نہیں کب تک باہر نہ آسکیں تو فور اچلا جا۔میں نے اصرار کیا کہ انسان کی زندگی کا اعتبار کیا ہے۔شادی ہو نہ ہو۔میں قدرت اللہ کو اندر کی سیڑھیوں سے آنے کو کہو۔چنانچہ میں حاضر خدمت ہوا۔حضور زینے کے سامنے ہی چھت پر ٹہل رہے تھے۔حضور کے تہہ بند بندھا ہوا تھا۔گلے میں کر نہ تھا۔ریش مبارک پر مہندی لگی ہوئی تھی۔اور پٹیاں بندھی ہوئی تھیں اور آپ ترکی ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔حضور نے مصافحہ کیا۔میں نے نذرانہ پیش کیا۔میں نے دعا کے واسطے عرض کیا۔حضور نے تبسم فرماتے ہوئے کہا۔ہاں ہاں دعا کریں گے اور فرمایا کہ میں نے آپ کے رشتے کے لئے بھی سفارش کر دی ہے اس کے بعد میں واپس سنور آ گیا۔میری دوسری شادی ہونے کے بعد تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا کہ وہ بیمار ہو گئیں۔قصبہ بھی میں عبد الغفور خان حکیم جو حکیم اجمل خان دہلوی کے شاگرد تھے۔ان کو گھر بلا کر میں نے دکھایا۔تو انہوں نے فرمایا کہ دوائی تجویز کر دیتا ہوں۔بخار سے تو انشاء اللہ آرام ہو جائے گا۔مگر اس کے اعضائے رئیسہ اس قدر کمزور ہیں کہ اولاد ہرگز نہ ہو سکے گی۔علاج سے ان کو بخار سے آرام ہو گیا۔میں نے پھر اسسٹنٹ سرجن سردار نرائن سنگھ جو میرے کلاس فیلو تھے۔انہیں بلا کر معائنہ کرایا انہوں نے بھی یہی کہا کہ اولاد نہ ہو سکے گی چونکہ ڈاکٹر عبدالحکیم مرتد نے حضرت مسیح موعود کو اپنے خط میں لکھا I۔: